دمشق تعاني وتزداد ألماً... فطعنة الصديق أشد في ظهرها من طعنة النظام المجرم
دمشق تعاني وتزداد ألماً... فطعنة الصديق أشد في ظهرها من طعنة النظام المجرم

الخبر: الجزيرة نت- الخوف من هجمات المعارضة يُحوّل دمشق لمنطقة أمنية فـ "دمشق ما قبل آذار/مارس هذا العام ليست كدمشق ما بعده، والحياة فيها تغدو أصعب يوما تلو آخر". هذا ما يتهامس به كثير من سكان العاصمة السورية، فبعد سلسلة التفجيرات التي طالت وفودا عراقية في مقبرة باب الصغير، ومن ثم القصر العدلي ومنطقة الربوة منتصف الشهر الماضي، عمد النظام إلى تشديد قبضته فارضا المزيد من الإجراءات الأمنية...

0:00 0:00
Speed:
April 30, 2017

دمشق تعاني وتزداد ألماً... فطعنة الصديق أشد في ظهرها من طعنة النظام المجرم

دمشق تعاني وتزداد ألماً...

فطعنة الصديق أشد في ظهرها من طعنة النظام المجرم

الخبر:

الجزيرة نت- الخوف من هجمات المعارضة يُحوّل دمشق لمنطقة أمنية فـ "دمشق ما قبل آذار/مارس هذا العام ليست كدمشق ما بعده، والحياة فيها تغدو أصعب يوما تلو آخر". هذا ما يتهامس به كثير من سكان العاصمة السورية، فبعد سلسلة التفجيرات التي طالت وفودا عراقية في مقبرة باب الصغير، ومن ثم القصر العدلي ومنطقة الربوة منتصف الشهر الماضي، عمد النظام إلى تشديد قبضته فارضا المزيد من الإجراءات الأمنية... وإثر الهجوم المباغت الذي شنته الفصائل المعارضة على محور كراجات العباسيين في حي جوبر الدمشقي أواخر الشهر نفسه، ازداد تخوف النظام من تسلل مقاتلين من المناطق المحررة المتاخمة لمناطق نفوذه أو من وجود خلايا نائمة لا علم له بها، لتزداد القبضة الأمنية حدة وشراسة. ورصد ناشطون خلال الأسابيع الفائتة مجموعة من الإجراءات الجديدة وغير المسبوقة في بعض الأحيان. ولا يمكن النظر إليها بشكل منفصل عن استشعار النظام تهديدات موجهة لأهم معقل أمني له داخل بلاد فقد السيطرة على مساحات واسعة منها في السنوات الأخيرة. ففي مطلع الشهر الحالي، نشرت مجموعة "مراسل سوري" الإعلامية خبرا يفيد بقيام محافظة دمشق وبإيعاز من الأفرع الأمنية بسد فتحات الصرف الصحي في العديد من أحياء المدينة خاصة الوسط التجاري.

ورغم أن هذا الإجراء ليس جديدا حيث شهدت دمشق إجراءات مماثلة خلال السنوات الماضية بالأحياء القريبة من مناطق سيطرة المعارضة كحي الميدان جنوبا، فإن امتداد هذه العمليات لوسط دمشق التجاري كان لافتا للانتباه. أما في الأحياء الشرقية وعلى الأخص القريبة من منطقة كراجات العباسيين، مثل شارع فارس الخوري وحي التجارة وحي مساكن برزة، فقد تحدث شهود عيان للجزيرة نت عن تكثيف حملات المداهمة والتفتيش.

أما ظاهرة التفتيش الشخصي وانتشار عشرات العناصر المسؤولين عنها والتابعين للمليشيات المقاتلة إلى جانب النظام، فقد باتت مصدر إزعاج للكثيرين من سكان دمشق. وأفادت شبكة "صوت العاصمة" الإخبارية أن هذه الظاهرة ازدادت بشكل كبير بعد المعارك المباغتة التي دارت بين قوات النظام ومقاتلي المعارضة شرق المدينة، حيث انتشر عشرات الشبان والفتيات في أرجاء مختلفة منها بغرض تفتيش المارة بشكل دقيق.

وتقول "صوت العاصمة" إن هؤلاء العناصر يوجدون على الخصوص بمحيط المدينة القديمة، حيث يتمركزون انطلاقا من القصر العدلي وصولا لسوق الحميدية، وقرب ساحة الجامع الأموي، إضافة لمداخل الشوارع المؤدية لمقام السيدة رقية، بالإضافة لمنطقة ساروجة التي تقف على مداخلها دوريات مؤلفة من شاب وفتاة بغرض التفتيش. الشبكة ذاتها رصدت انتشار دوريات على أبواب بعض المساجد أثناء صلاة الجمعة لتفتيش الداخلين والخارجين والتدقيق بهوياتهم "وهو إجراء غير روتيني في دمشق".

سيدة أربعينية تدعى جمانة ترى في الإجراءات الأمنية المشددة بدمشق إرهابا لسكانها، وخاصة الإجراءات المتعلقة بالتفتيش الشخصي التي تهدف لفرض شعور دائم بالخوف والقلق داخلهم. وتشير جمانة في حديثها للجزيرة نت إلى تعرضها لتفتيش دقيق للغاية على مدخل القصر العدلي أثناء إنجازها لبعض المعاملات الرسمية هناك "وهو تفتيش يتم بطريقة وحركات مهينة في بعض الأحيان من قبل فتيات مجندات".

ولا ترى جمانة أن هذه الإجراءات ستساهم في تحسين الوضع الأمني داخل المدينة، وتقول "رغم القبضة الأمنية شديدة الإحكام، لا يزال مقاتلو المعارضة قادرين على اختراقها في أوقات غير متوقعة!

التعليق:

"اكذب اكذب اكذب حتى يصدقوك"، هذه عبارة المجرم الأكبر في سوريا في أول خطاب ألقاه عام 2011 إبان انطلاقة الشرارة الأولى لثورة الشام المباركة ضد طغيان آل الأسد ونظامه المجرم المؤيد بقوة لا مثيل لها من المخابرات الأمريكية والتي نبه حزب التحرير كل الفصائل وقتها لضرورة قطع الحبال مع كل الدول التي ترقص على مزمار أمريكا لأنها ستقوم بإطالة عمر النظام وبإدخال فصائل الثورة في متاهات لا يخرجون منها إلا بعد إنهاكهم أو اقتتالهم أو ضياعهم! وهذا ما كان بالفعل.

الكذب في نقل أخبار الثورة عامة والحديث عن أحوال دمشق خاصة وحالة طغيان النظام فيها لم يعد ديدن رأس النظام وأتباعه من تلاميذ إبليس فقط بل صار منهجاً يتبعه كل من يخرج على أية وسيلة إعلامية داخلية، فينقل أكاذيب عن أمن وأمان وحالة من الهدوء والاطمئنان... خيالية! والمصيبة ليست في هؤلاء بل فيمن يصدق هذه الترهات! فيا سبحان الله هل نسي هؤلاء "المصدقون" أن سوريا منذ عهد المجرم الأكبر حافظ وهي تعيش في نفق مظلم ملؤه الإرهاب والظلم فلا أمان ولا طمأنينة فيها لأحد؟! وعلى سبيل المثال لا الحصر - وأنقل هذا كشاهد عيان - إن ما يقوم به كيان يهود هذه الأيام من قتل للصبيان وللفتيات بحجج واهية، كنا نراه بأعيننا من أجهزة الأسد في الثمانينات والتسعينات! فهل كنا نعيش بأمان دون أن نعلم؟!!

إن ما يدمي القلوب ليست هذه الأوضاع، ذلك أننا لا ننتظر من المجرم إلا المزيد من سفك الدماء، بل هدوء الجيوش المدججة بالأسلحة والعتاد المحيطة بدمشق لمن سموا أنفسهم "مجاهدين" وهم يتفرجون على أعراضهم تنتهك وعلى نسائهم تُعرّى بحجة الضرورات الأمنية، ولآبائهم يُصفعون على وجوههم لأنهم اعترضوا على الذل المحيط بهم! هؤلاء ما بالهم؟ هل جفت الرجولة من دمائهم؟ بل تراهم ينظرون لطائرات مليئة بأسلحة وعتاد ومرتزقة تهبط يومياً لتفرغ حمولتها في مطار دمشق بكل أمان، ولا يطلقون عليها رصاصة واحدة تفزعهم أو تفرقهم ذلك أن قلوبهم غُلف تفزع من صرخة المجاهد، لأنهم يحسبون كل صرخة عليهم!

نعم إن دمشق ابن الوليد وأبي عبيدة، دمشق أسامة بن زيد وابن عساكر والعز بن عبد السلام تشكو إلى الله هذه الجيوش التي تُعلَف بدولارات "إزالة النخوة" وتُحقن بمصل المناعة ضد إغاثة الملهوف ونجدة بنات المسلمين. فيا جنوداً لم يعد القتال لنصرة ثورة يتيمة هو هدفكم، اكسروا أسلحتكم واذهبوا لتحتطبوا فوالله هذا أشرف لرجولتكم (أو ما تبقّى منها) وأكرم لكم بعد عار ما زلتم تجلبونه لآبائكم ولأهليكم.

وصدق الله العظيم حين يقول: ﴿وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ، وما أراكم إلا توليتم وأصررتم على ذلك إلا من رحم ربي.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس هشام البابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست