برلمان قرغيزستان يقترح إنشاء برنامج لحماية حقوق أطفال المهاجرين
برلمان قرغيزستان يقترح إنشاء برنامج لحماية حقوق أطفال المهاجرين

الخبر: اقترح المجلس الأعلى في قرغيزستان إنشاء برنامج وطني لحماية حقوق أطفال العمال المهاجرين. فقد قدم النائب بالباك تولوبوف هذه المبادرة في جلسة برلمانية تمت يوم 8 حزيران/يونيو. وبحسب الخدمة الصحفية للمجلس الأعلى، فقد قال ذلك خلال جلسة الاستماع لتقرير أمين المظالم حول مراعاة حقوق الإنسان والحقوق المدنية والحريات في قرغيزستان في 2019-2021. وفقاً لوزارة المحنة والتنمية الاجتماعية والهجرة في قرغيزستان، تؤثر الهجرة على حياة 3 ملايين شخص في البلاد. تم تقديم هذه الأرقام في 7 حزيران/يونيو من طرف رئيس القسم خودويبرجين بازارباييف. وأشار إلى أن كل أسرة معيشية رابعة في قرغيزستان لديها عامل مهاجر واحد على الأقل، وأنه منذ عام 2014، قد تجاوز عدد النساء المهاجرات عدد الرجال بشكل كبير.

0:00 0:00
Speed:
July 02, 2022

برلمان قرغيزستان يقترح إنشاء برنامج لحماية حقوق أطفال المهاجرين

برلمان قرغيزستان يقترح إنشاء برنامج لحماية حقوق أطفال المهاجرين

الخبر:

اقترح المجلس الأعلى في قرغيزستان إنشاء برنامج وطني لحماية حقوق أطفال العمال المهاجرين. فقد قدم النائب بالباك تولوبوف هذه المبادرة في جلسة برلمانية تمت يوم 8 حزيران/يونيو. وبحسب الخدمة الصحفية للمجلس الأعلى، فقد قال ذلك خلال جلسة الاستماع لتقرير أمين المظالم حول مراعاة حقوق الإنسان والحقوق المدنية والحريات في قرغيزستان في 2019-2021. وفقاً لوزارة المحنة والتنمية الاجتماعية والهجرة في قرغيزستان، تؤثر الهجرة على حياة 3 ملايين شخص في البلاد. تم تقديم هذه الأرقام في 7 حزيران/يونيو من طرف رئيس القسم خودويبرجين بازارباييف. وأشار إلى أن كل أسرة معيشية رابعة في قرغيزستان لديها عامل مهاجر واحد على الأقل، وأنه منذ عام 2014، قد تجاوز عدد النساء المهاجرات عدد الرجال بشكل كبير.

في نهاية شهر أيار/مايو، تم طرح برنامج حماية الطفل لمجلس وزراء قرغيزستان للفترة 2022-2026 للمناقشة العامة. وتنص المذكرة الموضوعية للمشروع على أن أكثر من 150.000 قاصر في قرغيزستان هم من أبناء العمال المهاجرين.

بحلول نهاية عام 2020، تم التعرف على أن 85459 طفلاً هم ممن هاجر آباؤهم. حصلت هذه المعلومات عن طريق الإحصاء الشامل لكل المنازل. وقالت وزيرة المحنة والتنمية الاجتماعية آنذاك، أليزا سولتونبيكوفا، إن 69530 طفلاً كان لديهم آباء هاجروا إلى الخارج و15929 طفلاً هاجر آباؤهم في داخل البلد. في الوقت نفسه، يعيش 3816 طفلاً مع غرباء وليس مع أقاربهم.

التعليق:

صارت مشكلة هجرة العمالة أحد أهم المشاكل في قرغيزستان منذ سنوات عديدة، إذ يضطر أكثر من 13% من أهلها إلى مغادرتها لكسب المال. ونتيجة لذلك، تحرم العديد من العائلات من هناءة الحياة العائلية، والآباء لا يستطيعون أن يروا أطفالهم لسنوات، ولا يتمكن الأطفال من الشعور بالدفء الأبوي، وحتى في بعض العائلات يتزايد عدد الأطفال الذين ينمون دون رعاية أبوية يوما بعد يوم؛ إنهم مجبرون على ترك أطفالهم القاصرين والذهاب إلى بلدان أخرى لتلبية احتياجاتهم الأساسية مثل الطعام والملابس والمأوى ولانتشالهم من الفقر. في كثير من الأحيان، يترك المهاجرون أطفالهم مع أجدادهم أو جيرانهم بل في دار للأيتام إن اقتضى الأمر.

بسبب غياب الوالدين، يعاني الأطفال من الاضطرابات النفسية، والاكتئاب الحاد. ومن بين الأطفال الذين تركوا دون إشراف الوالدين، سجلت حالات ارتكاب الجرائم بسبب الفقر عدة مرات.

تتميز قرغيزستان عن غيرها من دول آسيا الوسطى بجمالها الطبيعي ومياهها الصافية وهوائها النقي وجبالها المغطاة بأشجار التنوب الرائعة. كل شيء ينبت هنا بسبب الطقس ووفرة التربة الخصبة والمياه. يمكن العثور هنا على جميع المواد الكيميائية الموجودة في جدول مندليف.

تعود مشكلة العمالة المهاجرة إلى البطالة التي حصلت بسبب الاستغلال غير السليم وغير الفعال للموارد الطبيعية في البلاد. يعتمد اقتصاد البلاد على الزراعة وتربية الحيوانات. ولا يخفى على أحد أن البلدان التي لا تعتمد على الصناعات الخفيفة والثقيلة، بل فقط على الزراعة، تعيش في الفقر.

لقد اعتاد الناس على حل مشاكلهم بأنفسهم دون تدخل الحكومة ولا يتوقعون أي مساعدة من الدولة. يعتمد ثلث اقتصاد البلاد على تحويلات العمال المهاجرين. إنهم يجلبون 2.5 مليار دولار سنوياً للبلاد.

يصف الخبراء أطفال العمال المهاجرين بأنهم "جيل ضائع". وذلك لأن غالبية الأحداث في المجتمع هم من أبناء العمال المهاجرين الذين يرتكبون جرائم ويحرمون من التعليم ويواجهون عقبات كبيرة في الحصول على الرعاية الطبية.

في غضون ذلك، لا تتعدى الحكومة المناقشات في البرلمانات لمعالجة قضية أطفال العمال المهاجرين.

هذا الجرح المؤلم للمجتمع لن يشفى أبداً إلاّ بإعادة دولة الخلافة في حياتنا، التي تحكم بأحكام الشريعة التي أنزلها الله.

يا مسلمي قرغيزستان: كم سنة عشتم في ظل هذه الدولة الديمقراطية؟ هل ما زلتم تعتقدون أنها ستحل مشاكلكم من الفقر والبطالة والعيش في الغربة لكسب قطعة الخبز التي يرثها الأبناء؟!

إنّه في الوقت الذي يُجبر فيه أطفالكم على قضاء طفولتهم في الفقر، دون أن يشبعوا من حضن آبائهم، يعيش أبناء الحكام والنواب والمسؤولين حياة مزدهرة ومرتاحة في الثراء.

لكن دولة الخلافة لا تخدع الأمة بكلمات فارغات ولا تملأ جيبها بالجوز الفارغ، بل تنفق المال كما أمر الله وتؤدي واجباتها خشية من الله، من توفير الوظائف، وتلبية الحاجات الأساسية لمن لا يستطيع العمل.

في الحقيقة، يوجد في قرغيزستان العديد من الشباب الموهوبين والمتحمسين والمبدعين. وعندما تتم تهيئة الظروف المناسبة لهم، فإنهم سيُحَوِّلون بلدهم على الفور إلى بلد مزدهر ومتقدم. وبدلاً من العمل في أكثر الوظائف الشاقة في دول الكفر، يصبحون أغنى الناس في بلدهم. هذا ليس خيالاً، ولكنه وعد الله حقا. وينصر الله من ينصر دينه كما وعد، قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ﴾.

أما نصرة الله فتُقام بإحياء أحكامه، والانضمام إلى الجماعة التي تعمل لإقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة التي هي تاج الفروض. ولا يمكن إقامة الفرائض الأخرى، مثل إعالة الأسرة، وتربية الأبناء تربية إسلامية، وإعطاء المحبة الأبوية، إلا بعد أداء هذه الفريضة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مخلصة الأوزبيكية

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست