بريطانيا تجمع فصائلها في الجنوب رداً على فرض أمريكا الحوثيين نداً مساوياً لحكومة رشاد العليمي
بريطانيا تجمع فصائلها في الجنوب رداً على فرض أمريكا الحوثيين نداً مساوياً لحكومة رشاد العليمي

الخبر:   المجلس الانتقالي الجنوبي يعيد تشكيل قياداته ويؤكد سعيه لانفصال الجنوب (وكالات، 8 آيار/مايو 2023م)

0:00 0:00
Speed:
May 12, 2023

بريطانيا تجمع فصائلها في الجنوب رداً على فرض أمريكا الحوثيين نداً مساوياً لحكومة رشاد العليمي

بريطانيا تجمع فصائلها في الجنوب

رداً على فرض أمريكا الحوثيين نداً مساوياً لحكومة رشاد العليمي

الخبر:

المجلس الانتقالي الجنوبي يعيد تشكيل قياداته ويؤكد سعيه لانفصال الجنوب (وكالات، 8 آيار/مايو 2023م)

التعليق:

كانت السعودية الشهر الماضي قد أعلنت عن نتائج تفاهماتها المباشرة مع الحوثيين، وكانت قد أرسلت وفدا إلى صنعاء وأخذت موافقة الحوثيين على مسودة الاتفاق مع حكومة رشاد العليمي، الذي جمعته السعودية مع باقي أعضاء المجلس الرئاسي في الرياض، إلا أن تلك التجمعات والوفود لم تسفر عن شيء، وكانت تسريبات إعلامية نقلت أن الاتفاق ينص على رفع الحصار وفتح المنافذ والمطارات ودفع المرتبات للحوثيين مقابل توقيع اتفاق سلام مع الحكومة اليمنية، ما يعني أن الاتفاق جاء لتلبية مطالب الحوثيين والاعتراف بهم نداً مساوياً للحكومة اليمنية وترحيل قضية انفصال الجنوب إلى محادثات الشكل النهائي للدولة. وهذا على ما يبدو لم يرضِ الأطراف التابعة للإنجليز (وهي حكومة العليمي، والمجلس الانتقالي الجنوبي) لذلك لم تسفر المحاولة الأمريكية عن شيء ملموس رغم الزخم السعودي لتلك المحاولة ومباركة إيران لها، إلا أن الجانب الإنجليزي لم يوافق عليها رغم الضغوط السعودية على رشاد العليمي ومجلسه ومحاولة المبعوث الأممي في الضغط على الحكومة اليمنية بقبول المسودة السعودية إذ دعا الحكومة "إلى تقديم تنازلات" للوصول إلى اتفاق، لهذا لجأ الإنجليز إلى تجميع الفصائل الجنوبية التي كانت في وقت سابق مناوئة للمجلس الانتقالي الجنوبي، وجمعتهم اليوم في عدن للإعلان عن انضمامهم إلى المجلس الانتقالي الجنوبي في محاولة لتوسيع قاعدته الجماهيرية، لتجد السعودية صعوبة في الضغط على رشاد العليمي لتوقيع اتفاق سلام مع الحوثيين، بينما القاعدة الجماهيرية الجنوبية لا توافق على ذلك، وقد ظهر ذلك لافتاً في البيان الذي أعلنه المجلس الانتقالي الجنوبي عقب مشاوراته وضمه لمعظم الجنوبية، إذ جاء فيه "... نشدد على تمثيل الجنوب وقضيته في التسوية الأممية، ويكون في إطار مستقل تكون قضية الجنوب أولوية في الحل وفق "مفاوضات ندية ثنائية شمال وجنوب" والتفاوض يكون في دولة خارجية" وهذا يعني رغبة الإنجليز في أن يدخل الحوثيون مفاوضات السلام النهائي ضد مكونين هما الحكومة الشرعية والمجلس الانتقالي الجنوبي، وبهذا يضمنون سيطرة أكبر على النفوذ والثروة في البلاد.

يا أهل اليمن: إن حكومة العليمي غير جادة في وقف الحرب ونزيف الدم في البلاد وهي متمسكة بخدمة أسيادها الإنجليز الذين لا يرغبون في التخلي عن عدن التي استعمروها لأكثر من قرن من الزمان وعندما غادروها شكلياً حرصوا على إيجاد حكومات وأحزاب تابعة لهم لحماية مصالحهم فيها، وها هي بريطانيا تستخدمهم اليوم كما تستخدم محميتها الإمارات في تنفيذ مخططاتها في عدن.

إن الحوثيين لا يملكون مشروعاً خاصاً بهم كما يدعون "المسيرة القرآنية" بل هم أبعد ما يكونون عن القرآن الذي يشدد على حرمة دماء المسلمين، وهم يسفكونها ليل نهار، ويشدد على عدم الولاء لأعداء الأمة وهم يستندون على الاعتراف الأممي والسند الأمريكي لهم - رغم الشعارات الخاوية من معناها - ويشدد القرآن على حتمية الحكم بما أنزل الله، بينما لم يحكم الحوثيون طوال ثماني سنوات حكمهم إلا بنظام الهالك علي عبد الله صالح نفسه، أي نظام جمهوري ونظام اقتصادي رأسمالي وحكم طائفي يقتل أو يسجن كل من يخالفه.

يا أهل الجنوب: إن المجلس الانتقالي لا يعمل جدياً لانفصال الجنوب وإلا كانت الفرصة مواتية له منذ سنين وهو يسيطر على عاصمة الجنوب والمحافظات الجنوبية ولم يعلن دولته المزعومة، إنه جاء من عباءة الدولة اليمنية نفسها كما قال ذلك القيادي في الحراك الجنوبي فادي باعوم، والذي انضم اليوم إلى المجلس الانتقالي ذاته الذي كان يهاجمه! إن المجلس الانتقالي أنشأته الإمارات محمية بريطانيا كي يكون له مقعد في التفاوض على الحل النهائي مع الحوثيين، كي يضمن الإنجليز حصةً أكبر في ثرواتكم، فقد حكمت تلك القيادات الجنوبية الجنوب ردهاً طويلا من الزمن ولم يرَ أهل الجنوب منها إلا الحروب والدم والدمار ولا زالوا يتقاتلون فيما بينهم إلى اليوم ولم يوجهوا بندقيتهم إلى الحوثيين أو "الشماليين" كما يزعمون بل إنهم رحبوا بعدو "الجنوب" طارق صالح في عدن واحتضنوه وفتحوا له المعسكرات لأن الإنجليز يعدون له ولابن عمه أحمد علي عبد الله صالح دورا في مستقبل البلاد، فهل أنتم واعون؟!

يا أهل اليمن: إن الحل يقتضي أولا الانفضاض عن تلك القيادات الخائنة العميلة جميعها في الشمال وفي الجنوب فهي لا تعمل لمصلحة البلاد وأهل البلاد بل تعمل من أجل مصالح أسيادها مقابل فتات يتساقط إليهم من مؤيديهم، ثم إنهم جميعهم لا يحملون راية الإسلام والحكم بما أنزل الله ووقف سفك الدماء والحفاظ على الدين والعرض والثروة، بل ينكلون بأهل اليمن أيما تنكيل، حتى أذلوا الناس وهجروهم إلى خارج البلاد أو إلى مخيمات اللاجئين.

يا أهل اليمن: إن الفرصة مواتيةً أمامكم اليوم لنصرة العاملين لإعادة الحكم بما أنزل الله في خلافة راشدة على منهاج النبوة، كان ﷺ قد بشّر بعودتها في هذا الزمان «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ» رواه أحمد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. عبد الله باذيب – ولاية اليمن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست