دعوا الجاهلية فإنها منتنة
دعوا الجاهلية فإنها منتنة

الخبر:انتحر طفل سوري يبلغ من العمر 9 أعوام يدعى وائل السعود، اعتاد العيش في حي كارتيبي في كوجاييلي، عن طريق شنق نفسه عند مدخل مقبرة. وتفيد التقارير بأن الطفل الصغير قد وُبخ من المعلم في اليوم نفسه، وبشكل عام تعرض للتخويف من طلاب آخرين لكونه سورياً.

0:00 0:00
Speed:
October 11, 2019

دعوا الجاهلية فإنها منتنة

دعوا الجاهلية فإنها منتنة
(مترجم)


الخبر:


انتحر طفل سوري يبلغ من العمر 9 أعوام يدعى وائل السعود، اعتاد العيش في حي كارتيبي في كوجاييلي، عن طريق شنق نفسه عند مدخل مقبرة. وتفيد التقارير بأن الطفل الصغير قد وُبخ من المعلم في اليوم نفسه، وبشكل عام تعرض للتخويف من طلاب آخرين لكونه سورياً.

التعليق:


إحدى عادات الجاهلية التي كانت سائدة في حياة الناس فترة بعثة النبي e، كانت العنصرية والقومية. جاء الإسلام ووضع حداً للأعمال العدائية التي نشأت عن الاختلافات العرقية في تلك الفترة "بجعل المسلمين إخوة في الدين"، ونهى عن ادعاء التفوق على أساس الهوية العرقية وحصرها في التقوى وحدها. قام الإسلام بإلغاء الخلافات العرقية في وحدة واحدة على شكل "العقيدة الإسلامية" وأرسى مفهوم الأخوة. إن إدراك مفهوم الأخوة في ظل الخلافة يسهل على المسلمين التفوق في حياة ناجحة لسنوات. وعندما أدرك الكفار أنهم لا يستطيعون هزيمة المسلمين في ساحات القتال، وضعوا مؤامراتهم الشريرة موضع التنفيذ وكانوا مقتنعين بأن الطريقة الوحيدة للانتصار على المسلمين هي تدمير دولة الخلافة، التي كانت تشكل الوحدة والقوة للمسلمين من خلال زرع بذور الفتنة وحقن سم القومية، وهكذا فعلوا. وللأسف نجحوا في تحقيق خططهم القذرة. وكانت النتيجة تفكك وحدة الأمة عن طريق تقسيم الدولة الواحدة إلى أكثر من 50 دويلة صغيرة عن طريق وضع الحدود المصطنعة لسايكس بيكو. وأعقب ذلك احتلال لبلادنا ونهب لثرواتنا، بالإضافة للمذابح الوحشية التي ارتكبوها ضدنا، وذلك بسبب أن الدرع الحامي للمسلمين قد تحطم.


إن انتحار الطفل السوري وائل السعود البالغ من العمر 9 سنوات هو في الواقع نتيجة لقصة لاجئ بدأ بالهجرة منذ تسع سنوات وانتهى به الأمر إلى الموت. اندلعت الثورة في سوريا قبل حوالي 9 سنوات. تعرض خلالها إخواننا وأخواتنا السوريون إلى مجازر كبيرة ودمرت منازلهم وممتلكاتهم والعديد من الأعمال الوحشية الأخرى، وتشتتت العديد من العائلات، وزاد عدد الأطفال اليتامى والنساء الأرامل الضعيفات. وأدت هذه المحن إلى هجرة إخواننا وأخواتنا للوصول إلى بيئة أكثر أماناً وسلاماً. وهكذا لجأ عدد منهم إلى تركيا. أُجبروا على ترك منازلهم وجثث أقاربهم، من أجل اللجوء إلينا. ومع ذلك، استمر ظلمهم واضطهادهم، ونهب منازلهم، حتى إنهم أصبحوا ضحايا للقتل، واستمرت عمليات القمع التي فروا منها إلى المرفأ الآمن الذي لجأوا إليه.


إذن من الذي يغذي الرأي العام المناهض لإخواننا وأخواتنا السوريين؟ بمعنى آخر، ما سبب العداء لهم؟ من الواضح أنها الدولة التركية وما تمارسه من سياسة قائمة على القومية تجاه اللاجئين.


نعم، لقد كشفت الانعكاسات السلبية لهذه السياسة القائمة على القومية والموقف القمعي للحكومة ووسائل الإعلام عن أنفسهم في المجتمع خلال فترة زمنية قصيرة للغاية. إن رعاية الرأي العام المناهض لسوريا قد مهدت الطريق لترحيل إخواننا وأخواتنا السوريين. إن المواقف العدائية ضد السوريين بين الشعب، والنظرات الحاقدة التي تعبر عن "ابتعد!" وسوء المعاملة قد ازدادت بشكل كبير. كما وظهرت أعمال وحشية، والتي استهدفت حتى النساء والرضع، وتم إلقاء اللوم على السوريين تحت اتهامات وتحيزات لا أساس لها، تلتها موجة من النهب لمنازلهم وإحراقها.


يعتبر انتحار الطفل وائل السعود آخر مثال على ذلك. تشير التقارير إلى أن وائل تعرض للتخويف من زملائه في المدرسة، ووبخه المعلم في يوم انتحاره. إذا كان هذا صحيحاً، فإن انتحار هذا الطفل ليس ببساطة حالة انتحار عادية، بل هو جريمة قتل مع معرفة مرتكبيها. هؤلاء الجناة، الذين قادوا طفلاً في التاسعة من عمره إلى الانتحار، هم القوميون العنصريون الذين يكرهون وجود مسلم من جنس آخر؛ والسياسيون القوميون، الذين يحرضون باستمرار على العداء والكراهية بتصريحاتهم المعادية لسوريا ومعاداة اللاجئين، وبعض المنظمات الإعلامية، التي لا تعرف حداً عندما يتعلق الأمر بمهاجمة الإسلام.


هذه خطيئة أولئك الذين يثيرون العنصرية. إنها ذنب أولئك الذين زرعوا مفاهيم العداوة بدلاً من الأخوة. إنها معصية أولئك الذين يسعون للحفاظ على روح سايكس بيكو بدلاً من روح الأمة. باختصار، هذه هي خطيئة أولئك الذين يريدون أن يغادر السوريون.


لقد حان الوقت لأن نصبح أنصار هذا القرن، أنصار مسلمي سوريا، الذين لجأوا هرباً من المعاناة والاضطهاد التي عاشوها. اليوم هو يوم أن نصبح مثل الأنصار، الذين احتضنوا رسول الله e خلال أوقاته الصعبة، والذين نصروه e ودينه بشرف وقوة.


في حديث رواه البخاري، يقول رسول الله e: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
عبد الله إمام أوغلو

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست