ضمّ المتحدث السابق باسم حركة الشباب إلى الحكومة الديمقراطية في الصومال
ضمّ المتحدث السابق باسم حركة الشباب إلى الحكومة الديمقراطية في الصومال

الخبر:   تمّ تعيين المؤسس المشارك والمتحدث السابق باسم حركة الشباب المجاهدين، مختار روبو وزيرا للشؤون الدينية من قبل رئيس وزراء الصومال. وقال المحلل السياسي محمد محمود "نرحب بتعيينه. هذه الخطوة ستدفع المصالحة وستكون مثالاً جيداً لمزيد من انشقاقات الشباب على مستوى عال". (رويترز)

0:00 0:00
Speed:
August 24, 2022

ضمّ المتحدث السابق باسم حركة الشباب إلى الحكومة الديمقراطية في الصومال

ضمّ المتحدث السابق باسم حركة الشباب إلى الحكومة الديمقراطية في الصومال

(مترجم)

الخبر:

تمّ تعيين المؤسس المشارك والمتحدث السابق باسم حركة الشباب المجاهدين، مختار روبو وزيرا للشؤون الدينية من قبل رئيس وزراء الصومال. وقال المحلل السياسي محمد محمود "نرحب بتعيينه. هذه الخطوة ستدفع المصالحة وستكون مثالاً جيداً لمزيد من انشقاقات الشباب على مستوى عال". (رويترز)

التعليق:

يُعد إدراج المتحدث السابق باسم حركة الشباب في حكومة ديمقراطية، تطوراً حديثاً في الواقع السياسي في الصومال. كانت عين الغرب على أفريقيا في زمن الاستعمار ولم تكن الصومال استثناءً بسبب موقعها الاستراتيجي الذي يعد جزءاً من القرن الأفريقي. جعلت أمريكا معقلها في هذه المنطقة من خلال الانقلاب العسكري للجنرال سياد بري عام 1969. جاءت العشائر، وجاء أمراء الحرب، وواجه المسلحون جميعاً الديكتاتور سياد بري وأصبحت هذه الأرض مسرحاً للحرب منذ عام 1991. ثم أرسلت الولايات المتحدة جيشها بحجة المساعدات الإنسانية وشكلت حكومة انتقالية عميلة عام 2004. وبحلول ذلك الوقت، كان شعب الصومال يتجمع حول اتحاد المحاكم الإسلامية. لقد رأوا في اتحاد المحاكم الإسلامية علاجاً لمعاناتهم، فسيطر اتحاد المحاكم الإسلامية على معظم الأراضي الصومالية في عام 2006. وهذه المرة استخدمت أمريكا إثيوبيا لشن الحرب وقسمت اتحاد المحاكم الإسلامية إلى شظايا. فقد تشكلت حركة الشباب من فصائل جيبوتي وأسمرة عام 2006 بنية صافية هي الجهاد ضد الولايات المتحدة وإرساء الشريعة في الصومال. مختار روبو أبو منصور، أحد الأعضاء المؤسسين والمتحدث باسم حركة المقاومة المسلحة "الشباب"، كان لديه 5 ملايين دولار على رأسه، ثم بعد انشقاقه وإقامته الجبرية، في حزيران/يونيو 2017، سحبت الولايات المتحدة مبلغ الـ5 ملايين دولار، وعرضت مكافأة للقبض على أبي منصور.

بعد الانشقاق، استسلم مختار روبو للقوة الحكومية في عام 2017، وظل رهن الإقامة الجبرية، وفي عام 2022 أصبح الآن مدرجاً في الوزارة بمنصب وزير الشؤون الدينية، وبهذه الخطوة تحاول أمريكا والحكومة الدمية إغراء المزيد من الانشقاقات عن الحركة، ما يؤدي إلى إضعاف الحركة ومحاولة تفكيكها بهجوم بعد إضعافها.

إن الافتقار إلى الفهم السياسي لواقع الكفار ومخططاتهم ومؤامراتهم، وغياب الفهم المبدئي للإسلام وعدم وضوح المنهجية لتأسيس الشريعة، من شأنه أن يؤدي بالقادة والحركات إلى أن يصبحوا ضحايا للمخططات الوحشية للمستعمرين الكافرين. عندما ينجذب المسلمون إلى نظام الغرب، أي الديمقراطية، لن يتمكنوا أبداً من تحقيق ما يتوقعه الإسلام، بل إن المخرجات التي يتم تحقيقها هي نتائج محدودة مسموح بها في الإطار الديمقراطي.

إن مختار روبو الذي كان له تاريخ جهادي مذهل من خلال مشاركته في الحروب في أفغانستان وضد إثيوبيا، استخدمت الولايات المتحدة وجهه الإسلامي للسيطرة على الأرض حيث كان له نفوذه وكان ذلك من خلال المفاوضات معه وجعله خاضعاً هنا. كانت هناك عدة حركات انتفضت ضد الظلم ولم تستطع الاستمرار في خارطة الطريق، بل سقطت في ضغوط ومكائد الكفار. يذكر الشيخ تقي الدين النبهاني رحمه الله في كتاب "التكتل الحزبي" أن أحد العوامل التي جعلت الحركات غير قادرة على النجاح في النهضة هو: "أنها كانت تعتمد على أشخاص لم يكتمل فيهم الوعي الصحيح، ولم تتمركز لديهم الإرادة الصحيحة، بل كانوا أشخاصاً عندهم الرغبة والحماس فقط".

الحروب الأهلية وأمراء الحرب والأجساد النحيلة والمجاعة؛ هذه هي الصور التي تظهر في أذهاننا عندما نسمع اسم الصومال، ولكن في الحقيقة هذه الأرض فيها موارد بحرية هائلة وهي غنية جداً باليورانيوم والغاز الطبيعي والنفط التي تنهبها باستمرار القوى العظمى. هذه هي الأرض التي وصل إليها الإسلام في عهد النبي ﷺ، وهي الأرض التي رعت أصحابه الذين هاجروا أولاً من مكة. ذكر ابن بطوطة في كتابه أن "مقديشو مدينة كبيرة وضخمة للغاية، وسكانها تجار أغنياء ويذبحون مئات الجمال كل يوم". كانت هذه هي الشهرة التي كان يتمتع بها هذا المكان في التاريخ أثناء حكم الإسلام. فقط من خلال إقامة الشريعة من خلال الخلافة الراشدة، سيتم التعامل مع هذا المكان في كل جانب من جوانب الحياة في ظل سيادة الله سبحانه وتعالى، وسيتم استعادة مجد الصومال الماضي، وسيتم تقييم حياة إخواننا وأخواتنا هناك.

الابتعاد عن الحركة الإسلامية والتوافق مع النظام الديمقراطي الغربي مع منصب وزاري ديني لن يخاطب أبداً قضايا الناس ولن يحل قضايا المجتمع بطريقة إسلامية، بل يركزون بشكل منهجي على العلمانية ويقصرون دور الإسلام في مجرد طقوس فردية وممارسات أخلاقية وليس أكثر من ذلك. وهذا ما يريده الغرب من المسلمين وهذا ما حذر الله منه في آياته ﴿وَلَن تَرْضَى عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ﴾.

وفق الله هذه الأمة وثبتها على الحق دون مساومة حتى يتحقق وعده سبحانه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد بن شمس الدين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست