دماء المدنيين الأبرياء ليست لها أدنى أهمية لدى الدول الاستعمارية الكافرة! (مترجم)
دماء المدنيين الأبرياء ليست لها أدنى أهمية لدى الدول الاستعمارية الكافرة! (مترجم)

 الخبر:   تداعيات الانفجار الذي وقع في ميدان كيزيلاي أنقرة في 13 آذار/ مارس التي أدت إلى مقتل 37 شخصا وإصابة أكثر من 100 شخص، لا تزال مستمرة. (وكالات الأنباء)

0:00 0:00
Speed:
March 26, 2016

دماء المدنيين الأبرياء ليست لها أدنى أهمية لدى الدول الاستعمارية الكافرة! (مترجم)

دماء المدنيين الأبرياء

ليست لها أدنى أهمية لدى الدول الاستعمارية الكافرة!

(مترجم)

الخبر:

تداعيات الانفجار الذي وقع في ميدان كيزيلاي أنقرة في 13 آذار/ مارس التي أدت إلى مقتل 37 شخصا وإصابة أكثر من 100 شخص، لا تزال مستمرة. (وكالات الأنباء)

التعليق:

أولا وقبل كل شيء أسأل الله سبحانه وتعالى الرحمة والمغفرة لمن فقدوا أرواحهم، والشفاء العاجل للجرحى والصبر لعائلاتهم.

خلال الهجمات الثلاث الأخيرة في أنقرة في الأشهر الستة الماضية، فقد العشرات من الناس حياتهم وجرح مئات آخرون. وكالمعتاد، أعلن بيان صادر عن مسؤولين حكوميين على خلفية الهجمات الأخيرة الاستمرار بكل عزم في العمليات ضد المنظمات الإرهابية. وكما هي العادة؛ حملت بيانات الأحزاب المعارضة الحكومة المسؤولية عن هذا الهجوم. وقد استخدمنا العبارات التالية بشكل دقيق في مقالنا السابق: ما دام هذا النظام الديمقراطي الرأسمالي مستمرا، فإن مثل هذه الهجمات لن تكون الأولى ولا الأخيرة! عند هذه النقطة التي وصلنا إليها الآن نتمنى لو كنا قد أخطأنا. ولكن للأسف، فقد وقعت هذه الهجمات ويبدو أنها سوف تستمر. ونتيجة لذلك، فإنه من المستحيل علاج هذا المرض ما لم يتم تشخيصه بشكل صحيح. لأن السبب الحقيقي للفساد والإرهاب يكمن في النظام الديمقراطي الذي يتم تطبيقه.

أولا وقبل كل شيء، من الواضح جدا أن دول الكفار الاستعمارية هي من تقف وراء مثل هذه الهجمات. وهكذا، فإن أي منشورات للإدانة أو رسائل تعزية من قبل الدول الاستعمارية حول الهجوم الأخير، وكذلك تلك التي صدرت بعد الهجمات السابقة مباشرة، هي بعيدة كل البعد عن الصدق، لأن الإرهابيين والجناة الحقيقيين هم تلك الدول الاستعمارية. ويجب أن نعطي اهتماما خاصا بأمريكا وإنجلترا. فكلتا الدولتين تستطيع أن تكسب من مثل هذه الهجمات. كلتا الدولتين تقاتلان من أجل مصالحهما الخاصة. هذه الدول ليس لديها أدنى اهتمام بدماء الأبرياء. ومن اللافت جدا أن السفارة الأمريكية قد حذرت رعاياها قبل يومين فقط من الهجمات!

وذكر زعيم حزب العمال الكردستاني في قنديل، مصطفى كاراسو، في مقال كتبه لصحيفة الحق بعد هجوم أنقرة، أن هذا الهجوم يستهدف شرطة مكافحة الشغب. بالإضافة إلى ذلك شدد على أهمية اتحادهم الذي يضم 10 منظمات تحت مسمى "حركة اتحاد الشعب". مصطفى كاراسو هو واحد من الأسماء المهمة في المنظمة، المعروف بسلوكه الإنجليزي والمقرب من زعيم حزب العمال الكردستاني الحالي جميل باييك. هذه المجموعة المؤلفة من 10 منظمات، التي أشرت إليها من قبل، تستند على العقيدة الاشتراكية وهي متطرفة نوعا ما.

إن الدولة التي تستخدم هذا النوع من المنظمات هي عادة إنجلترا. وبعبارة أخرى، فإن (القوى) الإنجليزية أو القوميين المتطرفين في تركيا قد استخدموا هذه المنظمات الهامشية من وقت لآخر كأدوات أو بيادق لتمرير أهدافهم السياسية من خلالها. ونحن نرى أمثلة من هذا في الماضي، وكذلك في الآونة الأخيرة. إلى جانب ذلك؛ ذكر زعيم حزب العمال الكردستاني جميل باييك قبيل احتفالات النيروز القادمة أن هذا النوع من الهجمات العنيفة سوف يزداد، وسيتم الانتقام من العمليات العسكرية التي تقوم بها الحكومة ضد حزب العمال الكردستاني في شرق وجنوب شرق البلاد. وفي المقابل أفاد جميل باييك في آخر مقابلة له مع صحيفة التايمز البريطانية: "نريد إسقاط أردوغان وحزب العدالة والتنمية"، وأضاف: "قبل وقت قصير كانت حربنا مع الجيش التركي في الجبال فقط، ولكننا الآن نقلنا كفاحنا المسلح إلى القرى والبلدات وسينتشر هذا الكفاح في كل مكان، في هذه الحقبة من النضال وستكون حربًا مشروعة". هذه العبارات تشير إلى أن الصراع سوف يشتد أكثر.

علاوة على ذلك؛ وبما أن أحد الجناة تمت محاكمته في قضية حزب العمال الكردستاني في السنوات الماضية، فهذا يبين أنه من المرجح أيضا أن هذا الهجوم هو من فعل منظمة حزب العمال الكردستاني. وهكذا، وبينما أنا أكتب هذه السطور، أعلنت المنظمة المعروفة باسم صقور حرية كردستان (تاك) المقربة من حزب العمال الكردستاني مسؤوليتها عن هذا الهجوم.

وبالتالي؛ إذا أرادت تركيا التخلص من هذا النوع من أعمال العنف، فإن عليها إنهاء التعاون الاستراتيجي مع الكفار الاستعماريين وتعليق كافة الاتفاقات معهم فورا. ويجب إغلاق كافة سفارات هذه الدول فورا وترحيل جميع سفرائها. خلاف ذلك، وطالما يتم الحفاظ على هذه العلاقات القذرة، فلن تكون هناك نهاية لسفك الدماء، وسوف يستمر الدم في التدفق إلى أن تقام دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يلماز تشيلك

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست