بيرني ساندرز وتزوير النظام الانتخابي الأمريكي (مترجم)
بيرني ساندرز وتزوير النظام الانتخابي الأمريكي (مترجم)

الخبر: التقى يوم الخميس، التاسع من حزيران/يونيو 2016 السيناتور ساندرز، المرشح الأمريكي للحزب الديمقراطي مع الرئيس الأمريكي باراك أوباما في البيت الأبيض. وبعد الاجتماع نشر أوباما فيديو مسجلا مسبقًا يعلن فيه تأييده ودعمه لهيلاري كلينتون المرشحة عن الحزب الديمقراطي للرئاسة. وتعهد ساندرز بالاستمرار في السباق للترشح حتى انعقاد مؤتمر الحزب الديمقراطي وسيشارك في الانتخابات التمهيدية الأخيرة في واشنطن يوم الثلاثاء.

0:00 0:00
Speed:
June 14, 2016

بيرني ساندرز وتزوير النظام الانتخابي الأمريكي (مترجم)

بيرني ساندرز وتزوير النظام الانتخابي الأمريكي

(مترجم)

الخبر:

التقى يوم الخميس، التاسع من حزيران/يونيو 2016 السيناتور ساندرز، المرشح الأمريكي للحزب الديمقراطي مع الرئيس الأمريكي باراك أوباما في البيت الأبيض. وبعد الاجتماع نشر أوباما فيديو مسجلا مسبقًا يعلن فيه تأييده ودعمه لهيلاري كلينتون المرشحة عن الحزب الديمقراطي للرئاسة. وتعهد ساندرز بالاستمرار في السباق للترشح حتى انعقاد مؤتمر الحزب الديمقراطي وسيشارك في الانتخابات التمهيدية الأخيرة في واشنطن يوم الثلاثاء.

التعليق:

جاءت الديمقراطية متأخرة إلى الدول الغربية. عندما أراد قادة الثورة الأمريكية تعميم نظامهم، تأثروا كثيرًا بوصف مونتسكيو في بداية القرن الثامن عشر للحكومة البريطانية كخليط مثالي لعناصر الملكية والأرستقراطية والديمقراطية في نظام حكم واحد. لذا، بدلاً عن الملك، كان هناك الرئيس الأمريكي، الذي تنتخبه الولايات المتحدة وليس الشعب مباشرةً.

وكانت هناك الأرستقراطية ممثلةً بالنخبة الثرية من أصحاب الأراضي الذين تم اختيار مجلس الشيوخ منهم. أما العنصر الديمقراطي فكان من خلال مجلس النواب. وبالطبع من الناحية العملية كان العنصر الديمقراطي هو الأضعف في كل من بريطانيا وأمريكا، ولم يكن العديد من أعضائه سوى وكلاء للنخبة الأرستقراطية التي تدعم مرشحيها المفضلين في الدوائر الانتخابية.

إن الحكومات الديمقراطية الحديثة هي حقيقةً فكرة إلحادية، يقرر الإنسان فيها مصيره وليس الله. بعد فشل الثورة الفرنسية والتي انتهت بإمبراطورية نابليون، تبنى الدعوة إلى الديمقراطية الاشتراكيون الأوروبيون. ووقعت الحكومات الغربية تحت الضغط من قبل الحركات الاشتراكية الشعبية القويّة من أجل جعل النظام الحاكم ديمقراطيًا بالكامل. في بريطانيا، انتقل مقعد الحكومة من الملكية إلى مجلس اللوردات وبعدها إلى مجلس العموم. وفي أمريكا أسست الانتخابات لمجلس الشيوخ، وبشكل غير مباشر من خلال نظام المندوبين للرئاسة. بالطبع هذا ما تم تقديمه، أما الحقيقة ومن خلال الأحزاب السياسية، ما تزال النخبة هي من تقرر مرشحي الانتخابات وبالتالي تزوير النظام لصالحهم.

ويمثل بيرني ساندرز المحاولة الكبيرة الوحيدة في الآونة الأخيرة لاختراق عقبة الحزبين الكبيرين في أمريكا. وكصاحب أطول تاريخ كعضو مستقل في مجلس الشيوخ، انضم ساندرز إلى الحزب الديمقراطي فقط عام 2015 ولكنه قام بحملة شعبية ضخمة للترشح إلى الرئاسة عن الحزب الديمقراطي. ومخاطبًا مخاوف رجل الشارع الأمريكي العادي خصوصًا بعد الانهيار الاقتصادي والمالي عام 2008، جعل ساندرز، الذي يسمّي نفسه ديمقراطياً اشتراكياً، جعل النخبة الأمريكية هي الهدف في حملته الانتخابية.

إن مدى تهديد بيرني ساندرز يمكن رؤيته من خلال التغطية الإعلامية غير المسبوقة لدونالد ترامب. النخبة الأمريكية المصدومة من تقدم ساندرز أجبرت على دعم دونالد ترامب ضمنيًا، حيث رأت فيه المنافس الواقعي الوحيد لبيرني ساندرز في الجانب الجمهوري بعد الأداء الضعيف جدًا من قبل جيب بوش. لقد حظي ترامب بأكبر تغطية إعلامية من أي مرشح آخر بالرغم من إنفاق أقل الميزانيات، وحصل على أكثر وقت مجاني على الهواء من أي مرشح آخر.

وعلى الجانب الديمقراطي، فبالإضافة إلى حصولها على تغطية إعلامية أكثر من ساندرز، حظيت كلينتون بدعم قيادة الحزب الديمقراطي، والتي من المفترض أن تكون محايدة، كما رأينا من خلال ترتيب مناقشات المرشحين وتفسير قوانين انتخابات الولاية لصالح حملتها. وبالإضافة لهذا فمعظم "المندوبين الكبار" غير المنتخبين قد التزموا منذ البداية بدعم كلينتون حارفين بذلك النتيجة لصالحها منذ البداية، مع أن المندوبين الكبار ليس من المفروض أن ينتخبوا حتى عقد مؤتمر الحزب الديمقراطي في نهاية سباق الانتخابات التمهيدية. وبدون المندوبين الكبار فإن كلينتون ما زالت بحاجة إلى عدد أكبر من المندوبين لضمان ترشيحها عن الحزب الديمقراطي.

والآن أخيرًا، تدخل أوباما بنفسه لضمان تحييد تهديد برني ساندرز، وحصول كلينتون على الترشيح. يوم الخميس وضع أوباما دعمه خلف كلينتون بعد اجتماعه مع ساندرز محاولاً تهدئته. لقد اتضح الآن لساندرز بشكل قاطع أنه حتى رجل بمؤهلاته وخبرته السياسية الطويلة لا يستطيع كسر سيطرة النخبة الأمريكية على نظام الحكم الأمريكي. وسيقنع نفسه الآن بأي تنازلات صغيرة تعرض عليه. من المتوقع جدًا الآن أن تصبح هيلاري كلينتون الرئيس الخامس والأربعين للولايات المتحدة الأمريكية. وسيكتشف دونالد ترامب بسرعة أن مواهبه الرائعة لن تعمل جيدًا في الانتخابات العامّة كما حصل في الانتخابات التمهيدية للحزب الجمهوري.

لن يتحرر العالم من قبضة مصالح النخب حتى يتم القضاء على مثالية الديمقراطية الخاطئة من مفرداتنا السياسية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست