بورما ليست بحاجة إلى محققين ومتملقين وإنما هي بحاجة إلى خليفة للمسلمين
بورما ليست بحاجة إلى محققين ومتملقين وإنما هي بحاجة إلى خليفة للمسلمين

الخبر: بدأت المقررة الخاصة للأمم المتحدة لحقوق الإنسان يانغي لي جولة في إقليم أراكان (غربي ميانمار) لتفقد أحوال أقلية الروهينجا المسلمة، والتحقق من الانتهاكات التي ترتكبها الحكومة ضدهم. وذلك بعد أن نفت لجنة رسمية تحقق في العنف، مزاعم بأن قوات الأمن تحاول دفع الروهينجا إلى الرحيل وقالت إنه لا يوجد دليل على أن القوات ارتكبت عمليات اغتصاب. عقد في القاهرة الملتقى الأول للحوار من أجل تحقيق السلام في بورما تحت عنوان "نحو حوار إنساني حضاري من أجل مواطني ميانمار (بورما)" وذلك للوقوف على أسباب الصراع والكراهية كخطوة أولى نحو تحقيق السلام للمسلمين وكافة الأديان والأعراق وسط اهتمام إعلامي دولي

0:00 0:00
Speed:
January 17, 2017

بورما ليست بحاجة إلى محققين ومتملقين وإنما هي بحاجة إلى خليفة للمسلمين

بورما ليست بحاجة إلى محققين ومتملقين

وإنما هي بحاجة إلى خليفة للمسلمين

الخبر:

بدأت المقررة الخاصة للأمم المتحدة لحقوق الإنسان يانغي لي جولة في إقليم أراكان (غربي ميانمار) لتفقد أحوال أقلية الروهينجا المسلمة، والتحقق من الانتهاكات التي ترتكبها الحكومة ضدهم. وذلك بعد أن نفت لجنة رسمية تحقق في العنف، مزاعم بأن قوات الأمن تحاول دفع الروهينجا إلى الرحيل وقالت إنه لا يوجد دليل على أن القوات ارتكبت عمليات اغتصاب.

عقد في القاهرة الملتقى الأول للحوار من أجل تحقيق السلام في بورما تحت عنوان "نحو حوار إنساني حضاري من أجل مواطني ميانمار (بورما)" وذلك للوقوف على أسباب الصراع والكراهية كخطوة أولى نحو تحقيق السلام للمسلمين وكافة الأديان والأعراق وسط اهتمام إعلامي دولي

التعليق:

إن الحوادث الإجرامية اليومية بحق مسلمي الروهنجيا لها تاريخ طويل من القمع والاضطهاد، وهي ليست وليدة يوم أو شهر وسنة، فمنذ احتلال أراكان عام 1784 من قبل الملك البوذي (بوداياي) وضمها لإقليم ميانمار خوفاً من انتشار الإسلام، والاضطهاد والتعذيب والتنكيل لا يكادون يفارقون المسلمين من قبل البوذيين هناك. والذي استمر أيضا بعد احتلال بريطانيا لميانمار حيث أمدّت البوذيين بالسلاح ليوقعوا مذبحة بحق المسلمين راح ضحيتها حوالي 100 ألف مسلم عام 1942.

لقد استمر احتلال البوذيين لأراكان وأذاقوا أهلها على مر تلك السنين ألوان العذاب والهوان، وكان آخر مخططاتهم الشيطانية منذ عام 1982 عندما تم تطبيق قانون الجنسية الذي تم بموجبه حرمان المسلمين من تملك العقارات وتقلد الوظائف بالإضافة إلى حرمانهم من جميع حقوقهم الإنسانية، ليبدأ مسلسل تهجيرهم من أرضهم وبيوتهم من خلال القتل الجماعي الذي يمارس ضدهم والحرق الممنهج لبيوتهم وقراهم ومحالهم وأسواقهم التجارية، وترويع أطفالهم واغتصاب نسائهم، وممارسة أبشع الجرائم الإنسانية التي وصلت إلى حد حرق الرجال والأطفال والنساء وهم أحياء، ناهيك عن آلاف الغرقى في البحر أثناء الهروب من جحيم البوذيين، وآلاف المعتقلين والمشردين، إذ تم تهجير ما يقرب من 100 ألف مسلم منذ عام 2012.

هذه الجرائم التي أعادت إلى أذهاننا محاكم التفتيش التي أقيمت لمسلمي الأندلس على يد المجرمين الإسبان في حملتهم لتنصير المسلمين آنذاك، لتأخذ مأساة الروهنجيا طابعاً ديكتاتوريا عرقياً ممنهجاً، إذ رغم ادعاءات تغيير نظام الحكم عام 2010 والذي قيل بأنه أصبح مدنياً ديمقراطيا بعد أن كان عسكرياً ديكتاتورياً، إلّا أن وضع مسلمي الروهنجيا لم يتغير بل زادت وطأة العنف والقتل والتهجير الممنهجة ضدهم، بدعم وتغطية من الحكومة الرسمية، وبتجاهل وصمت رهيب من قبل حكام المسلمين الذين يكسرون صمتهم بين الحين والآخر بإرسال المساعدات الإنسانية. فلا الديمقراطية ولا الدكتاتورية تغير أحوال البشرية وليس فقط حال أهلنا في بورما، فكلاهما سيان في الجرائم ضد الإنسانية.

ناهيك عن تخاذل علماء المسلمين العالمين بأحكام الدين وسيرة رسولنا الكريم، لأخذ دورهم الحقيقي بحث هؤلاء الحكام وجيوشهم المرابطة في ثكناتها، لنصرة المسلمين المضطهدين بالأفعال لا بالأقوال، ولرفع الظلم بالقوة العسكرية لا بالمسايرة والتنديدات، ولا بالدعوة لمزيد من اللقاءات والحوارات والتي كان آخرها تحت عنوان "نحو حوار إنساني حضاري من أجل ميانمار" وبرعاية شيخ الأزهر رئيس مجلس حكماء المسلمين الذي دعا إلى نزع فتيل الحقد والكراهية، مع التأكيد أنه لا سبيل إلى ذلك إلا بالتطبيق الحاسم لمبدأ المواطنة الكاملة والمساواة التامة بين أبناء الشعب الواحد بغض النظر عن الدين والعرق. وقد جاءت هذه الدعوة بعد المدح المتزايد لوصايا بوذا التي تدور على المحبة والإحسان للآخرين!! وأن البوذية فيها تعاليم إنسانية وأخلاقية في المقام الأول!! وأن هذا القتل والاضطهاد لم يعد يليق بشعب له تاريخ حضاري عريق كشعب بورما!! وبعد هذا المديح المنافي للحقيقة وللتاريخ دعا شيخ الأزهر إلى ضرورة وقف هذه الصورة القاتمة التي تؤذي مشاعر الإنسانية في الشرق والغرب!!!! لينتهي الملتقى باتفاق على إرسال وفد من العلماء لإرساء السلام في ميانمار!!

ولن نستثني أيضا المواقف الدولية التي عجزت أمام وحشية البوذيين في حين نراها تعقد العزم على محاربة (الإرهاب) وتشن الحروب في بلاد المسلمين وذلك بعد جلسة أو جلستين لمجلس الأمن، ولا أيضاً البعثات الأممية التي لا زالت تجيء وتروح لتثبت الانتهاكات بحق المسلمين في بورما، وكأن الصور الأليمة والأخبار الدامية والشهادات الحية لا تزال أدلة ناقصة بأعراف القوانين الدولية وعمل المنظمات الإنسانية والحقوقية. في حين إن زيارة مبعوثة الأمم المتحدة تأتي بالتزامن مع تقارير تفيد بارتكاب الجيش في ميانمار عمليات اغتصاب وقتل وتدمير بحق المسلمين هناك، أدت إلى فرار نحو 65 ألف شخص إلى بنغلاديش. فهل هذه التقارير هي الأولى من نوعها؟! وهل أصبحت زيارة مسلمي بورما من ضمن بروتوكولات الأمم المتحدة لحقوق الإنسان؟!

هل أصبحت نواة حل أزمة مسلمي بورما وفق علماء المسلمين بالجلوس على مائدة الحوار بدل أن تكون الدعوة إلى قطع يد البوذيين وغيرهم ممن تطاولت على المسلمين في كل مكان؟ وهل أصبح الحل أيضا بتكثيف الزيارات والبعثات للجلوس مع القاتل لمعرفة سبب إجرامه والدافع وراء وحشيته ولإحصاء القتلى والمشردين، في حين إن الهدف واضح وضوح الشمس في الظهيرة ألا وهو القضاء على الإسلام ومنع انتشاره بإخضاع وإذلال المسلمين في كل مكان؟؟

تغيب الحلول بغياب الراعي الحق، ذلك الراعي الذي لا يقبل الدنية في دينه ولا يرضى بالتفاوض مع المجرمين، ولا يضع يده بأيدٍ تلطخت بدماء المسلمين، ولا يحتكم للطاغوت، إنه خليفة المسلمين، الذي سيبعث الطمأنينة في النفوس، وينشر الإسلام هداية للشعوب، ويرسل الجيوش لتدك العروش، تلك العروش الطاغية والظالمة ليحل مكانها عدل الرحمن وشرع خالق الإنسان.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رنا مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست