دعاة العلمانية هم الضالون، وليس حملة الدعوة الذين يعملون من أجل إقامة الشريعة والخلافة (مترجم)
دعاة العلمانية هم الضالون، وليس حملة الدعوة الذين يعملون من أجل إقامة الشريعة والخلافة (مترجم)

الخبر:   بعد سبع سنوات تقريبا من الضغط من أجل إنشاء لجنة بينانغ للمتحولين جنسيا، تم أخيرا عقد الاجتماع الأول لهذه اللجنة في الجمعية التشريعية في يوم 17 أيار/ مايو 2016. وبالإضافة إلى حملات إنشاء مراحيض منفصلة للمتحولين جنسيا، كان من بين الأنشطة التي خططت لها اللجنة "رفاهية أفضل لهذه الفئة المهمشة في المجتمع، لا سيما كيفية معاملة الأفراد في المستشفيات والسجون". في القضية نفسها، انتقد نائب مفتي ولاية بيراك، الأستاذ زمري هاشم، القادة السياسيين لدعمهم المتحولين جنسيا بتشكيل لجنة بمجرد شعورهم، أي القادة، بأن مأزق هذه الفئة يجب أن يحل. بالنسبة للمسلمين، فإن نظرة الإسلام إلى قضية المثليين واضحة وهي التحريم بلا جدال. وقد ذكر الله العقوبة القاسية التي أوقعها على المثليين جنسيا من قوم لوط عليه السلام في قوله تعالى: ﴿فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ * مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ﴾.

0:00 0:00
Speed:
May 28, 2016

دعاة العلمانية هم الضالون، وليس حملة الدعوة الذين يعملون من أجل إقامة الشريعة والخلافة (مترجم)

دعاة العلمانية هم الضالون،

وليس حملة الدعوة الذين يعملون من أجل إقامة الشريعة والخلافة

(مترجم)

الخبر:

بعد سبع سنوات تقريبا من الضغط من أجل إنشاء لجنة بينانغ للمتحولين جنسيا، تم أخيرا عقد الاجتماع الأول لهذه اللجنة في الجمعية التشريعية في يوم 17 أيار/ مايو 2016. وبالإضافة إلى حملات إنشاء مراحيض منفصلة للمتحولين جنسيا، كان من بين الأنشطة التي خططت لها اللجنة "رفاهية أفضل لهذه الفئة المهمشة في المجتمع، لا سيما كيفية معاملة الأفراد في المستشفيات والسجون". في القضية نفسها، انتقد نائب مفتي ولاية بيراك، الأستاذ زمري هاشم، القادة السياسيين لدعمهم المتحولين جنسيا بتشكيل لجنة بمجرد شعورهم، أي القادة، بأن مأزق هذه الفئة يجب أن يحل. بالنسبة للمسلمين، فإن نظرة الإسلام إلى قضية المثليين واضحة وهي التحريم بلا جدال. وقد ذكر الله العقوبة القاسية التي أوقعها على المثليين جنسيا من قوم لوط عليه السلام في قوله تعالى: ﴿فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ * مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ﴾.

وجاء هذا العمل الملتوي من الاعتراف بمجتمع المثليين وحقوقهم في اللحظات نفسها تقريبا التي وجه فيها رئيس الشرطة الماليزية المزاعم في سلسلة من المقالات، بأن حملة الدعوة الذين يعملون من أجل تطبيق الشريعة وإقامة الخلافة هم ضالون ويشكلون تهديدا للأمن في البلاد.

التعليق:

بالإضافة إلى قضايا المثليين، هناك العديد من المنكرات الأخرى التي نحن بصفتنا مسلمين، لا يمكننا تجاهلها. وفي الواقع، لا تنشأ قضية المثليين وهذه القضايا الأخرى من تلقاء نفسها. وتستمر هذه المنكرات في الوجود لأنها جميعا تنبع من الفلسفة التي تهيمن على حياتنا اليوم - العلمانية - فصل الدين عن الحياة. وبناء على هذا المفهوم، فإن العلمانية تؤلّه حرية الإنسان في صنع القرار. ونتيجة لذلك، تدافع العلمانية عن حرية التدين، وحرية الرأي، وحرية التملك والحرية الشخصية. وعن طريق علمنة هذه الحريات فإن العلمانية تتيح للإنسان وضع قوانينه الخاصة وتجعل العقل البشري هو المشرّع الوحيد للقوانين في الحياة. وليس الله سبحانه وتعالى. وهذه من أعظم المعاصي وهي ضلال مبين! يقول الله عز وجل: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلاَلاً بَعِيدًا

من الواضح أن ما تم مؤخرا من إنشاء لجنة المثليين في بينانغ هو مظهر من مظاهر شرور العلمانية. إن المثليين وأنصارهم تجرأوا في التعبير عن أنفسهم لأنهم يعرفون أن حرية القيام بذلك مكفولة بموجب دستور هذه الدولة العلمانية. إن مفهوم الحرية يمارس إلى أقصى الحدود في ظل النظام الديمقراطي ويكفله الدستور. وفي الواقع، يمكن تقديم العديد من الأمثلة الأخرى على التدهور المجتمعي الذي تسببه العلمانية. وقد أدى الاعتقاد الخاطئ والضال للعلمانية بشكل واضح إلى تدمير هائل للإنسانية.

عندما يتم تجاهل القرآن والسنة ويتجرأ الإنسان على نقض أوامر الله ونواهيه في هذه الحياة، فإن الإنسان في الواقع يكون في ضلال مبين. وللأسف، هذا هو الواقع اليوم حيث تهيمن على حياتنا العقيدة العلمانية الضالة. ومع ذلك، ففي البيئة التي يواجه فيها المسلمون باستمرار الهجمات الشرسة للعلمانية، لا يزال هناك من يناضل باستمرار لتفكيك هذا الاعتقاد الفاسد واستئناف الحياة الإسلامية. وقد قال رسول الله e: «إن أمتي لا تجتمع على ضلالة. فإذا رأيتم اختلافا فعليكم بالسواد الأعظم».

أما السواد الأعظم المذكور في هذا الحديث فهو صدق الإسلام وأولئك الذين يطيعون الله ويتبعون سنة النبي e مع الفهم الصحيح، بغض النظر عن كثرتهم أو قلتهم. في حلكة الظلام الأخيرة، يواجه المسلمون مجموعة متنوعة من التفرقة والانقسام، وفي هذه اللحظة، يواجه المسلمون الذين يسعون لاستئناف الحياة الإسلامية العديد من التحديات في نضالهم. في الأسابيع الأخيرة، شهدنا من يمرر بسهولة الأحكام والاتهامات لحملة الدعوة الإسلامية الذين يعملون بجد لإقامة الخلافة على منهاج النبوة. وكانت تلك الاتهامات الموجهة شديدة للغاية وصلت إلى حد اتهام حملة الدعوة بأنهم ضالون ومنحرفون عن الإسلام !

من الحتمي أن يحدث اختلاف أو سوء فهم بين المسلمين، ولكن كما ذكر النبي e في حديث السواد الأعظم يجب أن يتم إرجاع حل هذا الاختلاف إلى الكتاب والسنة. ويجب أن تحل النزاعات عن طريق الحوار والنقاش الفكري الصادق، لوجه الله بدلا من "أن تحل" عن طريق إلصاق التهم الباطلة المختلفة. حتى من دون دراسة عميقة، يمكننا أن نرى الشرور والطبيعة الملتوية للعلمانية، ومع ذلك، عندما قامت جماعة من المسلمين الذين يدعون لتطبيق الشريعة وإقامة دولة الخلافة، تم اتهامم بأنهم ضالون ومنحرفون. هذه اتهامات خطيرة للغاية عند الله سبحانه وتعالى؛ يجب تقديم أدلة شرعية لدعم هذه الاتهامات. وللأسف، لم ترافق هذه الاتهامات الأدلة والحجج، ولا كانت مسبوقة بالمناقشات العميقة والعادلة. والأسوأ من ذلك، نرى من هذه المزاعم بشكل واضح أنها ذات دوافع سياسية، وتدفعها مكاسب دنيوية، دون أدنى خوف من الله سبحانه وتعالى!

بالنسبة لأولئك الذين تجرأوا واتهموا حملة الدعوة للإسلام بأنهم ضالون ويشكلون تهديدا على الأمن القومي، عليكم التفكير والتوبة إلى الله سبحانه وتعالى. كيف يمكنكم بسهولة رمي الأكاذيب دون أي دليل حقيقي لدعم ادعاءاتكم؟ ألم يتضح لكم أن أنصار العلمانية الذين يهيمنون على حياتنا اليوم، هم الضالون؟ وتذكروا بأن أقوالكم وكتاباتكم وأعمالكم سوف يحاسبكم عليها الله سبحانه وتعالى يوم لا حكم فيه إلا حكمه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست