ریاست یہود کی جانب سے قطر پر حملہ اور اس کا ردعمل
خبر:
مختلف ذرائع ابلاغ نے 9/9/2025 کی تاریخ کو ریاست یہود کی جانب سے دوحہ پر حملے کی خبر نشر کی ہے۔
تبصرہ:
وائٹ ہاؤس نے بیان دیا کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ برطانیہ نے کہا: ہم دوحہ پر ہونے والی بمباری کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
اسی طرح باقی ممالک بھی ریاست یہود کی جانب سے قطر پر بمباری کی مذمت اور استنکار کر رہے ہیں، جبکہ قطر کے وزیراعظم نے کہا: "اپنی سرزمین کی خود مختاری کا تحفظ ہمارے ملک کا حق ہے"، انہوں نے یہ بھی کہا: "نتن یاہو ایک سرکش آدمی ہیں"، انہوں نے کہا: "نتن یاہو جیسے شخص میں غداری فطری ہے" اور کہا: "نتن یاہو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے خطے کے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔"
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ امریکہ مجرم ریاست یہود کا ایک اساسی حامی اور شریک ہے، اور اگرچہ امریکہ بھی جرم میں اس سے کم نہیں ہے اور غزہ اور مغربی کنارے میں ہمارے اہل وطن کے خلاف ہونے والے ہر قتل عام میں اس کے ساتھ شریک ہے، اور اس کے صدر ٹرمپ کے امن اور استحکام کے بارے میں بیانات محض وقت حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ امریکہ مشرق وسطیٰ پر تسلط حاصل کرنے اور اپنے مفادات کے مطابق اسے تقسیم کرنے کے جو خواب دیکھ رہا ہے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ پس امن اور استحکام محض ایک گمراہ کن، فریب اور واضح جھوٹ ہے، اور اس بمباری کی مذمت اور استنکار کرنے والے ممالک درحقیقت اپنی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ اور قطر، تم کیا جانو کہ قطر کیا ہے! وہ خطے میں امریکہ کا دست راست ہے، تو پھر یہ کس خود مختاری کی بات کر رہے ہیں؟ اور اگر تمہارے پاس یہ خود مختاری ہے تو اس میں کیا تحفظ ہے؟!
تو کیا تم عبرت حاصل نہیں کرتے؟ کیا تم سمجھتے نہیں؟ کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟! امریکہ کو تمہاری خود مختاری، تمہارے امن اور نہ ہی تمہارے استحکام کی کوئی پرواہ ہے، کیونکہ اس کی خود غرضی اور اس کے مفادات تمام تر اقدار اور معاہدوں سے بالاتر ہیں، اور وہ ہمیشہ بحران پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور وہی "تخلیقی افراتفری" کا موجد ہے جیسا کہ ملعون بش نے عراق پر قبضے کے وقت کہا تھا، اور اسی نے بین الاقوامی معاہدوں کو توڑا، اور وہ جہاں بھی حلول کرتا ہے تباہی، بربادی اور علاقائی یا مقامی جنگیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں، اور وہی بین الاقوامی دہشت گردی کا بانی ہے۔
امریکہ کے تسلط سے نجات اس سے مکمل آزادی اور انقطاع کے بغیر ممکن نہیں ہے، اور یہ صرف اسلام کی حکمرانی کو دوبارہ قائم کرنے اور اللہ کے احکامات کی تعمیل کے لیے سنجیدہ کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی محکم کتاب میں فرماتا ہے: ﴿اے ایمان والو! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم ان سے محبت کا اظہار کرتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کا انکار کیا ہے جو تمہارے پاس آیا ہے۔﴾ اور یہ بھی فرماتا ہے: ﴿جو کوئی عزت چاہتا ہے تو عزت تو ساری اللہ ہی کے لیے ہے۔﴾ اور اسی بات کو عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: (ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے اسلام کے ذریعے عزت بخشی ہے، پس ہم جب بھی اللہ کے سوا کسی اور سے عزت طلب کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل کر دے گا)۔
اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے۔
مصطفیٰ الامین - ولایۃ العراق