فاسدون مقصرون وجب خلعُهم
فاسدون مقصرون وجب خلعُهم

الخبر:   ارتفعت حصيلة ضحايا السيول والأمطار الغزيرة التي تعرض لها الأردن، مساء الجمعة، إلى 12 شخصاً، وفق ما أعلن الدفاع المدني ومصادر رسمية السبت. وقال المتحدث باسم الدفاع المدني إياد العمرو لفرانس برس، إن "عدد ضحايا الأحوال الجوية السائدة والسيول ارتفع إلى 12 حالة وفاة، بينهم أحد غطاسي كوادر الدفاع المدني". وعُزل 93 شخصاً و71 مركبة جنوب العاصمة السعودية الرياض؛ جراء أمطار غزيرة اجتاحت المنطقة، وأغرقت مياه الأمطار، وفق مقاطع فيديو تداولها نشطاء التواصل، مطار الملك خالد الدولي في الرياض، وألحقت أضراراً بسقفه، كما أغرقت أيضاً إحدى صالات القدوم. (مصادر إعلامية)

0:00 0:00
Speed:
November 12, 2018

فاسدون مقصرون وجب خلعُهم

فاسدون مقصرون وجب خلعُهم

الخبر:

ارتفعت حصيلة ضحايا السيول والأمطار الغزيرة التي تعرض لها الأردن، مساء الجمعة، إلى 12 شخصاً، وفق ما أعلن الدفاع المدني ومصادر رسمية السبت. وقال المتحدث باسم الدفاع المدني إياد العمرو لفرانس برس، إن "عدد ضحايا الأحوال الجوية السائدة والسيول ارتفع إلى 12 حالة وفاة، بينهم أحد غطاسي كوادر الدفاع المدني".

وعُزل 93 شخصاً و71 مركبة جنوب العاصمة السعودية الرياض؛ جراء أمطار غزيرة اجتاحت المنطقة، وأغرقت مياه الأمطار، وفق مقاطع فيديو تداولها نشطاء التواصل، مطار الملك خالد الدولي في الرياض، وألحقت أضراراً بسقفه، كما أغرقت أيضاً إحدى صالات القدوم. (مصادر إعلامية)

التعليق:

لا يعلم المرء أيعزي الغرقى بسبب مياه الأمطار أم يرثي حالهم، ففي الأعوام الماضية تكرر حدوث هذه الكوارث المؤسفة، فحق لنا أن نسأل هل يُلدغ المؤمن من جحر واحد مرتين؟ أم إن هذه الأحداث تفضح وتعري الحكام والأنظمة المتسلطة على رقابنا. فمنذ مدة ليست ببعيدة غرق أطفال أبرياء في سيول الأردن ومات منهم من مات، فما حرك هذا الحدث شيئاً، سوى أن خرج علينا البعض باستقالات لم تقدم أو تؤخر شيئاً، وملك الأردن، الذي يتفانى في خدمة أسياده في الغرب، لم يخرج علينا حتى بتعزية أو اعتذار على ما قصّر فيه هو ووزراؤه النواطير لكيان يهود.

مَن المُلام على هذه الكوارث والتقصير؟ أليس النظام الذي أهلك الناس بالضرائب تحت ذريعة إنشاء البنية التحتية التي لم تصمد أمام الأمطار؟! أليس النظام الذي تسول المال من الناس تحت ذريعة الخدمات؟! أليس النظام الذي أنشأ المباني التي تقف شامخة أمام الزلازل لأنها حصون أمنية وثكنات تحمي المتآمرين داخلها؟! أليس النظام الذي يسارع في الزج بالشرفاء الغيورين على الأمة وأهلهم في الأردن في السجون وينزل عليهم أقصى العقوبات لا لشيء سوى حملهم دعوة الإسلام؟! أليس هو النظام الذي يتبجح صباح مساء بالأمن والأمان في الأردن وهم يعيشون تحت الخوف والبطش من أزلامه؟! نعم هذا النظام الذي يدّعي أنه هاشمي، هو المذنب الأول والوحيد والمقصّر بلا منازع.

إنه من المعلوم أن من واجبات أي نظام توفير الأساسيات والأمن والأمان للرعايا، ومن واجبات أية دولة فيها ذرة احترام لشعبها أن لا تدعهم في مرمى المهالك والموت بسبب التقصير في تهيئة البنية التحتية القادرة على مواجهة أي حادث قد يقع بسبب الطبيعة أو الناس. فأين نظام الأردن من هذا الأمر؟! واللافت للنظر أن الأمر نفسه يتكرر كل عام، ولا يوجد من يحرك ساكناً أو ينكر هذا التقصير ويتحمل مسؤوليته.

وهناك من يدافع عن النظام مدّعياً أن الدولة لا تملك القدرة والإمكانيات...! حسناً، فما بال الرياض أرض البترول والمال؟ لماذا يحدث فيها الشيء نفسه؟! أنقص المال أم نفد بعد أن أُنفق في قتل المسلمين في اليمن وإرسال الدولارات إلى سيد البيت الأبيض؟! إن هذه المشاكل ليست مرتبطة بتوافر المال، بل بنهج هؤلاء الحكام وعدم اكتراثهم برعيتهم، وأنى لهم وهم مشغولون بالزج بالمخلصين في السجون ما استطاعوا، وتقطيع المعارضين والتخلص من جثثهم أو رميهم من الطائرات!

لا يقتصر الأمر على أرض الحجاز والأردن، بل حتى مصر الكنانة شابهت فيها الكوارث في مدن عدة لسبب واحد هو التقصير وعدم المبالاة، وكذلك تونس والكويت قد طالهما الأمر...

إن هذه الأحداث تعري الأنظمة وتمحص الناس، تعري الحكام بفشلهم بالقيام بأبسط واجباتهم، وتفضح منهم المصفقين المدافعين عن هذه الأنظمة الجبرية. إن النظام الوحيد الذي يهتم برعاياه وينذر نفسه لخدمتهم في المقام الأول هو النظام الإسلامي، والتاريخ شاهد، فذلك عمر بن الخطاب يخاف أن يسأله الله عن بغلة تعثرت في أرض العراق... والأمثلة أكثر من أن تحصى؛ لتفاني الحكام المسلمين الصادقين المخلصين في رعاية الناس، فالإسلام هو مصدر الخير، وكل الخير.

يجب ألا نصمت ونسكن بعد هذا الفضح الواضح للحكام وزبانيتهم، وأضعف الإنكار هو الإنكار بالقول، وهو مستطاع. فهبوا يا أمة الإسلام لقلعهم من جذورهم واستبدال المخلصين الصادقين بهم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. ماهر صالح – أمريكا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست