بوتين يعلن ترحيل 755 دبلوماسيا أمريكيا من روسيا!
بوتين يعلن ترحيل 755 دبلوماسيا أمريكيا من روسيا!

الخبر:   روسيا اليوم 2017/7/30 - أعلن الرئيس الروسي فلاديمير بوتين، اليوم الأحد، أن موسكو لن تترك الخطوات العدائية بحقها من قبل الولايات المتحدة، من دون رد. وقال في حديث إلى قناة "روسيا 1": "انتظرنا على مدى وقت طويل عسى أن تتجه الأمور نحو الأفضل، وكنا نأمل في حدوث تغير إيجابي في هذا الوضع، لكن تبين أن ذلك لن يحصل قريبا، ولذا قررت أنه يجب إظهار أننا لم نعد مستعدين لترك الأمر دون رد". وأوضح أن 755 دبلوماسيا أمريكيا سيضطرون إلى مغادرة روسيا، مضيفا أن هذا الإجراء حساس بالنسبة لواشنطن.

0:00 0:00
Speed:
July 31, 2017

بوتين يعلن ترحيل 755 دبلوماسيا أمريكيا من روسيا!

بوتين يعلن ترحيل 755 دبلوماسيا أمريكيا من روسيا!

الخبر:

روسيا اليوم 2017/7/30 - أعلن الرئيس الروسي فلاديمير بوتين، اليوم الأحد، أن موسكو لن تترك الخطوات العدائية بحقها من قبل الولايات المتحدة، من دون رد.

وقال في حديث إلى قناة "روسيا 1": "انتظرنا على مدى وقت طويل عسى أن تتجه الأمور نحو الأفضل، وكنا نأمل في حدوث تغير إيجابي في هذا الوضع، لكن تبين أن ذلك لن يحصل قريبا، ولذا قررت أنه يجب إظهار أننا لم نعد مستعدين لترك الأمر دون رد".

وأوضح أن 755 دبلوماسيا أمريكيا سيضطرون إلى مغادرة روسيا، مضيفا أن هذا الإجراء حساس بالنسبة لواشنطن.

وذكر أن لدى روسيا طيفا واسعا من الوسائل للرد على العقوبات الأمريكية الجديدة المتوقعة، غير أن موسكو لا تعتزم اللجوء إليها، لأن ذلك لن يقتصر ضرره على العلاقات الثنائية بين الدولتين إنما سيطال العلاقات الدولية على وجه العموم.

وشدد بوتين على أن الأضرار التي تلحقها محاولات واشنطن ممارسة الضغوط على روسيا لا يمكن مقارنتها بالتداعيات الهائلة التي قد يجلبها تجميد التعاون الروسي الأمريكي في مجالات معينة، وقال: "إذا حان هذا اليوم، فإننا قد ننظر في خيارات رد أخرى، ولكنني آمل أن ذلك لن يحصل. واليوم لا زلت معارضا للوصول إلى تلك المرحلة".

وأعرب عن عزم بلاده على مواصلة العمل مع الطرف الأمريكي حتى في الوضع الراهن المعقد إلى حد كبير، مشيرا إلى وجود مجالات تعاون بالغة الأهمية بين الطرفين.

وتطرق إلى الملف السوري، قائلا إن إنشاء منطقة تخفيف التوتر في جنوب سوريا نجم عن تعاون روسي أمريكي في مجال مكافحة (الإرهاب).

وأشار بوتين إلى أن هذه الخطوة لم تحقق مصلحة سوريا وروسيا فقط وإنما الأردن وكيان يهود، ما يعني أنها تخدم مصالح أمريكا أيضا.

إلى ذلك، شدد الرئيس الروسي على أن موسكو وواشنطن تلعبان الدور الأهم في الحد من انتشار أسلحة الدمار الشامل، مضيفا أن روسيا اقترحت على أمريكا أكثر من مرة التعاون في مكافحة القرصنة الإلكترونية، لكن الجواب كان اتهامات لا أساس لها.

التعليق:

روسيا دولة صغيرة ولا تنتج شيئاً يحتاج إليه العالم، هذا ما قاله الرئيس السابق أوباما عندما كان يريد تقزيم روسيا، ولكن قوله هو الحقيقة بعينها. إذ إن أمريكا قد فرضت عقوبات متتالية على روسيا دون أن تقوم روسيا بأي رد، بل كانت بانتظار رحمة الرئيس ترامب، وقد مكثت طويلاً تنتظر هذه الرحمة. وكانت تظن بأن توجهات ترامب تجاهها صادقة من ناحية، وكانت تصدق قدرته على ترميم ما خربه أوباما ظناً منها بأن النظام الأمريكي كالنظام الروسي حيث يستطيع الرئيس أن يفعل ما يشاء.

ولما أصبحت كثرة الحقائق وكثرة العقوبات الأمريكية حتى بوجود ترامب تصب فوق رأسها صباً فلعلها أدركت بأنها كانت سطحية التفكير في السياسة الأمريكية، ولما انفتحت ضد تدخلها في الانتخابات الأمريكية تحقيقات عدة، فقد أدركت أن الرئيس ترامب لا يمكنه صنع شيء تجاهها، ثم لماذا يصنع ترامب لها معروفاً؟ فلا شيء في السياسة الأمريكية بلا مقابل، وواشنطن كانت تستنصح من كيسنجر ثعلب السياسة الأمريكية السابق فإنه، أي ترامب، أراد أن يستخدم روسيا في السياسة الدولية لأمريكا، فكما نجح سلفه أوباما في الزج بها لخوض معركة أمريكا في سوريا، فإن ترامب يريد دفعها إلى كوريا الشمالية أو غيرها لتخوض الحروب الأمريكية نيابة عن واشنطن.

وهكذا أدركت روسيا متأخرة أن موضوعها مع أمريكا ليس سهلاً من ناحية حرج ترامب من العلاقة معها، ومن ناحية أن أمريكا تريد منها استسلاماً وسيراً كاملاً وراء مشاريعها الدولية، فقامت بهذا الرد بعد أن استيأست من انتظار الرئيس ترامب.

وهذا حال أي دولة ترهن سياستها ولو جزئياً بسياسة أمريكا، وقد عشعش في عقلية الروس بأن رفعة روسيا إنما تصنع على طاولة الاتفاق مع أمريكا، هكذا كانت زمن الاشتراكية، وهكذا كانت في سوريا عندما ظنت أن عظمتها قد عادت لها بفعل اتفاق بوتين مع أوباما، لكن اليوم ترامب يريد الكثير من روسيا، وهو منشغل حتى عن التفاوض معها، فصارت روسيا في حيص بيص، ولا تدري ما تفعل فقاومت بهذه الخطوة لعلها تذكر أمريكا بضرورة الجلوس معها والتفاوض على اتفاق جديد.

وقبل الوصول إلى ذلك الاتفاق فإن روسيا صارت رهينة للسياسة الأمريكية في سوريا، ولا تستطيع فعل شيء دون أمريكا، وتلح عليها من أجل الاتفاق والتفاوض، ولكن أمريكا بعد أن جرتها للساحة السورية، وهي لا ترحم أحداً، فإن الساحة السورية يمكن أن تشهد هي الأخرى إنزال مرتبة روسيا الدولية إن لم توافق على شروط أمريكا. بمعنى أنها وضعت نفسها وجيشها في سوريا تحت رحمة السياسات الأمريكية، فلو أمرت أمريكا أردوغان لأقفل البوسفور في وجه القوات الروسية التي تنقل عبره حمم الموت لسوريا، ولو أرادت لطلبت من بشار أن يستغني عن خدماتها، بل إن جنرالاً أمريكياً قد ذكر بأن على طاولة أوباما إنشاء مناطق آمنة في سوريا بدءاً من اللاذقية وطرطوس، أي منع الطيران الروسي من استخدام الأجواء السورية، وروسيا لا يمكنها حتى ترك سوريا دون الاتفاق مع أمريكا!

وبإغلاق أمريكا باب المفاوضات مع روسيا حول سوريا، ولو مؤقتاً فإن روسيا قد صار يلاحظ عليها الحرج الدولي، ونزول مرتبتها لأن أستانة وجنيف تراوحان مكانهما رغم ما يقدمه أردوغان من خدمات جليلة لأمريكا على ساحة إخضاع المعارضة السورية ومنعها من مواصلة المعركة ضد الأسد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام البخاري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست