برز الثعلبُ يوماً
برز الثعلبُ يوماً

الخبر:   ردت المحكمة العليا في بومباي، الهند يوم الاثنين التماساً قدمه خمسة أشخاص يتحدون فيه الشرعية الدستورية وصحة قانون المرأة المسلمة (حماية حقوق الزواج) لعام 2018، الذي نُشر في 18 أيلول/سبتمبر، وأبلغ محامي اتحاد الهند المحكمة بأن هناك التماساً مماثلاً أمام المحكمة العليا وأن التماساً آخر بشأن القضية نفسها قدم إلى محكمة دلهي العليا إلا أنه رفض من قبل المحكمة. (إنديا إكبريس). وقد أقر مجلس الوزراء الهندي في منتصف الشهر الماضي أمرا تنفيذيا بتجريم الطلاق الشفهي "بالثلاث"، في الوقت الذي يسعى فيه رئيس الوزراء ناريندرا مودي لمحاربة ما يسمى بالطلاق الفوري. وقال رافي شانكار وزير القانون الاتحادي، في مؤتمر صحفي، إن مجلس الوزراء أقر الأمر التنفيذي، لأن هذه الممارسة استمرت رغم صدور حكم قضائي بمنعها. وقد قضت المحكمة في العام الماضي بعدم دستورية قانون يسمح للرجل بتطليق زوجته شفهيا بنطق "أنت طالق" ثلاثاوكانت المحكمة العليا حظرت "الطلاق بالثلاث" العام الماضي، إلا أن حكومة مودي تريد أن تجعلها تهمة تحمل عقوبة السجن لما يصل إلى ثلاث سنوات، دون إمكانية الخروج بكفالة.

0:00 0:00
Speed:
October 06, 2018

برز الثعلبُ يوماً

برز الثعلبُ يوماً

الخبر:

ردت المحكمة العليا في بومباي، الهند يوم الاثنين التماساً قدمه خمسة أشخاص يتحدون فيه الشرعية الدستورية وصحة قانون المرأة المسلمة (حماية حقوق الزواج) لعام 2018، الذي نُشر في 18 أيلول/سبتمبر، وأبلغ محامي اتحاد الهند المحكمة بأن هناك التماساً مماثلاً أمام المحكمة العليا وأن التماساً آخر بشأن القضية نفسها قدم إلى محكمة دلهي العليا إلا أنه رفض من قبل المحكمة. (إنديا إكبريس).

وقد أقر مجلس الوزراء الهندي في منتصف الشهر الماضي أمرا تنفيذيا بتجريم الطلاق الشفهي "بالثلاث"، في الوقت الذي يسعى فيه رئيس الوزراء ناريندرا مودي لمحاربة ما يسمى بالطلاق الفوري. وقال رافي شانكار وزير القانون الاتحادي، في مؤتمر صحفي، إن مجلس الوزراء أقر الأمر التنفيذي، لأن هذه الممارسة استمرت رغم صدور حكم قضائي بمنعها. وقد قضت المحكمة في العام الماضي بعدم دستورية قانون يسمح للرجل بتطليق زوجته شفهيا بنطق "أنت طالق" ثلاثا


وكانت المحكمة العليا حظرت "الطلاق بالثلاث" العام الماضي، إلا أن حكومة مودي تريد أن تجعلها تهمة تحمل عقوبة السجن لما يصل إلى ثلاث سنوات، دون إمكانية الخروج بكفالة.

التعليق:

اعتبرت الهندوسية أن على المرأة أن ترتبط بزوجها إلى الممات وأن الزواج رباط أبدي، لذلك فقد انتشر عندهم أن تُحرق الأرملة مع جثمان زوجها إذا مات الزوج قبل الزوجة لأنَّه خير لها ألا تبقى بعده. وبالرغم من أن حرق المرأة الأرملة مع جثمان زوجها قد توقف بشكل شبه نهائي بعد قانون أصدره المستعمر الإنجليزي عام 1830م إلا أن الكراهية للمرأة لم تنته. وفي الألفية الثالثة تُصدر القوانين لتجمل شكل المجتمع بينما تستمر معاناة المرأة في المجتمع الهندي. ولا زالت مشكلة الدوطة (الأموال التي تدفعها العروس إلى عريسها) أزمة حقيقية في المجتمع الهندي تؤدي إلى إغراق العروس وأهلها في الديون وتتسبب في جرائم حرق العرائس المنتشرة في الهند. ولا يقتصر عبء الدوطة على تأمين مهر العروس، بل يجاوز ذلك إلى الوأد العصري حيث يسعى الكثيرون إلى الفحص الجنيني قبل وضع الحمل لمعرفة جنس الجنين، مما يساعد على انتشار وأد الإناث، إمّا بالإجهاض المبكر أو بالدفن لحظة الولادة. وهذا ما تطلب من البرلمان الهندي أن يصدر في آب/أغسطس من عام 1994م قانوناً يحظر إجراء الفحوص الطبية لتحديد نوع الجنين قبل ولادته.

وبدلا من معالجة هذه الكارثة الإنسانية خرج الذئب مودي في ثياب الواعظين في تجمع في ولاية أوتار براديش في شمال الهند "ما الجريمة التى اقترفتها أختي المسلمة لتدمر حياتها بالكامل عند سماعها عبر الهاتف كلمة "طلاق" ثلاث مرات؟". وقال في خطاب متلفز "يجب عدم السماح بأي ظلم في حق أمهاتنا وأخواتنا المسلمات باسم الدين أو الجماعة". ردد رئيس الوزراء الهندي هذه العبارات دون أن ينظر تحت قدميه، فالجَمَل لا يرى اعوجاج رقبته ولم يكترث لكونه رئيس وزراء دولة تسمى بعاصمة الاغتصاب في العالم أو أن الهند من أخطر البلاد على النساء. لم يأت بذكر الدوطة وحرق النساء ولم يتطرق لوأد الفتيات!

لم يكترث لأن الأمر لا يتعلق بالمرأة بل بالإسلام ومحاربة الإسلام، وليست المرأة المسلمة إلا ذريعة لمحاربة الإسلام وأحكامه. وقد اتخذ مودي قضية الطلاق كهدف شخصي حيث قال في الشهر الماضي في كلمته بمناسبة يوم الاستقلال إنه "لن يهدأ لحين إنصافهن"، في إشارة إلى النساء المسلمات. وقد سعت الحكومة في العامين الماضيين لطرح مسألة الطلاق الفوري "طلاق الثلاث" وجندت ترسانة إعلامية لخلق رأي عام حول القضية، واللافت أن اليمين الهندوسي المتطرف كانت له الريادة والسبق في تغطية قضية الطلاق الفوري. كما خرج الرهبان الهندوس المتطرفون للحديث عن الطلاق الفوري وكونه انتهاكاً للدستور ولحقوق المرأة. خرج أعداء الإسلام لمناصرة الحكومة القومية الهندوسية ودعم رغبتها في إبدال قوانين الأحوال الشخصية بقانون مدني يطبق على أتباع كل الديانات في الدولة.

يعيش المسلمون في الهند أياماً عصيبة يحكمهم فيها متطرفون هندوس يقدسون البقر ويهينون البشر، يدنسون مقدسات المسلمين ويحاربون شعائر الإسلام، بينما الأمة لاهية عنهم وحكامها متآمرون مع أعداء الله!! إنها مؤامرة محكمة الأطراف أساسها تفرقة الأمة وهدم دولة الخلافة. هدمت الخلافة ولا زالت الهند والهةً تبكي على الخلافة بمدمعٍ سحّاح.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هدى محمد (أم يحيى)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست