دافوس، ناتو، مجموعة العشرين... ثم ماذا؟
دافوس، ناتو، مجموعة العشرين... ثم ماذا؟

الخبر: "صرح أمين عام الأمم المتحدة أنطونيو غوتيرش عقب مؤتمر دافوس الدولي يوم الخميس 2020/1/23 بأن العالم يواجه أزمة جيوسياسية شديدة تتهدد الاقتصاد العالمي بشكل واع".

0:00 0:00
Speed:
January 24, 2020

دافوس، ناتو، مجموعة العشرين... ثم ماذا؟

دافوس، ناتو، مجموعة العشرين... ثم ماذا؟


الخبر:


"صرح أمين عام الأمم المتحدة أنطونيو غوتيرش عقب مؤتمر دافوس الدولي يوم الخميس 2020/1/23 بأن العالم يواجه أزمة جيوسياسية شديدة تتهدد الاقتصاد العالمي بشكل واع".

التعليق:


لا تنفك تصريحات المسؤولين الدوليين عقب كل اجتماع ومؤتمر تنهال مؤكدة على عمق الأزمات الدولية وخطورتها. فقبل وقت قصير كان اجتماع الناتو في لندن والذي زخر بتصريحات وأخبار تتحدث عن أزمات دولية وإقليمية ومحلية، ومن قبلها اجتماع الدول العشرين، وغيرها من المؤتمرات الكثير... وتصريح الأمين العام للأمم المتحدة ليس خارج النص العالمي والمعزوفة الدولية حول القضايا المؤرقة.


ولكن تصريح الأمين العام هو الأكثر فاجعة على شعوب العالم أجمع، إذ إنه اختصر أثر الصراعات الدولية على الاقتصاد العالمي، أي على المردود المالي للاستثمارات، وهي بلا شك استثمارات كبار الرأسماليين، والمردود المالي لمؤسساتهم وشركاتهم.


فالقضايا الجيوسياسية التي ذكرها والتي تخص تشريد وقتل ملايين المسلمين في سوريا، واليمن، وليبيا، والعراق، وميانمار، هي في نهاية المطاف صراعات دولية أثرها الأكبر ليس أرواح بشر، أو راحة بشر، أو حياة شعوب، بل هي سبب في تلاشي أموال وضعف اقتصاد، وانحسار دخل، وتدهور بنك هنا أو هناك!! فمن كان يظن أن أقطاب العالم حين يجتمعون ويبحثون أمور العالم السياسي، يبحثون عن حلول أو نهاية لمعاناة الشعوب جراء الحروب والأزمات، فهو مخطئ. فالقضية الأولى والأهم على أجندة أمريكا وبريطانيا وأوروبا عموما هي المردود المالي المباشر مقابل شلال الدماء الجاري في العالم، وأمواج الهجرات البشرية المنتقلة بين حدوده.


الأزمات الجيوسياسية التي يتحدث عنها الأمين العام للأم المتحدة هي ليست إلا صراعات بين الدول العظمى وتنافس شديد على المصالح يذهب ضحيته وفي أتونه ملايين البشر. وليس أدل على ذلك من تصريح السفير الأمريكي في طرابلس ليبيا بضرورة استئناف ضخ النفط في الوقت الذي كان مؤتمر برلين حول ليبيا يلفظ أنفاسه. ويعيد للذاكرة تصريح جيمس بيكر سنة 1991 عشية إعلان أمريكا الحرب على العراق، بأن الغاية الأساسية من الحرب هي توفير فرص عمل للأمريكيين.


أمريكا ومعها منظمة الأمم المتحدة ومجلس أمنها والناتو، منذ نهاية الحرب العالمية الثانية، لم تعمل على حل ولو مشكلة أو أزمة واحدة. بل هي لا تزال تخلق الأزمات وتوجد المشاكل، وتسعرها إلى درجة الحروب الطاحنة، ولا تني عن تدمير شعوب بأكملها وقتل الملايين من البشر من أجل زيادة ثروتها وثروة شركاتها ومؤسساتها المالية.


إن ما يعاني العالم منه اليوم حقيقة ليس هو الأزمات الجيوسياسية، بل هو وجود دول ومؤسسات جشعة ومجرمة تسيطر على مقدرات العالم ولا ترقب إلا ولا ذمة في أي من شعوب الأرض. وهذه الدول والمؤسسات تنتهج سلوكا معاديا للبشرية، وتحديا لخالق الإنسان، وتنصب من ذاتها ربا لمن تسيطر عليهم من الشعوب، وهي لا تنفك تفتري على الله وعلى الناس تحت شعارات الديمقراطية، والعلمانية، وحقوق الإنسان.


فحقيقة المشكلة والأزمات التي يعاني منها البشر في كل أنحاء العالم هي هيمنة أنظمة ودول ومؤسسات عملت ولا تزال على استبعاد النظام الذي أنزله الله تعالى ورضيه للناس دينا ونظاما وأحكاما تحقق العدل بينهم، وتوفر لهم الأمن والأمان، وتعمل على حل ما يعانيه الناس من مشاكل وأزمات بدلا من خلقها والاقتئات على مآسي البشر.


إن العالم لا يمكن أن يصلح حاله، ولا تنحل مشاكله، ولا ينتشر العدل بين سكانه، ولا موت الفقر بدلا من موت الفقراء، إلا إذا عادت السيادة في العالم لأحكام الخالق المدبر، وعاد لعالم الأرض عدل السماء، وأصبحت القيم السامية المبنية على التقوى والإيمان هي العلامة المسجلة لسلوك البشر خاصة من يتربع على حكم العالم.


فالمأساة اليوم هي سيطرة قوى شريرة على عرش النظام العالمي، والتي تجعل من البشر عبيدا، ومن مقدرات العالم ملكية خاصة لهم لا تصل إلى غيرهم إلا بشق الأنفس وزهق الأرواح. المأساة أن هذه القوى تمكنت من القضاء على النظام الذي كان بمقدوره وحده الدفاع عن الإنسان بوصفه إنسانا أنى كان، النظام الذي يجعل أعلى قيمه وغاياته إرضاء الله تعالى خالق الإنسان، النظام الذي سعى دائما لتحرير البشر من عبودية الأرباب من دون الله ليكونوا عبيدا لله فقط. ومنذ غياب هذا النظام القائم على الإيمان بالخالق المدبر، لا يزال العالم يعيش أزمات سياسية وجغرافية كما ورد على لسان أمين عام الأمم المتحدة.


وليس للبشرية خلاص ولا مخرج مما هي فيه من كوارث وأزمات ومآسٍ إلا أن ترنو إلى ظهور دولة الحق والعدل، دولة تحقق المعنى الحقيقي لاستخلاف الله للإنسان في الأرض، وأن تدعم البشرية ظهور هذه الدولة والأمة التي تدين لربها بالعبودية الخالصة، بل وتعمل البشرية بكل قواها للخلاص من أنظمة سامتها سوء العذاب على مدى أكثر من مئة عام.


﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ﴾

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست