دعوات للاحتجاج في بلاد الحرمين تهدف إلى إسقاط نظام آل سعود
دعوات للاحتجاج في بلاد الحرمين تهدف إلى إسقاط نظام آل سعود

الخبر:   تداول معارضون سعوديون، يتقدمهم تنظيم يدعى "ثورة بإذن الله"، دعوات إلى الاحتجاج تهدف إلى إسقاط النظام السعودي في يوم وقفة عرفة، 19 تموز/يوليو، وهو أكبر مناسبة دينية إسلامية في المملكة، وكان يتوافد إليها مئات الآلاف سنوياً لأداء فريضة الحج قبل جائحة فيروس كورونا المستجد، يذكر البيان أن الهدف من الاحتجاج هو "وقف العبث بالدين والاعتداء على شعائر الأمّة، ووضع حد لمخططات هدم هوية المجتمع"، وإطلاق سراح كل المعتقلين والمعتقلات، والتصدي لترهيب النظام وقمعه للشعب بعدما أوصل المجتمع للخوف من التعبير عن آرائه في السياسات العامة. (الإخبارية التونسية)

0:00 0:00
Speed:
July 17, 2021

دعوات للاحتجاج في بلاد الحرمين تهدف إلى إسقاط نظام آل سعود

دعوات للاحتجاج في بلاد الحرمين تهدف إلى إسقاط نظام آل سعود

الخبر:

تداول معارضون سعوديون، يتقدمهم تنظيم يدعى "ثورة بإذن الله"، دعوات إلى الاحتجاج تهدف إلى إسقاط النظام السعودي في يوم وقفة عرفة، 19 تموز/يوليو، وهو أكبر مناسبة دينية إسلامية في المملكة، وكان يتوافد إليها مئات الآلاف سنوياً لأداء فريضة الحج قبل جائحة فيروس كورونا المستجد، يذكر البيان أن الهدف من الاحتجاج هو "وقف العبث بالدين والاعتداء على شعائر الأمّة، ووضع حد لمخططات هدم هوية المجتمع"، وإطلاق سراح كل المعتقلين والمعتقلات، والتصدي لترهيب النظام وقمعه للشعب بعدما أوصل المجتمع للخوف من التعبير عن آرائه في السياسات العامة. (الإخبارية التونسية)

التعليق:

إن الأمة الإسلامية في مشارق الأرض ومغاربها تتجرع الويلات من النظام الرأسمالي القاتل والعاملين على تنفيذه في بلاد المسلمين وقد ضاقت أنفس الناس من تلك السياسات التي ينتهجها نواب الرأسمالية، فهم قد استبدلوا بنظام الإسلام (الخلافة) الذي يرعى شؤون الناس بمقتضى الأحكام الشرعية، استبدلوا به قانون الغاب وأنظمة الخراب، ينهبون ثروات الأمة ويكافئون بها أعداءها في الوقت الذي يبحث الناس فيه عن فتات يسدون به رمقهم على أبواب المنظمات، حولوهم كالأيتام على موائد اللئام!

وحكام آل سعود لا يختلفون عن بقية الحكام بل كان دورهم في ذبح الأمة الإسلامية دوراً محورياً فقد قامت دولة آل سعود على أنقاض الدولة العثمانية بدعم من الإنجليز ثم كان لهم الدور في إذكاء الحروب الطائفية بين المسلمين، يتشاركون الدور مع حكام إيران؛ الأول باسم السنة والآخر باسم الشيعة أو أهل البيت.

وفي الحقيقة أن سنة رسول الله ﷺ تبرأ من حكام آل سعود وأعمالهم القذرة، وأهل البيت عليهم السلام يبرأون إلى الله من حكام إيران العملاء.

ومهما طال الزمان فالأمة سوف تزمجر وتنقضّ على أولئك الحكام الرويبضات ولن تنفعهم أمريكا أو بريطانيا فقد شاهدوا مصير المجرمين القذافي وعلي صالح ومبارك وبن علي وقريبا نيرون الشام بشار، ولكل حاكم فيهم عبرة.

وها هي الأصوات في بلاد الحرمين تتصاعد سخطاً وغضباً على حكام آل سعود الذين خانوا الحرمين الشريفين وغدروا بأولى القبلتين، ولعل أيامهم باتت معدودة وتطهير بلاد الحرمين من رجسهم بات قاب قوسين أو أدنى بإذن الله.

ولنا كلمة ورسالة نوجهها إلى أهلنا في بلاد الحرمين:

إن ولاء سلمان وابنه محمد هو لأمريكا وقد وصلوا إلى سدة الحكم بعد قادة كان ولاؤهم لبريطانيا، ولكي يجعلوا النفوذ يخدم أمريكا عملوا على تصفية الوسط السياسي السابق الذي كان يخدم نفوذ بريطانيا إلى وسط يخدم نفوذ أمريكا.

وعلى أهلنا في الحجاز أن يعوا أن عملاء الإنجليز ساخطون على عملاء أمريكا وسوف يستغلون حراككم ويركبون الموجة إن سمحتم لهم بذلك وسيعاد إنتاج النظام المجرم ولو بوجوه جديده فاحذروهم واحذروا كل من له علاقة بحكام آل سعود سواء أكانت العلاقة سابقة أو لاحقة، وما دمتم تنوون ثورة تقتلع الظلم فاجعلوها لله ولتحكيم شرعه بإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

يا أهلنا في بلاد نجد والحجاز: لقد ارتكب حكام آل سعود جريمة في حق الأمة الإسلامية وحاربوا الدولة العثمانية تعاونا مع الكفار فهدموها ومزقوا المسلمين إلى دويلات هزيلة، أفلا يكون لكم شرف إعادة الحكم بما أنزل الله بإقامة دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة ثم بها يعود المسلمون أمة واحدة تحت راية واحدة وبقيادة خليفة واحد؟ ألا إن سلعة الله غالية فاجعلوها لله لا لرغيف خبز، إن الأرض التي يوارى فيها جثمان خير البرية حرام على أهلها أن يقبلوا بنظام لا يطبق شرعته، وإن أرضاً انطلقت منها دعوة هدى ونور بددت ظلمات الجاهلية الأولى حري بأهلها أن يكونوا هم السباقين لتبديد ظلام الجاهلية الأخرى، وإن أرضاً بدأ فيها الدين غريباً ثم عم أصقاع الدنيا حري بها أن تخرج الدين من غربته الثانية فيفلح أهلها بخير الدنيا والآخرة فكونوا أهلا لها.

وإن حزب التحرير قد أعد مشروع دستور دولة الخلافة استنبطه من كتاب الله وسنة رسوله فيه كل ما يتعلق بأجهزة الدولة من نظام حكم ونظام اقتصادي واجتماعي وغيره فلا تبحثوا عن دساتير وضعية، ما عليكم سوى اقتلاع النظام المجرم وإرساء قواعد حكم الإسلام واعلموا بأن أية حلول تأتي من الغرب لن تزيدكم إلا ظلما ودمارا، ولكم في بقية البلدان عبرة فلا تركنوا إلى الذين ظلموا واعلموا بأن الله ينصر من يستمسك بحبله ولو أجمع كل من في الأرض على حربه، والخلافة الراشدة على منهاج النبوة هي بشرى نبيكم ووعد ربكم فلا تستحوا من ذكر اسمها والهتاف بعودتها على منهاج النبوة كما كانت في عهد الخلفاء الراشدين ولعل وعد الله يتحقق على أيديكم.

قال تعالى: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. أحمد كباس – ولاية اليمن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست