بسبب غياب الخلافة  الأمة الإسلامية تعاني من الحكام الذين يستسلمون إلى قتلة ومغتصبي ومحتلي المسلمين
بسبب غياب الخلافة  الأمة الإسلامية تعاني من الحكام الذين يستسلمون إلى قتلة ومغتصبي ومحتلي المسلمين

الخبر: في يوم الجمعة الأول من آذار/مارس، أعيد قائد جناح القوات الجوية الهندية أبيناندان فارتهامان، الذي أسره الجيش الباكستاني عندما تم إسقاط طائرته المقاتلة عند دخوله المجال الجوي الباكستاني، أعيد إلى الهند بناءً على أمر من رئيس الوزراء الباكستاني عمران خان. قدم خان بفخر ذلك "كبادرة سلام" لتهدئة التوترات بين البلدين. قوبل رئيس الوزراء الهندي ناريندرا مودي بالمثل في عرض ما يسمى بعرض السلام هذا في اليوم نفسه، من خلال القصف العنيف على الجانب الباكستاني من خط السيطرة على أيدي القوات الهندية والذي أدى إلى مقتل جنديين باكستانيين

0:00 0:00
Speed:
March 13, 2019

بسبب غياب الخلافة الأمة الإسلامية تعاني من الحكام الذين يستسلمون إلى قتلة ومغتصبي ومحتلي المسلمين

بسبب غياب الخلافة

الأمة الإسلامية تعاني من الحكام الذين يستسلمون إلى قتلة ومغتصبي ومحتلي المسلمين

(مترجم)

الخبر:

في يوم الجمعة الأول من آذار/مارس، أعيد قائد جناح القوات الجوية الهندية أبيناندان فارتهامان، الذي أسره الجيش الباكستاني عندما تم إسقاط طائرته المقاتلة عند دخوله المجال الجوي الباكستاني، أعيد إلى الهند بناءً على أمر من رئيس الوزراء الباكستاني عمران خان. قدم خان بفخر ذلك "كبادرة سلام" لتهدئة التوترات بين البلدين. قوبل رئيس الوزراء الهندي ناريندرا مودي بالمثل في عرض ما يسمى بعرض السلام هذا في اليوم نفسه، من خلال القصف العنيف على الجانب الباكستاني من خط السيطرة على أيدي القوات الهندية والذي أدى إلى مقتل جنديين باكستانيين. أعقب ذلك في اليوم التالي، إعادة السلطات الهندية لجثة شاكر الله إلى عائلته - وهو سجين باكستاني، تعرض للضرب المبرح والرجم بالحجارة حتى الموت في سجن هندي للانتقام من الهجوم على القوات الهندية في بولواما؛ في مقاطعة كشمير الهندية المحتلة. وتم تسليم جثته على حدود واغاه الباكستانية، وهو الموقع نفسه الذي أعيد فيه القائد الهندي فارتهامان إلى أيدي الهنود قبل يوم واحد؛ مما زاد من مرارة هذا الفعل المتمثل في الإذلال الذي حققه عمران خان.

التعليق:

بدلاً من استخدام القبض على الطيار الهندي للضغط على الهند للإفراج عن الآلاف من المسلمين الأبرياء الذين سجنتهم الدولة الهندوسية بسبب وقوفهم ضد الاحتلال الوحشي لكشمير، فإن حاكم باكستان يستغلها كفرصة للدعوة إلى السلام مع قاتل جماعي، دماء عشرات الآلاف من المسلمين على يديه. فبدلاً من الرد بالقوة العسكرية للاحتلال الوحشي والاضطهاد الوحشي لإخوته وأخواته المسلمين في كشمير - والذي يشمل الآلاف من حالات الاختفاء القسري والتعذيب والاغتصاب والتعمية بالكريات المعدنية وعمليات القتل خارج نطاق القضاء - يدعو بدلاً من ذلك إلى السلام والتطبيع وتحسين العلاقات مع هذا المعتدي والمغتصب للأرض، ووصف أعمال المقاومة ضد الاحتلال بأنها "إرهاب"! وفقاً لجمعية آباء الأشخاص المختفين، اختطفت قوات الأمن الهندية أكثر من 8000 مسلم في كشمير المحتلة ومكانهم لا يزال مجهولا.

لا ينبغي مواجهة الاحتلال والمذابح والوحشية التي يتعرض لها المسلمون بأغصان الزيتون والدعوة إلى التسوية والتطبيع مع الدولة الهندوسية القاتلة، والذي لا يعكس سوى الضعف والخضوع لهذا العدو. بل إنهم يطالبون بتحرير مسلمي كشمير من براثن مضطهديهم من خلال حشد جيش باكستان القوي - سادس أكبر جيش في العالم - للدفاع عن أمتهم كما أمر الله سبحانه وتعالى: ﴿وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيراً﴾ [النساء:75]

حاول عمران خان أن يتلاعب بالمشاعر الإسلامية لمسلمي باكستان من خلال الحديث مراراً وتكراراً عن رؤيته لتشكيل باكستان بناءً على نموذج دولة المدينة التي أنشأها الرسول ﷺ. ومع ذلك، فإن خضوعه للدولة الهندوسية بعيد كل البعد عن الإسلام، وبعيد كل البعد عن تصرفات دولة الخلافة والخليفة الذي حكمها بالإسلام وحده وقام بالدفاع عن دماء المسلمين والقتال من أجل مصالح المسلمين. بدلاً من ذلك، فإن "إيماءاته المتعلقة بصنع السلام" مع نظام احتلال وقتل، ببساطة تنبئ بأوراق اعتماده كدمية أخرى لأمريكا، مما يساعد أجندتها لجعل الهند قوة إقليمية من أجل المصالح الأمريكية بينما تستسلم باكستان للدولة الهندوسية على كل جبهة. يا لها من إهانة كبيرة لهذا الإرث الرائع للقائد المسلم العظيم محمد بن القاسم، الذي قام بأمر من خليفة الأموي الوليد بن عبد الملك، بإنقاذ المسلمين الذين أسرهم الملك الهندوسي رجا ضاهر، وقد تم تحرير السند كله من الحكم الهندوسي الاستبدادي في هذه العملية.

يوافق شهر رجب الجاري الذكرى السنوية الـ98 لهدم الخلافة. ويجب أن يكون هذا تذكيراً لهذه الأمة بمعايير القادة المتميزة التي فقدناها عندما أزيلت هذه الدولة من أراضينا. مكانهم، ابتلينا بحكام ضعفاء يضعون أعناقهم تحت أقدام أعداء الإسلام الذين يضطهدون المسلمين ويغتصبونهم ويقتلونهم. في الواقع، في وقت سابق من هذا الشهر، أفيد بأن الشرطة أحرقت حوالي 250 منزلاً من المنازل والشركات والمساجد في ميروت، أوتير براديش، في الهند، بينما لا يزال عمران خان هو القائد الداعي لتطبيع العلاقات مع هذا النظام المعادي للمسلمين، بدلاً من غرس الخوف في قلوبهم بحيث لا يجرؤون على إيذاء مسلم واحد. حقا إن الأمة الإسلامية لن تشعر بالأمن ولا بالشرف في غياب نظام الله سبحانه وتعالى. لذلك بالتأكيد، إذا كنا نود أن نرى نهاية لاحتلال بلادنا واضطهاد ومعاناة وذبح المسلمين في جميع أنحاء العالم، يجب أن نولي اهتمامنا ونبذل جهودنا الكاملة لإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [النور: 55]

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نواز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست