بريطانيا خططت بشكل سيئ لانتقالها إلى مصادر الطاقة المتجددة
بريطانيا خططت بشكل سيئ لانتقالها إلى مصادر الطاقة المتجددة

الخبر:   استبعدت الحكومة البريطانية دفع كبار الموردين لمواجهة العملاء الذين خلّفهم انهيار منافسين أصغر بعد أن حصدت أزمة الغاز أكبر خسائر في وقت سابق هذا الأسبوع. عقد أكبر موردي الطاقة في المملكة المتحدة اجتماعات مع Kwarteng منذ عطلة نهاية الأسبوع لمناقشة الخطط لمساعدة سوق التوريد على مواجهة الارتفاع القياسي للغاز، ومن المفهوم أن البعض دعا إلى قروض حكومية رخيصة للمساعدة في تحمل تكلفة قبول العملاء من المنافسين المعسرين. ...

0:00 0:00
Speed:
September 29, 2021

بريطانيا خططت بشكل سيئ لانتقالها إلى مصادر الطاقة المتجددة

بريطانيا خططت بشكل سيئ لانتقالها إلى مصادر الطاقة المتجددة

(مترجم)

الخبر:

استبعدت الحكومة البريطانية دفع كبار الموردين لمواجهة العملاء الذين خلّفهم انهيار منافسين أصغر بعد أن حصدت أزمة الغاز أكبر خسائر في وقت سابق هذا الأسبوع.

عقد أكبر موردي الطاقة في المملكة المتحدة اجتماعات مع Kwarteng منذ عطلة نهاية الأسبوع لمناقشة الخطط لمساعدة سوق التوريد على مواجهة الارتفاع القياسي للغاز، ومن المفهوم أن البعض دعا إلى قروض حكومية رخيصة للمساعدة في تحمل تكلفة قبول العملاء من المنافسين المعسرين.

لقد تعرض سبعة من الموردين الصغار للإفلاس في ما يزيد قليلاً عن ستة أسابيع، وقد تفقد ملايين الأسر مورديها للطاقة بحلول نهاية فصل الشتاء؛ ما يوفر فرصة نمو لعمالقة التوريد الحاليين بعد سنوات من خسارة العملاء أمام العلامات التجارية المنافسة الأصغر.

تواصل الحكومة الاعتماد على عملية حالية تحاول فيها مجموعات الطاقة أن تصبح "مورد الملاذ الأخير" عندما يخرج أحد المنافسين عن العمل، على الرغم من المخاوف من أن أسعار الغاز المرتفعة قد تجعل الحصول على عملاء جدد مكلفاً للغاية قريباً مع مساعدة مالية من الحكومة.

ومع ذلك، يتزايد القلق من أنه في حالة وصول عدد العملاء غير المربحين دون مورد إلى الكتلة الحرجة، فقد يرفض الموردون المتبقون قبولهم.

أدى الافتقار إلى سعة تخزين الغاز إلى دفع المملكة المتحدة لأسعار جملة أعلى بكثير في المزادات اليومية مقارنة بالدول الأوروبية الأخرى، التي تمكنت من تكوين احتياطيات خلال الأشهر الأخيرة. بدلاً من تخزين الغاز، اعتمدت المملكة المتحدة بشكل متزايد على "نموذج في الوقت المناسب" للإمداد.

أغلقت سنتريكا، المالكة المخصخصة لشركة بريتيش غاز، موقع تخزين رئيسياً تم بناؤه تحت قاع البحر على طول ساحل يوركشاير في عام 2017 بعد أن رفض الوزراء طلبات الإعانات للمساعدة في صيانة المنشأة. تغطي المواقع المتبقية جزءاً بسيطاً من الطلب السنوي. وقال كلايف موفات، مستشار الغاز والمستشار السابق للحكومة في مجال أمن الطاقة، إنه حذر من أن إغلاقها قرار خطير. وقال: "لقد رفضوا الاستماع وظلوا يقولون إن لدينا تنوعاً في الإمداد: لقد أساءوا فهم استجابة الغاز الطبيعي المسال للصدمات قصيرة الأجل". "نحن الآن ضعفاء للغاية وأخشى أن يزداد الوضع سوءاً. يمكن أن تذهب الأسعار لتصبح أعلى من السقف. لا يمكنك الاعتماد على الموصلات البينية.

يمكن إلغاء العقود ويمكن للموردين إعلان القوة القاهرة: نهاية القصة". وأوضح موفات أن هذا الأمر واضح للغاية خلال المفاوضات بشأن خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي.

وارتفعت أسعار الغاز على مستوى العالم بعد شتاء طويل استُنفدت فيه مخازن الغاز في جميع أنحاء أوروبا وآسيا بشدة. ولا تزال مستويات التخزين أقل بكثير من المتوسط ​​، وتباطأت واردات الغاز إلى أوروبا من النرويج وروسيا والشرق الأوسط.

وفي المملكة المتحدة، أدى ارتفاع أسعار الغاز أيضاً إلى أسعار قياسية في سوق الكهرباء لأن المملكة المتحدة تعتمد على محطات الطاقة التي تعمل بالغاز لتوليد ما يقرب من نصف الكهرباء. أدت سرعات الرياح المنخفضة إلى خفض توليد الطاقة المتجددة في المملكة المتحدة، وأدت سلسلة من الانقطاعات في محطات الطاقة في المملكة المتحدة وكابل رئيسي يربط المملكة المتحدة بفرنسا إلى ارتفاع أسعار السوق. (صحيفتا الغارديان والتليجراف)

التعليق:

إن الحكومة البريطانية غير مستعدة بشكل مؤسف للتيار المستمر من الأزمات التي تواجهها أسبوعاً بعد أسبوع. وقد اعترفوا بأن بعض أفقر الأسر تواجه شتاءً صعباً حيث ترتفع تكلفة الفواتير في الوقت نفسه الذي يتم فيه خفض الإعانات. وتشير التقديرات إلى أن حوالي 15 مليون أسرة ستشهد زيادة فواتير الطاقة بنحو 180 جنيهاً إسترلينياً. كان الحصول على خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي هو الشغل الشاغل للحكومة، يليه الوباء العالمي، الذي على ما يبدو صرف انتباههم عن التخطيط لأزمة إمدادات الغاز الأوروبية المتزايدة ومعالجتها تماماً كما كانوا غير مستعدين لمواجهة فيروس كورونا، مثلما كانوا مستعدين لتأثيرات خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي على سائقي الشاحنات، لذلك يبدو أنهم على وشك الانتقال إلى مصادر الطاقة المتجددة. في الواقع، تدخل بريطانيا فصل الشتاء بأقل من 2 في المائة من سعة احتياطي الغاز بينما يجب أن تكون 20 في المائة على الأقل.

تم التعاقد على إسناد الأمر إلى إمدادات الغاز مع أوروبا، والتي تواجه أيضاً ضغطاً في الإمداد الخاص بها، لذلك من غير المرجح أن ترى بريطانيا الكثير من حسن النية من هناك، خاصة في جو ما بعد خروجها من الاتحاد الأوروبي وفي أعقاب صفقة الغواصات النووية الأمريكية البريطانية والأسترالية، الأمر الذي أثار حفيظة فرنسا. تزود روسيا أربعين في المائة من الغاز الأوروبي، بينما خفضت إمداداتها بشكل كبير هذا العام.

ستعتمد بريطانيا على الغاز لفترة طويلة على الرغم من تحولها إلى مصادر الطاقة المتجددة، والتي هي بطبيعتها متقطعة. حقيقة أن بريطانيا قد استعانت بمصادر خارجية لتخزين الغاز للآخرين الذين يواجهون أنفسهم نقصاً يعني أن مخاوفهم المتعلقة بأمن الطاقة ستأتي قبل تزويد المملكة المتحدة، ما يعرض أمنها للخطر.

التزمت بريطانيا خلال العقد المقبل بتقليل الطاقة النووية، واستبدال السيارات الكهربائية بالسيارات التي تعمل بالوقود، والانتقال حصرياً إلى الكهرباء لتدفئة المنازل، لذلك يتوقع المرء أن تكون هناك زيادة في تخزين الغاز وتنويع الإمدادات.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يحيى نسبت

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في بريطانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست