بمال الغرب القذر تُهدَم الأسر (مترجم)
بمال الغرب القذر تُهدَم الأسر (مترجم)

الخبر: صرحت وزيرة الأسرة والسياسات الاجتماعية زهرة زمروت أنه سينفذ تطبيق توظيف النساء من خلال مشروع خدمات رعاية الطفل المؤسسية: "سوف تستفيد من هذا المشروع الأمهات اللائي يعملن كعامل مؤمن ويرسلن أطفالهن منذ ولادتهم إلى سن 60 شهراً) أي إلى روضة أطفال أو حضانة أو مركز رعاية نهارية تابع لوزارة التعليم. سيتم دعم الأمهات بحوالي 650 ليرة تركية (100 يورو) شهرياً. (وكالة الأناضول 2019/10/13م). ...

0:00 0:00
Speed:
October 22, 2019

بمال الغرب القذر تُهدَم الأسر (مترجم)

بمال الغرب القذر تُهدَم الأسر

(مترجم)

الخبر:

صرحت وزيرة الأسرة والسياسات الاجتماعية زهرة زمروت أنه سينفذ تطبيق توظيف النساء من خلال مشروع خدمات رعاية الطفل المؤسسية: "سوف تستفيد من هذا المشروع الأمهات اللائي يعملن كعامل مؤمن ويرسلن أطفالهن منذ ولادتهم إلى سن 60 شهراً) أي إلى روضة أطفال أو حضانة أو مركز رعاية نهارية تابع لوزارة التعليم. سيتم دعم الأمهات بحوالي 650 ليرة تركية (100 يورو) شهرياً. (وكالة الأناضول 2019/10/13م).

التعليق:

إن الأيديولوجية الرأسمالية، التي تظهر وجهها في جميع النظم الإدارية والاقتصادية والتعليمية والقضائية، لم تترك أي مجال لم تعمل به. هذه الأيديولوجية تهدف إلى نقل هذا الإغواء إلى كل ركن من أركان المجتمع، لم تمتنع عن استخدام حكامها الذين يفتقدون الحكمة من أجل اختراق الأسرة التي يعتبرها المسلمون الأكثر خصوصية.

تتعارض القوانين والخطط والعقود الموقعة والمقتنيات المنفذة وفقاً لرغبات دول الاتحاد الأوروبي بشكل صارخ مع معتقدات المجتمع وقيمه وتقاليده وعاداته. على الرغم من أن هذا هو الحال، فإن إصرار الحكام في السلطة التنفيذية على اتخاذ طريقهم يدفع المجتمع إلى كوارث كبيرة.

تعد تركيا واحدة من أوائل الدول التي وقعت على "اتفاقية مجلس أوروبا بشأن منع ومكافحة العنف المنزلي والعنف ضد المرأة" في عام 2011، والمعروفة باسم اتفاقية إسطنبول. الوزراء والجمعيات النسوية التي يحتل الغرب عقولها، أعدوا القانون رقم 6284 بشأن منع ومكافحة العنف العائلي والعنف ضد المرأة، ولكن بعد سنوات سيتعرفون على نوع الجريمة التي وقعوا عليها.

إن اتفاقية إسطنبول التي تعد أكثر هجمات الغرب انتشاراً على الأسرة المسلمة والقوانين التي تستند إلى ذلك هي في الحقيقة تقسم الأسرة وتشتتها.

على الرغم من أن هذه الاتفاقيات والقوانين تنادي بحماية المرأة والأسرة، ولكن محتواها يشبه الذئب في ثوب الخروف. تقترح اتفاقية إسطنبول ضماناً مع بعض اللوائح لحماية وتعزيز LGBT وانحرافها. هذه حالة تقوض أساسيات المجتمع تحت اسم "تعميم مراعاة المنظور الجنساني".

ينفذ هذا الاضطراب في المجتمع عن طريق وسائل الإعلام والدعاية ويحاول أيضاً تنفيذه على الأطفال من خلال وزارة التعليم. أدى قانون حماية الأسرة رقم 6284 إلى إثارة الدهشة من خلال قياس الرجل على أنه عدو بالإضافة لاستناد القانون على وجوب حماية المرأة من زوجها. يعتبر هذا القانون سبباً كافياً لإبعاد الزوج عن المنزل أو معاقبته بقبول أي ادعاء تؤكده المرأة ضد زوجها. وبالتالي، فإن الملجأ يضمن للمرأة دون أدنى شك وقبل كل شيء، والهدف الرئيسي هنا هو تفريق الأسرة وتدميرها.

من المفهوم أيضاً أن وزارة الأسرة والسياسات الاجتماعية لا تحث على بيان أهمية دفع النفقة التي يتعين على الرجل دفعها مدى الحياة. كما أنها لا تقلق بشأن سجن عشرات الآلاف من الشباب من خلال قبول التشريعات التي تعتبر الزواج دون سن الثامنة عشرة انتهاكاً للقانون. ومع كل هذه السياسات، فالعنف المنزلي لا يقل، ولكنه يزداد يوماً بعد يوم.

يبلغ عدد الأزواج المطلقين في تركيا في العقد الماضي حوالي 1.3 مليون. وفي السنوات الأخيرة مرة أخرى، تجاوز معدل الطلاق بكثير معدل الزواج، من خلال هذه البيانات يمكن بشكل أفضل فهم في أي نوع من الكوارث ابتلينا به.

في هذه الحالة، من الواضح أن القوانين واللوائح المستوردة من الغرب، والتي تتعارض مع معتقدات وقيم المجتمع، لا تحل أي مشكلة ولكنها تزيد المشكلة سوءاً.

علاوة على ذلك، ألا يعد تنظيم الدعم المالي هذا خيانة لمؤسسة الأسرة والمجتمع من خلال التضحية بدور الأم في إطار الرأسمالية؟ من الواضح أن وزارة الأسرة والسياسات الاجتماعية ليست معنية بحماية الأسرة. لو لم يكن الأمر كذلك، لكانوا قد تخلوا عن كل هذه الممارسات الفاشية، ولم يسعوا جاهدين لإخراج النساء من منازلهن، علاوة على ذلك، لما كانت أموال الغرب القذرة تستخدم كرشوة لتفريق الأسرة.

كان الغرب، الذي فقد مؤسسة الأسرة بالكامل، يعتزم إفساد الأسر المسلمة ببعض السياسات المحددة. تُنفَّذ هذه السياسات من أجل جعل النساء سلعة، عن طريق إخراجهن من بيوتهن في ما يسمى بالتحرر والقدرة على الوقوف على أرجلهن.

الطريقة الوحيدة لحماية الأسرة من الرأسمالية تكون فقط من خلال تطبيق الإسلام في كل مجالات الحياة من خلال الحفاظ على الدين والعقل والمال والنفس والجيل (الأسرة) على أساس الرحمة والحب والاحترام.

وبصفتنا مسلمين مؤمنين أن العقيدة الإسلامية توجد في كل مجال من مجالات حياتنا، فإننا مسؤولون عن البحث عن حل في جوانب الإسلام. فتطبيق أمر واحد فقط من تشريع ربنا يكفي لحل المشاكل المتعلقة بالأسرة. قال تعالى: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاء بِمَا فَضَّلَ اللّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُواْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِّلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللّهُ وَاللاَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلاَ تَبْغُواْ عَلَيْهِنَّ سَبِيلاً إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيّاً كَبِيراً﴾.

فنظام الإسلام وحده، هو الذي سينقذ الفرد والأسرة والمجتمع والمسلمين والبشرية من شقاء الرأسمالية وسيحقق السلام والعدالة في العالم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست