دوران ترامب الدراماتيكي للخلف (مترجم)
دوران ترامب الدراماتيكي للخلف (مترجم)

الخبر: في الثاني عشر من نيسان/أبريل 2017، عكس الرئيس الأمريكي دونالد ترامب موقفه من عدد من القضايا السياسية الخارجية، التي كان قد انتُخب من أجلها بالفعل. وقد قدّم ترامب نفسه على أنه مناهض للمؤسسة الحالية وبأنه شخص يمثل السكان الأمريكيين الحقيقيين الذين فقدوا وظائفهم في الصين والذين أهملتهم النخبة السياسية. حوى كلامه المنمّق بأنه جزء من الحق البديل الذي يُعتقد بأن القومية جاءت قبل العولمة وبأن فك ارتباط الدخل الأمريكي يأتي قبل الاحتياجات إلى الفوائد الخارجية للشركات الأمريكية. وفي الثاني عشر من نيسان/أبريل، ترك ترامب أربعة من وعود حملته الرئاسية، ما يجعل من ذلك بشكل أكيد رقما قياسيا.

0:00 0:00
Speed:
April 17, 2017

دوران ترامب الدراماتيكي للخلف (مترجم)

دوران ترامب الدراماتيكي للخلف

(مترجم)

الخبر:

في الثاني عشر من نيسان/أبريل 2017، عكس الرئيس الأمريكي دونالد ترامب موقفه من عدد من القضايا السياسية الخارجية، التي كان قد انتُخب من أجلها بالفعل. وقد قدّم ترامب نفسه على أنه مناهض للمؤسسة الحالية وبأنه شخص يمثل السكان الأمريكيين الحقيقيين الذين فقدوا وظائفهم في الصين والذين أهملتهم النخبة السياسية. حوى كلامه المنمّق بأنه جزء من الحق البديل الذي يُعتقد بأن القومية جاءت قبل العولمة وبأن فك ارتباط الدخل الأمريكي يأتي قبل الاحتياجات إلى الفوائد الخارجية للشركات الأمريكية. وفي الثاني عشر من نيسان/أبريل، ترك ترامب أربعة من وعود حملته الرئاسية، ما يجعل من ذلك بشكل أكيد رقما قياسيا.

التعليق:

أدلى ترامب بكثير من التصريحات التي تدعم روسيا وذلك خلال حملته التي اعتبر الكثيرون أن يكون لروسيا تأثير على نتائج الانتخابات الرئاسية فيها. وقد أشاد ترامب بقدرات الحكم التي يتمتع بها فلاديمير بوتين، وذكر في أكثر من مناسبة بأنه ينسجم وبوتين. وعندما أعلن ترامب تعيين ريكس تيلرسون في منصب وزير الخارجية الأمريكي الذي كان في ذلك الوقت رئيس مجلس إدارة شركة إكسون موبيل النفطية، وكانت لديه عقود كبيرة في روسيا، وضع ترامب نفسه كشخص قادر على العمل والتعامل مع روسيا. ولكن في الثاني عشر من نيسان/أبريل قال ترامب: "لسنا على وفاق مع روسيا على الإطلاق، قد نكون في أدنى مستوى على الإطلاق من العلاقات مع روسيا". (فوكس نيوز) لطالما كان مقترح فكرة أن تصبح روسيا وأمريكا حليفتين كذبة، لكنها خدمت ترامب جيدا في الدخول إلى البيت الأبيض. أما بالنسبة لأمريكا، فإن القوة القارية تمثل تحديا مباشرا لموقفها في العالم، وهو أمر تعرفه أمريكا جيدا من معركتها الطويلة مع الاتحاد الأوروبي والتي استمرت لعقود.

وفي حين إن روسيا اليوم ليست الاتحاد السوفيتي، إلا أنها لا تزال تسعى لتوسيع نفوذها خارج حدودها. كل من روسيا والاتحاد الأوروبي يمكنهما أن تكونا قوتين قاريتين وبالنسبة لأمريكا فإنها لا تريد أن ترى إحداهما تسيطر على الأخرى. تحتاج أمريكا إلى إبقاء قوة روسيا وأوروبا تحت المراقبة، والطريقة الفعالة للقيام بذلك تنطوي على تركهما يواجهان بعضهما بعضا. لذلك فإن ما هو جيد بالنسبة لأمريكا هو عكس ذلك بالنسبة لروسيا ولا يوجد حل وسط يوصل إلى تسوية. تصريحات ترامب الحالية تتفق تماما مع الواقع على الأرض؛ الصراع المتأصل على المصالح الاستراتيجية بين أمريكا وروسيا.

كان انتقاد الصين محوريا خلال محاولة ترامب الوصول إلى الرئاسة. وقد انتقد الصين لتلاعبها بعملتها واستخدامها ممارسات تجارية غير عادلة. ترامب كان عدوانيا للغاية تجاه الصين وجعل من ذلك دعامة أساسية لحملته الانتخابية ووعد بتصحيح هذا الخلل بمجرد دخوله مكتب الرئاسة. هذه هي الأسباب التي جعلت من القمة التي عقدت بين دونالد ترامب ورئيس الصين شي جين بينغ في السادس والسابع من نيسان/أبريل أمرا ذا أهمية. وقد اختتمت القمة بعبارات ودية حول التفاهم والاحترام المتبادلين بما في ذلك الاهتمام المشترك بما وصفه وزير الخزانة الأمريكي ستيفن منوشين بأنه "ضرورة الوصول إلى مناخ تجاري أكثر توازنا". (بريتبارت)، بيد أن ذلك يظهر بأن ترامب لن يُتابع الآن من خلال أي من هذه التعهدات الانتخابية. وقد كشف ترامب الآن بأن أمريكا ستقدم صفقة تجارية جيدة للصين مقابل مساعدة كوريا الشمالية وعدم اعتبار الصين مناورة بالعملة. (إن بي سي نيوز). ومن المرجح جدا أن تمكُّن كوريا الشمالية الوشيك من دمج رأس حربي نووي بصاروخ متوسط المدى قد دفع باتجاه هذا التغير في الموقف.

وصرح ترامب أثناء حملته للبيت الأبيض بأن الناتو قد عفا عليه الزمن مشيرا إلى أن أمريكا تدفع الكثير لضمان أمن الحلفاء قائلا: "الناتو يكلفنا ثروة، ونعم، نحن نحمي أوروبا مع منظمة حلف شمال الأطلسي، لكننا ننفق الكثير من المال". (آر فيري) والآن من الواضح تماما بأن الخطاب الذي يفهم منه تخلي أمريكا عن حلف الناتو كان مجرد حديث أجوف للحملة. ففي 12 نيسان/أبريل صرح ترامب الذي كان يقف إلى جانب الأمين العام لمنظمة حلف شمال الأطلسي جينز ستولتنبرغ بما عكس انطباعا قاطعا لديه عن حلف الناتو قائلا: "قلت سابقا إن الناتو قد عفا عليه الزمن لكنه لم يعد كذلك الآن". (واشنطن بوست). وقد كان تصريح ترامب بمثابة تهديد للدول الأوروبية لإرسال رسالة مفادها بأن واشنطن ستركز على العلاقات الثنائية أكثر من تركيزها على الناتو. ومع ذلك، فإن أولئك الذين يشتركون في التعددية والعالمية في مؤسسة السياسة الأمريكية هم من دفعوا باتجاه هذا التغيير.

وبالمثل، فقد قال ترامب بأن أمريكا ستغادر "نافتا" (اتفاقية التجارة الحرة لأمريكا الشمالية) كونها تكلف الوظائف الأمريكية وبأنه سيبدأ في بناء جدار حدودي لوقف الدخول غير الشرعي للمكسيكيين إلى أمريكا. إلا أن ترامب خفض من نبرة تصريحه بمغادرة "نافتا" إلى مراجعة الاتفاق الحالي معها. كما أن الجدار الذي أعلن عنه ليس قريبا من بداية بنائه حتى، ولا بد ابتداء من حصوله على تمويل من الكونغرس كما أنه يواجه فعليا دعوى واحدة ضده على الأقل.

يعمل الرؤساء الأمريكيون في عالم من القيود والقوانين على الرغم من خطاباتهم التي تعكس خلاف ذلك. وفي حالة ترامب، فإنه يواجه حقيقة أكثر إشكالية بسبب المواقف المتطرفة التي اتخذها خلال حملته الانتخابية. ترامب في الحقيقة رئيس ضعيف خسر التصويت الشعبي ويفتقر إلى دعم واسع من الحزب الجمهوري. ووفقا لتصنيف غالوب، فإن نسبة تأييده تبلغ 41%، ما يعتبر أقل معدل حصل عليه رئيس بعد فترة قصيرة من تنصيبه. هذا وقد فاز ترامب بمنصبه بإظهاره نفسه على أنه انعزالي راديكالي، لكن مثل هذا الموقف المتطرف حصل على تأييد أولئك الذين يشكل دعمهم ضرورة للوصول إلى الحكم. هذا السبب هو ما جعل ترامب يلجأ الآن لتغيير موقفه من القضايا الرئيسية على أمل الحصول على الدعم. وكباقي الرؤساء السابقين، فإن الواقع جعل من وعود الحملة أمرا عفا عليه الزمن.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عدنان خان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست