برامج الابتعاث في بلاد الحرمين تغريب للشخصية الإسلامية ومعاونة للغرب على مخططاته
برامج الابتعاث في بلاد الحرمين تغريب للشخصية الإسلامية ومعاونة للغرب على مخططاته

الخبر:   125 ألف سعودي وسعودية في جامعات أمريكا وجاء في مقدمة الخبر "تقدمت أمريكا دول العالم في استقبال المبتعثين السعوديين ضمن برنامج خادم الحرمين الشريفين للابتعاث الخارجي بنسبة 30% تلتها بريطانيا بنسبة 15% ثم كندا بنسبة 11% فأستراليا بنسبة 8% مسجلة أكثر من (84) ألف مبتعث ومبتعثة في حين بلغ عدد أول بعثة طلابية سعودية إلى أمريكا عام 1947 (30) طالبا التحقوا بالدراسة في جامعة تكساس الأمريكية الحكومية. ويبلغ إجمالي الدارسين السعوديين في الجامعات الأمريكية أكثر من (125 ألفا) من المبتعثين والمبتعثات ومرافقيهم والدارسين على حسابهم الخاص والموظفين المبتعثين للاستفادة من الخبرات العلمية التي تزخر الجامعات العريقة في العالم ومنها التي في أمريكا وتُشرف عليهم الملحقية الثقافية السعودية في أمريكا التي أنشئت منذ أكثر من 60 عاما". (المصدر: الاقتصادية 2016/6/13م)

0:00 0:00
Speed:
June 15, 2016

برامج الابتعاث في بلاد الحرمين تغريب للشخصية الإسلامية ومعاونة للغرب على مخططاته

برامج الابتعاث في بلاد الحرمين

تغريب للشخصية الإسلامية ومعاونة للغرب على مخططاته

الخبر:

125 ألف سعودي وسعودية في جامعات أمريكا

وجاء في مقدمة الخبر "تقدمت أمريكا دول العالم في استقبال المبتعثين السعوديين ضمن برنامج خادم الحرمين الشريفين للابتعاث الخارجي بنسبة 30% تلتها بريطانيا بنسبة 15% ثم كندا بنسبة 11% فأستراليا بنسبة 8% مسجلة أكثر من (84) ألف مبتعث ومبتعثة في حين بلغ عدد أول بعثة طلابية سعودية إلى أمريكا عام 1947 (30) طالبا التحقوا بالدراسة في جامعة تكساس الأمريكية الحكومية. ويبلغ إجمالي الدارسين السعوديين في الجامعات الأمريكية أكثر من (125 ألفا) من المبتعثين والمبتعثات ومرافقيهم والدارسين على حسابهم الخاص والموظفين المبتعثين للاستفادة من الخبرات العلمية التي تزخر الجامعات العريقة في العالم ومنها التي في أمريكا وتُشرف عليهم الملحقية الثقافية السعودية في أمريكا التي أنشئت منذ أكثر من 60 عاما". (المصدر: الاقتصادية 2016/6/13م)

التعليق:

منذ تأسيس الكيان المسمى - بالمملكة العربية السعودية على يد عميل الإنجليز عبد العزيز آل سعود - والعمل على إعادة تشكيل وتغيير المجتمع في بلاد الحرمين يسير على قدم وساق، وقد كانت برامج الابتعاث للتعليم وما يشابهها من برامج العلاج ودورات الانتداب للعمل في الخارج كلها وغيرها من البرامج التي يستغلها الغرب في إعداد شخصيات جديدة تعمل على زرع ثقافات جديدة بين أبناء المسلمين ليكونوا بذلك أدوات ممتازة لخدمة مشاريع الغرب الاستعمارية والحضارية والثقافية.

وقد كان لبرامج الابتعاث للتعليم تحديدا الدور الأكبر في تكوين تلك الشخصيات الجديدة والتي تقوم بدور هدام في نفسية وشخصية وثقافة بلاد الحرمين مثلها في ذلك مثل الشخصيات التي قامت ضد الدولة العثمانية وعملت على إسقاطها من داخلها وقدمت بذلك الخدمة الأكبر للكافر المستعمر وسهلت عليه عملية الاحتلال.

في عهد الملك السابق عبد الله زاد التركيز على موضوع الابتعاثات للخارج عامة وإلى أمريكا خاصة حتى وصلت إلى أرقام عالية جدا وتكاليف مضاعفة خرافية حتى صار الموضوع واضحا لكل متابع ومدقق، جاء في صحيفة المدينة بتاريخ 2015/9/3م خبر عنوانه "الابتعاث إلى أمريكا.. من 9 طلاب بالخمسينات إلى 125 ألفاً في 2015" يلاحظ أن العدد المذكور في الخبر السابق وتاريخه أكثر من سنة من الآن وأن العدد المذكور في الخبر لهذه السنة هو نفسه (125 ألف مبتعث في أمريكا) وذلك بالرغم من تتابع أوامر الابتعاث بين الحين والآخر وقد كان آخرها قبل يومين بحسب ما جاء في العربية تحت عنوان "الملك سلمان يوجه بإلحاق 2628 طالبا بأمريكا لـ"الابتعاث"" بتاريخ 2016/6/14م وهو أمر يدعو إلى التساؤل هل الأعداد هذه حقيقية أم أن الأعداد أكبر من ذلك بكثير؟!.

إن العدد الحقيقي بحد ذاته ليس ذا أهمية بالغة ولكن الكارثة تكمن في طبيعة الشخصيات الجديدة التي تعود إلى بلاد الحرمين بعد الابتعاث، فالجيل الحالي في بلاد الحرمين من الذين يخرجون إلى الابتعاث في أوروبا وأمريكا أصبح يعود منهم من يدخل علينا بثقافات جديدة مثل موسيقى الهيب هوب وشخصيات إعلامية تعمل على إيجاد صناعة السينما والأفلام في بلاد الحرمين وشخصيات أخرى تعمل للحصول على أضواء الشهرة والتأثير في الرأي العام عبر وسائل التواصل على الإنترنت من مثل إنستجرام ويوتيوب وسناب شات فتزرع في المجتمع كل سخافة وانحطاط بل إنه وللأسف فيهم من عاد بفكر إلحادي منسلخ تماما عن الدين الإسلامي وشخصيته.

كل هذه الكوارث غطاها آل سعود بحجة التطور العلمي والتواصل مع الحضارات والأديان الأخرى وغيرها من الخدع الواهية التي ما وضعوها إلا لكي يغطوا هدفهم الأساسي في ذلك كله ألا وهو تغريب الهوية وخدمة الغرب في مصالحه. جاء في مقالة كتبها تركي الفيصل في معرض رده على أوباما في مقالة عنوانها "لا يا سيد أوباما" الشرق الأوسط 2016/3/14م جاء من ضمن ما ذكره به أمير آل سعود فقال "نحن من يبتعث آلاف الطلبة إلى جامعات بلادك، وبتكلفة عالية، لكي ينالوا من العلم والمعرفة. نحن من يستضيف أكثر من ثلاثين ألف مواطن أمريكي، وبأجور مرتفعة، لكي يعملوا بخبرتهم في شركاتنا وصناعاتنا".

في عهد سلمان بن عبد العزيز العميل الأمريكي الأقوى، يأتي التركيز على موضوع الابتعاث إلى أمريكا أكثر وأكثر، فبرامج الابتعاث هذه تأتي من ناحية أخرى خدمة مادية، يقوم حكام آل سعود من خلالها بدفع المبالغ الداعمة للاقتصاد الأمريكي فتزيد من عمر دولته بعض الشيء فيستقوي أكثر وأكثر على أفراد الأمة الإسلامية وشعوبها.

إن الدولة التي تملك سلطانها بنفسها وتمسك بزمام أمرها كله وليس للكافرين عليها سبيل، ليست بحاجة لأن ترسل رعاياها لكي يتعلموا ثقافات ومفاهيم وحضارات جديدة، إن الدولة الإسلامية يوم كانت عزيزة قوية كان يأتيها طلاب العلم من كل مكان على وجه المعموة وهي نفسها التي كانت تقود العالم في مختلف المجالات الحضارية والعلمية والمعرفية.

إن دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي وعدنا بها رسول الله e، هي وحدها القادرة على قطع يد المستعمرين عن مقدرات وعقول أفراد وجماعات الأمة الإسلامية، وهي وحدها القادرة على وضع المبدأ الإسلامي قاعدة أساسية لجميع نواحي الحياة ومنها على وجه الخصوص الناحية التعليمية والتثقيفية لأفراد الأمة وجماعاتها وذلك من خلال سياسة شرعية تشمل جميع النواحي ومناهج تعليمية إسلامية في مختلف مراحل التعليم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ماجد الصالح – بلاد الحرمين الشريف

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست