دبلوماسية الذل في زمن الهوان
دبلوماسية الذل في زمن الهوان

انعقدت جلسة خاصة للمجلس الوطني الانتقالي السوداني بخصوص رفع العقوبات عن السودان وقد بارك المجلس قرار رفع العقوبات عن السودان وثمن جهود الحكومة والدبلوماسية السودانية لجهودها التي أدت إلى رفع العقوبات عن السودان. وقد ابتدر الحديث البروفيسور إبراهيم أحمد عمر في تلك الجلسة الخاصة بالقرار الأمريكي مباركا، ومؤيدا لقيادة البلاد ولكسبها ود الأصدقاء وللدبلوماسية السودانية والدور الذي قامت به. مؤملا مواصلة جهودها لرفع اسم السودان من قائمة (الدول الراعية للإرهاب) وقضية المحكمة الجنائية الدولية. وتابع قائلا: (لا خير فينا إن لم نستفد من دروس الحياة ولا بركة فينا إن تخلينا عن هدي السماء).

0:00 0:00
Speed:
October 13, 2017

دبلوماسية الذل في زمن الهوان

دبلوماسية الذل في زمن الهوان

الخبر:

انعقدت جلسة خاصة للمجلس الوطني الانتقالي السوداني بخصوص رفع العقوبات عن السودان وقد بارك المجلس قرار رفع العقوبات عن السودان وثمن جهود الحكومة والدبلوماسية السودانية لجهودها التي أدت إلى رفع العقوبات عن السودان.

وقد ابتدر الحديث البروفيسور إبراهيم أحمد عمر في تلك الجلسة الخاصة بالقرار الأمريكي مباركا، ومؤيدا لقيادة البلاد ولكسبها ود الأصدقاء وللدبلوماسية السودانية والدور الذي قامت به. مؤملا مواصلة جهودها لرفع اسم السودان من قائمة (الدول الراعية للإرهاب) وقضية المحكمة الجنائية الدولية. وتابع قائلا: (لا خير فينا إن لم نستفد من دروس الحياة ولا بركة فينا إن تخلينا عن هدي السماء).

التعليق:

أود أن أعلق على ثلاث نقاط وردت في حديث رئيس المجلس الوطني:

النقطة الأولى، وصفه لأمريكا بأنها صديقة. والنقطة الثانية، ثناؤه على الحكومة وعلى الدبلوماسية السودانية وما حققته من نتائج. وأخيرا مسألة التخلي عن هدي السماء.

إنه لمن السخرية أن نسمع أحد المسلمين يتكلم عن صداقة أمريكا، بعد كل التصريحات العدائية التي تصم آذاننا صباحا ومساء من المسؤولين الأمريكيين وإهاناتهم التي يوجهونها للإسلام والمسلمين وعلى رأسهم الرئيس الأمريكي ترامب. أما ما يجري على الأرض من قتل وتدمير وتشريد في بلاد المسلمين فإنه يكذب الذين يحاولون مداراة عداوتهم. فهل بعد ذلك من عذر أن يصف أحدهم أمريكا بأنها صديقة، سيما إن كان من المسؤلين في حكومة السودان التي ملأت الدنيا نعيقا بالشعارات المعادية لأمريكا من جنس (الأمريكان ليكم تسلحنا) و(لن نذل ولن نهان ولن نطيع أمريكان) و(أمريكا قد دنا عذابها) وما إلى ذلك من الشعارات التي ما لبثت أن تبدلت بين عشية وضحاها إلى (أمريكا صديقتنا) و(ترامب ود خالتنا كما قال أحد المغنين)!!

من المعلوم بدهة أن العملية الدبلوماسية الناجحة تعني تحقيق أكبر مكاسب بلا ثمن أو بأقل التكاليف. ويستحضرني في هذا المقام ما جرى أيام الحقبة السوفيتية وبعد أن نصبت أمريكا صورايخها في تركيا مما جعل موسكو عاصمة الاتحاد السوفيتي تحت مرمى نيرانها، وبذلك استطاعت أن تضعف مواقف الاتحاد السوفيتي التفاوضية. وهنا تجلت مهارة الدبلوماسية السوفيتية التي دخلت في سباق ماراثوني تفاوضي مكن به الحكومة السوفيتية من نشر صواريخهم في كوبا التي جعلت واشنطن عاصمة أمريكا تحت رحمتها. وبذلك انتهى التفاوض بسحب كل بلد لصواريخه وعدّت الأزمة السوفيتية دون أن تقدم أي تنازل. وحق للشعب السوفيتي في حينها أن يفخر بحكومته وبدبلوماسيتها.

أما إذا ما انتقلنا إلى الحالة السودانية وما جرى من أعمال بعد فرض الحظر الأمريكي على السودان وتتبعنا تصريحات المسؤولين في هذا الشأن، فها هو رأس الدبلوماسية السودانية الدكتور إبراهيم غندور وزير الخارجية يقول: (نحن مستمرون في التعاون مع الولايات المتحدة على المستوي الثنائي بين المؤسسات المتناظرة، مثلا بين أجهزة المخابرات أو وزارة الخارجية في كل من البلدين). وأضاف غندور أن بلاده أدت ما عليها وليس لديها ما تقدمه أو تضيفه بشأن المسارات الخمسة. ومن بين هذه المسارات تعاون الخرطوم مع واشنطن في مكافحة (الإرهاب)، والمساهمة في تحقيق السلام في دولة جنوب السودان، إضافة للشأن الإنساني المتمثل في إيصال المساعدات إلى المتضررين من النزاعات المسلحة في السودان. وفي سياق متصل ذكر وزير الدفاع السوداني الفريق ركن عوض محمد بن عوف أن هنالك تقدماً في العلاقات بين بلاده وأمريكا سيما التعاون الأمني والعسكري.

أما في اللقاء الذي أجرته صحيفة واشنطن تايمز مع سفير السودان لدى أمريكا معاوية عثمان خالد فقد ذكر أن بلاده سبق وأن سلمت معلومات مهمة لأجهزة الأمن الأمريكية الحليفة بشأن أنشطة تنظيم الدولة في ليبيا ومصر والصومال وغيرها في شمال أفريقيا. وقال خالد: (نظرا لما يتمتع به السودان من أدوار قيادية في أجهزة الاستخبارات بشرق ووسط أفريقيا - التنسيق في تنفيذ عمليات مكافحة (الإرهاب) على نطاق أفريقيا مع نظرائهم الفرنسيين والإيطاليين والأمريكيين) وأضاف خالد أن السودان سيكون لاعبا إقليميا حاسما في جهود كبح تنظيم الدولة، وقال إن دور بلاده غير محدود ومن الممكن توسيعه في شتى المجالات والمهمات. هذا وفي الصعيد الأمني ذكر الفريق حنفي عبد الله أن مكاتب المخابرات الأمريكية (سي آي إيه) بالخرطوم من أكبر المكاتب الموجودة في الشرق الأوسط وذلك في حديثه لصحيفة السوداني، ويرى حنفي أن التعاون الاستخباراتي بين الخرطوم وواشنطن بدأ منذ العام 1999م. وفي السياق الأمني أيضا يقول السفير عبد الله لصحيفة الصيحة إن التعاون الأمني والعسكري هو المهم بالنسبة لواشنطن، مضيفا بأن الأولوية في الأجندة الأمريكية في التعاطي مع السودان هي التعاون الأمني والعسكري مع السودان أكثر من التعاون الدبلوماسي.

هل بعد كل ما سردناه من تصريحات صادرة عن مسؤولين في الدول وكل ما قامت به حكومة السودان على أرض الواقع يمكن أن نصف هذا العمل بأنه عمل دبلوماسي دعك من أن يكون ناجحا أو غير ناجح؟! أم مجرد تنفيذ لأوامر صادرة من الإدارة الأمريكية تتزلف وتتقرب به الحكومة لأمريكا كي تعينها على الاستمرار في الحكم؟!

أما النقطة الأخيرة والتي ذكرها رئيس البرلمان على استحياء محاولا إيهام الناس بأن الحكومة متمسكة بهدي السماء، فإن الرد عليها لا يعدو جملة واحدة ذكرها الرئيس في آذار/مارس 2009م حينما قال: (إذا أمريكا رضيت عنا فهذا معناه أننا فارقنا الشرعة والدين). فها أنتم تتبجحون بأن أمريكا صديقتكم فهل إلى هدي السماء عندكم من مقام؟!

قد يقول قائل إن السودان ليس بمقام الاتحاد السوفيتي كي يتسنى له الوقوف في وجه أمريكا، هذا صحيح والذي صنع السودان وصنع الدولة وجميع الدول القطرية القائمة في العالم الإسلامي إنما صنعها كي تظل عاجزة عن الوقوف في وجه الدول الطامعة وأن تظل في حالة ضعف وهوان. ولكن الله اختار لنا أن نكون خير أمة أخرجت للناس، فلماذا نفضل اختيار سايكس بيكو على اختيار ربنا؟! ولماذا نرضى بالدنية في ديننا ودنيانا؟!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

حسب الله النور – أبو معاذ

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست