بيع أسهم شركة مطارات ماليزيا القابضة إلى شركة البنية التحتية العالمية بلاك روك لن يؤدي إلا إلى تعزيز الموقف الجيوسياسي للولايات المتحدة في ماليزيا (مترجم)
بيع أسهم شركة مطارات ماليزيا القابضة إلى شركة البنية التحتية العالمية بلاك روك لن يؤدي إلا إلى تعزيز الموقف الجيوسياسي للولايات المتحدة في ماليزيا (مترجم)

الخبر:   منذ حزيران/يونيو الماضي، كان هناك نقاش حاد في هذا البلد حول "شراكة البنية التحتية العالمية" الأمريكية، وهي شركة في طور الاستحواذ عليها بالكامل من قبل بلاك روك ومقرها الولايات المتحدة، والتي أعربت عن اهتمامها بشراء حصة 30٪ في شركة مطارات ماليزيا القابضة، وهي شركة مملوكة للدولة تدير 39 مطاراً في البلاد. ...

0:00 0:00
Speed:
July 28, 2024

بيع أسهم شركة مطارات ماليزيا القابضة إلى شركة البنية التحتية العالمية بلاك روك لن يؤدي إلا إلى تعزيز الموقف الجيوسياسي للولايات المتحدة في ماليزيا (مترجم)

بيع أسهم شركة مطارات ماليزيا القابضة إلى شركة البنية التحتية العالمية بلاك روك لن يؤدي إلا إلى تعزيز الموقف الجيوسياسي للولايات المتحدة في ماليزيا

(مترجم)

الخبر:

منذ حزيران/يونيو الماضي، كان هناك نقاش حاد في هذا البلد حول "شراكة البنية التحتية العالمية" الأمريكية، وهي شركة في طور الاستحواذ عليها بالكامل من قبل بلاك روك ومقرها الولايات المتحدة، والتي أعربت عن اهتمامها بشراء حصة 30٪ في شركة مطارات ماليزيا القابضة، وهي شركة مملوكة للدولة تدير 39 مطاراً في البلاد. ومن المعروف أن بلاك روك تدعم كيان يهود غير الشرعي وقد تم استخدام الأموال من الشركة لتطوير الأسلحة المرسلة إلى كيان يهود غير الشرعي. بالإضافة إلى العلاقات مع كيان يهود، يجب علينا أيضاً النظر في هذه القضية من وجهة النظر الجيوستراتيجية الأمريكية، والتي تم التأكيد عليها بشكل أقل. هذا الجانب الجيوستراتيجي مهم لأنه يؤثر على مستقبل البلاد والأمة الإسلامية.

التعليق:

في عام 2022، أنشأت الولايات المتحدة، خلال مؤتمر مجموعة السبع، شراكة البنية التحتية العالمية والاستثمار لإنشاء ممر اقتصادي خاص بها كتحدٍ لمبادرة الحزام والطريق الصينية. ويهدف مشروع شراكة البنية التحتية العالمية والاستثمار، تحت شعار "منطقة المحيطين الهندي والهادئ الحرة والمفتوحة"، إلى تمكين الولايات المتحدة وحلفائها من الهيمنة والسيطرة على البنية التحتية الرئيسية، وخاصة في بلدان المحيطين الهندي والهادئ، من النفوذ الصيني.

ولتنفيذ البنية التحتية العالمية والاستثمار، تحتاج الولايات المتحدة ودول مجموعة السبع الأخرى إلى ما يصل إلى 600 مليار دولار أمريكي لتحقيق أهداف المشروع. تتعاون بلاك روك ومايكروسوفت، وهما لاعبان رئيسيان في هذا المشروع، مع الإدارة الأمريكية لتحقيق هذه الأجندة. وفي أحدث مؤتمر لمجموعة السبع في 13 حزيران/يونيو في فاسانو بإيطاليا، كان من بين القرارات المتخذة أن مجموعة السبع أعدت ما يصل إلى 30 مليار دولار أمريكي للاستثمار في شركات البنية التحتية في البلدان النامية. من هذا الصندوق، سيتم استخدام 4 مليارات دولار أمريكي من قبل المستثمرين الأمريكيين من القطاع الخاص مثل شراكة البنية التحتية العالمية وبلاك روك وبروك فيلد لمشاريع البنية التحتية المختلفة.

ومن هنا، نجد أن إجراءات الاستثمار التي تتخذها شركة بلاك روك لا تستند فقط إلى اعتبارات الشركات والأرباح، بل الأهم من ذلك أنها إجراءات جيوستراتيجية حددتها الولايات المتحدة. فبالإضافة إلى حصة 30% في شركة مطارات ماليزيا، تخطط شركة بلاك روك أيضاً لشراء أسهم في شركات الموانئ مثل ميناء MMC. كما أضافت شركة مايكروسوفت مؤخراً 10.5 مليار رينجيت ماليزي إلى استثماراتها في ماليزيا في تكنولوجيا الحوسبة السحابية والذكاء الاصطناعي. كل هذا يشير إلى أن مشروع البنية التحتية العالمية والاستثمار الأمريكي قيد التنفيذ في ماليزيا.

يبدو أن سيطرة الولايات المتحدة على البنية التحتية الاستراتيجية في هذا البلد يمكن تحقيقها بسهولة لأن سياسات الرأسمالية المفتوحة تسمح لأي طرف بشراء أسهم الشركة طالما كان لديه رأس المال ويمكنه تحقيق الأرباح. مع رأس مال كبير ومغرٍ مثل رأس مال شركة بلاك روك، ستوافق ماليزيا بسهولة على بيع أسهم شركة مطارات ماليزيا لهم. ومع ملكية 30% من أسهم شركة مطارات ماليزيا، سيكون للولايات المتحدة بالتأكيد صوت في تحديد اتجاه الشركة أو التأثير عليه على الأقل.

إن مثل هذا النظام لمشاركة الشركات غير مسموح به بموجب الشريعة الإسلامية وهو يفتح الباب أمام الهيمنة الأجنبية على مصالح المسلمين بشكل عام. ومن منظور آخر، يبدو حكام المسلمين أيضاً ضعفاء في "إرادتهم السياسية" ويفتقرون إلى اتجاه مبدئي واضح. حيث تقتصر طموحاتهم السياسية على حماية المصالح الوطنية، مع التركيز فقط على رفع الناتج المحلي الإجمالي للبلاد وتحقيق وضع الدولة المتقدمة. ويبدو أنهم ساذجون للغاية بحيث لا يدركون الخطة الأمريكية، ما أدى إلى استعدادهم للاستسلام لها.

علاوة على ذلك، غالباً ما تنظر ماليزيا إلى نفسها على أنها "دولة محايدة" تقبل المشاريع من أي طرف، سواء أكانت مبادرة الحزام والطريق الصينية أو البنية التحتية العالمية والاستثمار الأمريكية؛ مع وجهة نظر مفادها أن البلاد يمكن أن تستفيد من التنافس بين الطرفين ويمكن لماليزيا الاستمتاع بالأرباح. في الواقع، تسلط هذه السياسة المحايدة الضوء بشكل أكبر على دور ماليزيا كبيدق في لعبة الهيمنة للدول العظمى، وسيكون المسلمون أنفسهم هم ضحايا أي اضطراب جيوسياسي. إن التفكير الضيق لحكام المسلمين في "إدارة الشؤون الإسلامية" من شأنه أن يؤدي إلى تفاقم الوضع الجيوسياسي للأمة الإسلامية.

لا سبيل لهذه الأمة إلى النجاة من هذا النفوذ إلا أن يسعى المسلمون جاهدين لإقامة الخلافة على منهاج النبوة وتطبيق الإسلام كاملاً. فالخلافة ستوحد بلاد المسلمين بأسرها، وتجمع كل مواردها الطبيعية والبشرية، وتعزز مكانتها الجيوسياسية على مستوى العالم. وبالنظر إلى القوة الحالية لبلاد المسلمين اليوم، فإن تحقيق هذه المكانة ليس مستحيلاً. ولن تعتمد الخلافة على دول أجنبية ولن تسمح أبداً لأي قوة عالمية أخرى بالهيمنة وفرض خططها الجيوستراتيجية على المسلمين.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست