بنغلادش واقعة في حلقة مفرغة من المؤامرات والعنف والقمع وقد آن أوان استبدال قيادة مخلصة بالحكام العملاء القوميين في ظل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة
بنغلادش واقعة في حلقة مفرغة من المؤامرات والعنف والقمع وقد آن أوان استبدال قيادة مخلصة بالحكام العملاء القوميين في ظل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

شهد شهر تشرين الثاني/ نوفمبر من هذا العام تزايدًا ملحوظًا غير عادي في مستويات العنف من طغيان الحكومة في بنغلادش. ففي 18 من تشرين الثاني، أصيب طبيب إيطالي يُدعى (الأب بييرو) بجروح بليغة في محاولة اغتيال، وكان هذا الحادث ضمن موجة استهداف للرعايا الأجانب المقيمين في بنغلادش.

0:00 0:00
Speed:
December 07, 2015

بنغلادش واقعة في حلقة مفرغة من المؤامرات والعنف والقمع وقد آن أوان استبدال قيادة مخلصة بالحكام العملاء القوميين في ظل الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

الخبر:

شهد شهر تشرين الثاني/ نوفمبر من هذا العام تزايدًا ملحوظًا غير عادي في مستويات العنف من طغيان الحكومة في بنغلادش. ففي 18 من تشرين الثاني، أصيب طبيب إيطالي يُدعى (الأب بييرو) بجروح بليغة في محاولة اغتيال، وكان هذا الحادث ضمن موجة استهداف للرعايا الأجانب المقيمين في بنغلادش. كما تعرض أيضًا مسجد شيعي في منطقة بوجرا الشمالية الشرقية لهجوم في 27 من تشرين الثاني، قُتل فيه مسلحون مجهولون، وجرح ثلاثة أشخاص بعد هجوم بقنبلة يدوية، وكان هذا الهجوم شبيهًا بالهجوم الذي حصل الشهر الماضي على الشيعة في داكا القديمة، الذي قتل فيه اثنان وجرح أكثر من مائة. ووسط هذه الحالة المضطربة، اعتقلت الحكومة البنغالية عددًا هائلًا من المعارضين السياسيين، وفرضت كذلك حظرًا على مواقع التواصل (مثل الفيسبوك)، وعلى بعض تطبيقات المراسلة عبر الهاتف المحمول، لأسباب أمنية وبذريعة وقف الأعمال الإجرامية.

التعليق:

يتعرض أهل بنغلادش لحالة خنق وإرهاب مستمرة من قبل الحكومة المستبدة من ناحية، ومن ناحية أخرى يتعرضون لمؤامرات متكررة من أمريكا الشريرة لجعل هذا البلد فريسة، بحجة وجود ما يسمى "تنظيم الدولة الإسلامية". وقد أوجدت الشمطاء المستبدة حسينة بيئة من الخوف والترهيب، بحيث لا يتم التسامح مع أي صوت معارض، لا سيما وأنها شنت حربًا شاملة لقمع الإسلام، والتي طالت أسر شباب حزب التحرير والأحزاب الإسلامية الأخرى. وقد شهد هذا الشهر مستوى غير مسبوق من الاعتقالات السياسية من قبل هذا النظام الفاشي، التي أدّت لوقوع كارثة إنسانية داخل السجون في بنغلادش، حيث عجّت السجون بالسجناء، حتى أصبح فيها أربعة أضعاف قدرة استيعابها. لقد كان والد حسينة (الطاغية الشيخ مجيب الرحمن) يسعى للسيطرة على المقاطعات الـ64 من بنغلادش وقمعها، والشمطاء ابنته تسير على خُطاه في محاولتها السيطرة الكاملة على جميع الاتحادات في بنغلادش، والبالغ عددها 4550 اتحادًا. ولهذا فإن أهل بنغلادش لا ينعمون بمتنفس في أي من جنبات الحياة في هذه الأيام، سواء اقتصاديًا أم سياسيًا. فقد تم نهب أكثر من 30 مليار تكا من سوق الأسهم في الأشهر الثلاثة الأخيرة من قبل النخب الحاكمة، في حين يعمل عامة الناس ما بين 18 إلى 20 ساعة في اليوم لتلبية احتياجاتهم الأساسية بسبب ارتفاع أسعار السلع الضرورية. والنظام في بنغلادش يتحكم في جميع أحزاب المعارضة والقنوات الإعلامية بشكل تعسفي، ولا يغض الطرف ولو قليلًا عن أي ناقد ضده، حتى لو كان من المجتمع المدني؛ فقد بلغت سياسة حسينة الشيطانية الشمولية مستوى جديدًا من القمع، من خلال وضع حظر على جميع أنواع وسائل الإعلام ومواقع التواصل؛ على أمل الحد من السخط الشعبي والرأي العام، وفي عالم الإنترنت كذلك. والوزراء والأجهزة ورجال القانون يقولون أنهم يتعقبون الأشخاص الذين يستخدمون الشبكات الخاصة الافتراضية (proxies and VPN) لاستخدام الفيسبوك للتحريض ضد الحكومة، وسيتم اتخاذ إجراءات ضدهم في الوقت المناسب.

إضافة إلى الخوف المتصاعد والقمع السياسي للطاغية حسينة، فإن أهل بنغلادش قلقون أيضًا من المؤامرات الشريرة التي تحوكها أمريكا الشريرة لتوريط هذا البلد في حربها ضد الإسلام، من خلال استهداف الرعايا الأجانب من قبل قتلة مجهولين، والهجوم على مساجد للشيعة لإشعال الفتنة الطائفية، وجميع هذه الأحداث تحصل باسم تنظيم "الدولة الإسلامية". إن المؤامرة الجيوسياسية البشعة ضد بنغلادش أصبحت واضحة للعيان بالنظر إلى التوتر بين حكومة الشيخة حسينة وأمريكا، فوسط ادّعاء الولايات المتحدة المستمر بأن تنظيم "الدولة الإسلامية" هو من يقف وراء هذه الهجمات، قالت الشيخة حسينة للمرة الأولى، في الثامن من تشرين الثاني 2015م، أنها تتعرض "لضغوط هائلة" على حكومتها "للاعتراف" بأن "تنظيم الدولة الإسلامية" يلعب دورًا في عمليات القتل والهجمات الأخيرة في البلاد، وهو إيجاد حالة مشابهة لتلك الموجودة في أفغانستان وباكستان وليبيا والعراق وسوريا.

إن كشف حزب التحرير لهذا الأمر من قبل لم يكن يشق عليه، وإنه من المهم تذكير الأمة أن حالة الشد والجذب بين الولايات المتحدة وبنغلادش، ستكون هي الطرف الخاسر فيها، والمؤامرات الدولية ضد بنغلادش، من قبل الولايات المتحدة، ومن يسمون أنفسهم بالمدافعين عن حقوق الإنسان في العالم، والقمع الوحشي من قبل الطاغية حسينة على أبناء بلدها، كل ذلك يجر البلاد نحو منحدر السقوط في الفوضى والظلام. أيضًا، فإنه لا يعيينا تذكيرنا الدائم بأن نظام الخلافة على منهاج النبوة هو وحده الذي سينقذ بنغلادش من هذا البؤس والذل، ويضع نهاية للتدخل المشين من قبل القوى الإقليمية والعالمية التي ترسم المشهد السياسي في البلاد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عماد الأمين

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست