بريطانيا بلاد غريبة حيث الأغبياء يصدقون أمورا غبية، ويتمّ تخويف الأذكياء حتى يذعنوا لهم (مترجم)
بريطانيا بلاد غريبة حيث الأغبياء يصدقون أمورا غبية، ويتمّ تخويف الأذكياء حتى يذعنوا لهم (مترجم)

الخبر:   جاء في عنوان مقال رأي لصحيفة الغارديان في 16 شباط/فبراير 2024، بقلم غابي هينسليف، ما يلي: "تعلّم هذا من كارثة روتشديل: يواجه المجتمع خطراً عندما يصدق الأشخاص الأذكياء أشياء غبية".

0:00 0:00
Speed:
February 18, 2024

بريطانيا بلاد غريبة حيث الأغبياء يصدقون أمورا غبية، ويتمّ تخويف الأذكياء حتى يذعنوا لهم (مترجم)

بريطانيا بلاد غريبة حيث الأغبياء يصدقون أمورا غبية، ويتمّ تخويف الأذكياء حتى يذعنوا لهم

(مترجم)

الخبر:

جاء في عنوان مقال رأي لصحيفة الغارديان في 16 شباط/فبراير 2024، بقلم غابي هينسليف، ما يلي: "تعلّم هذا من كارثة روتشديل: يواجه المجتمع خطراً عندما يصدق الأشخاص الأذكياء أشياء غبية".

التعليق:

كم هو صحيح أنّ المجتمع يواجه خطراً عندما يصدق الأذكياء أشياء غبية، لكن في مثل هذه الحالات على الأقل، قد يرى الأذكياء الحقيقة ويغيرون رأيهم. الخطر الأكبر هو عندما يصدق الأغبياء أشياء غبية ويتم تخويف الأذكياء لإجبارهم على الإذعان لها، وهذا هو ما يحدث في المملكة المتحدة حيث يتمّ القضاء على أي انتقاد للتّدمير والمذابح التي يتعرّض لها المدنيون في غزّة بعنف من جانب محاكم التفتيش. لأيام عدة، كانت وسائل الإعلام البريطانية مهووسة بالمرشّح المسلم عن حزب العمال للانتخابات، السيد أزهر علي، الذي سُمع في مناقشة خاصّة مسرّبة مع زملائه أعضاء حزبه وهو يقول: "يقول المصريون إنهم حذّروا (إسرائيل) قبل 10 أيام... لقد حذّرهم الأمريكيون قبل يوم واحد من... أن هناك شيئاً ما يحدث. لقد تعمّدوا نزع الأمن، وسمحوا… بتلك المذبحة التي أعطتهم الضّوء الأخضر ليفعلوا ما يريدون".

لقد أدلى السيد علي بهذه التعليقات بعد فترة وجيزة من السابع من تشرين الأول/أكتوبر 2023، عندما أُذهل العالم، وخاصةً بلاد المسلمين، بحجم وسرعة انهيار قوات كيان يهود في غلاف غزة. لقد تحطمت أسطورة الكيان الذي لا يقهر في لحظة، ووجد الكثيرون صعوبة في تصديق أنّ كيان يهود لم يكن على علم بالهجوم الوشيك من غزة. كملاحظة جانبية، كان جيش كيان يهود في حاجة مرتين فقط في تاريخه للدفاع فعلياً عن الكيان، وفشل مرتين فقط. لقد اعتمد كيان يهود على الأنظمة العربية المجاورة للدفاع عنه، حتى يتمكن من التركيز على إخضاع الفلسطينيين، وعلى دوره الخبيث كمعسكر تلقين جماعي لشبابه. في جو مختلط من الصداقة الحميمة بين الجنسين، ويطلُّ على "الآخر" المجرد من إنسانيته، يمتص الشباب اليهود سريعو التأثر الخيال الاستعماري الأسطوري للصهيونية السياسية المتمحورة حول الذات ويشاركون في مغامرة الاحتلال الاستعماري العنيف لحياة الفلسطينيين، بحيث يكون رفض الصهيونية السياسية بعد ذلك رفضا مؤلما للذات. القلة التي تفشل في تشرب هذا التلقين، تشعر بالخجل وتتضرّر عاطفياً من التجربة، وفقاً لشهادات جنود سابقين في جيش كيان يهود. لقد انتقد الكثيرون هذه الثقافة الاستعمارية دون تمنّي أي ضرر لليهود.

إنّ الشيء المذهل في وسائل الإعلام في المملكة المتحدة ومؤسّستها السياسية هو الطّريقة التي لا تتخذ بها مثل هذا الموقف غير العادل والأحادي فحسب، بل تقوم أيضاً بتطهير كل المعارضة بلا رحمة. على سبيل المثال، طرد حزب العمال المئات من أعضائه بتهمة معاداة السّامية، وحتى زعيمه السابق جيريمي كوربين وقع ضحية لعملية التطهير، وتمّ إرسال آلاف آخرين لإعادة التعليم القسري في الأشهر التي تلت ذلك. على الرّغم من كل "إعادة التثقيف" هذه، لدينا الآن المزيد من الأعضاء الذين يعاقبون بسبب التعبير عن "أفكار خاطئة". من المثير للدهشة أن اليهود كانوا أكثر عرضة للاتهام بمعاداة السامية بخمس مرات مقارنة بغير اليهود، وفقاً لتقرير صادر عن منظمة الصوت اليهودي من أجل العمل، الذي قدم إلى لجنة المساواة وحقوق الإنسان في عام 2021، وهو ما يجب أن يجعل أي شخص ذكي يشكك في العقيدة السائدة. ومع أعمال الإبادة الجماعية التي ارتكبها جيش كيان يهود في غزة، تزايدت الانتقادات الموجهة إلى الكيان، وبدأت عمليات التطهير لمعادي السامية مرةً أخرى. لقد تمت معاقبة السياسيين، والأطباء وغيرهم من المهنيين الذين استهدفوا بالطرد من وظائفهم، وتعرض الأشخاص الذين يرتدون ملابس فولكلورية فلسطينية أو يطالبون بحرية فلسطين للتهديد. كل هذا لأنه، أولاً، تمت إعادة تعريف معاداة السامية بشكل شاذ على أنها تعني انتقاد (إسرائيل)، وثانياً، أصبحت المملكة المتحدة دولة بوليسية حيث تحدّد جماعات الضغط وأصحاب المليارات من وسائل الإعلام ما يجب أن يفكر فيه الناس، وتكتب جيوش الببغاوات مقالات تندب أولئك الذين ينحرفون عن المعتقدات الجديدة.

أشارت غابي هينسليف إلى نقطة مثيرة للاهتمام في مقال رأيها في صحيفة الغارديان، حيث قالت: "إن السمة المميزة للتفكير التآمري هي قناعة شبه دينية بأن لا شيء يحدث أبداً عن طريق الصدفة، بل فقط عن طريق تصميم كبير، وأن الأشخاص فقط هم الساذجون لدرجة أنهم لا يعرفون كيف يعيش العالم حقاً" يمكن للأعمال أن تُدار بطريقة أخرى. وعندما يتمّ تحديهم، يعود المؤمنون بسخط إلى تلك الحقيقة الأصلية، قبل أن يصرّوا على أنه يحق لهم بصوت عالٍ استخلاص أي استنتاجات يريدونها منها. إنها تدعو الناس إلى "تحدي الأشياء الخطيرة عندما يسمعونها وبالتالي وضع المعايير الاجتماعية"، ولكن لا يمكن لأحد أن يتحدّى أي شيء بعد الآن في المملكة المتحدة لأن "الأعراف الاجتماعية" قد تمّ وضعها في الحجر، وعلى الرغم من ذلك، للأسف، السيد علي تم التنمر عليه للتراجع عن آرائه، وقد تمّت معاقبته على أي حال.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله روبين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست