فاز أردوغان في الانتخابات وعاد إلى السلطة، لكن ماذا عن الإسلام؟!
فاز أردوغان في الانتخابات وعاد إلى السلطة، لكن ماذا عن الإسلام؟!

الخبر:   أعلن المجلس الأعلى للانتخابات النتائج النهائية للجولة الثانية من الانتخابات الرئاسية التركية في 28 أيار/مايو (الماضي)، وبموجبها فاز مرشح تحالف الشعب أردوغان في الانتخابات بنسبة 52.18٪ من الأصوات. وحصل كمال كليجدار أوغلو، مرشح التحالف الوطني، على 47.82% من الأصوات. سيبقى أردوغان في السلطة لمدة 5 سنوات أخرى حتى الانتخابات القادمة. (وكالات)

0:00 0:00
Speed:
June 12, 2023

فاز أردوغان في الانتخابات وعاد إلى السلطة، لكن ماذا عن الإسلام؟!

فاز أردوغان في الانتخابات وعاد إلى السلطة، لكن ماذا عن الإسلام؟!

(مترجم)

الخبر:

أعلن المجلس الأعلى للانتخابات النتائج النهائية للجولة الثانية من الانتخابات الرئاسية التركية في 28 أيار/مايو (الماضي)، وبموجبها فاز مرشح تحالف الشعب أردوغان في الانتخابات بنسبة 52.18٪ من الأصوات. وحصل كمال كليجدار أوغلو، مرشح التحالف الوطني، على 47.82% من الأصوات. سيبقى أردوغان في السلطة لمدة 5 سنوات أخرى حتى الانتخابات القادمة. (وكالات)

التعليق:

فاز أردوغان في الانتخابات التي أحدثت توتراً واستقطاباً شديدين في المجتمع منذ تحديد الموعد، على الرغم من الأزمة الاقتصادية التي اجتاحت البلاد والآثار السلبية للزلازل المدمرة التي حدثت في 6 شباط/فبراير. الانتصار الانتخابي تلته احتفالات في بعض البلاد الإسلامية والدول الأوروبية، وخاصة من المسلمين في تركيا الذين صوتوا لأردوغان. ومن ناحية أخرى، أصيبت المعارضة بخيبة أمل شديدة.

لا شك أن العامل الأهم في فوز أردوغان هو أن الشريحة المحافظة المسلمة، التي تشكل العمود الفقري للمجتمع في تركيا، دعمته في كل الانتخابات بدوافع إسلامية، تاركةً جانباً جميع المعايير الأخرى. وذلك لأن المنافس الرئيسي له، حزب الشعب الجمهوري، هو حزب مسجل للإسلاموفوبيا. ولا تزال الفظائع التي ارتكبها هذا الحزب ضد المسلمين حية في ذاكرتهم؛ لهذا السبب، لم يمنحه الشعب المسلم في تركيا، وهو مهندس الفكر العلماني الكمالي، الفرصة للحكم بمفرده.

وإدراكاً لذلك، فإن أردوغان وحزبه يرمزان إلى خطاب الوطن والأمة من خلال إثارة المشاعر الإسلامية طوال العملية الانتخابية. فقد قام بحملة استغلالية، زاعماً أنه تلقى تعليمات من الله والأمة، بينما تلقاها خصومه من الدول الغربية المعادية للإسلام والمنظمات الإرهابية مثل حزب العمال الكردستاني. وبالمثل، واصل العلماء المؤيدون لأردوغان وقادة الرأي نشر التصور الراسخ بأنه إذا فاز أردوغان، فستنتصر فلسطين والأمة وجميع المظلومين في جميع أنحاء العالم. لقد دعوا المسلمين إلى صناديق الاقتراع الديمقراطية وكأنهم يدعونهم للجهاد! وفي النهاية تغلبت المشاعر الإسلامية لدى المسلمين على كل خطابات ووعود المعارضة وعاد أردوغان إلى النصر.

لكن هل يمثل أردوغان حقاً المسلمين الذين يدعمونه؟ وهل يحقق رغبات وتطلعات المسلمين الذين يرون في كل انتخابات تقريبا صراعا بين الحق والباطل؟ هل يقاتل من أجل سمو الحق وهلاك الباطل؟ باختصار، عندما يفوز أردوغان، هل ينتصر الإسلام والمسلمون حقاً؟

هذه هي القضية الرئيسية. يجب على كل مسلم سليم العقل وقلبه مؤمن أن يركز على هذه النقطة. فكما تم تجريده أثناء مشاركته في الانتخابات، فعليه تجريد نفسه من كل الفوائد المادية بعد الانتخابات، وأن يسأل نفسه، "ما الذي تغير في خلق حياة إسلامية؟" وينبغي أن يفكر في روائع كلمات الخليفة عمر بن عبد العزيز التي سلطت الضوء على الماضي والحاضر، لأنه قال: "لا توجد دولة لكسب المال، بل لتوجيه الناس إلى الطريق الصحيح".

نعم، ما الذي تغير؟ هل استطاعت جمهورية تركيا التي حكمها أردوغان لمدة 21 عاماً أن تجعل شعبنا يجد الطريق الصحيح؟ وهل استطاعت أن تنقذ أهلها من الخطيئة والظلم وتزهر دنياهم وأخراهم؟ فمثلا، هل أعيدت السيادة للشرع، وانتهت الشرور التي نهى الله عنها من شرب الخمر والربا والقمار والزنا والفسق وغيرها، والتي خلفت الأجيال الفاسدة؟ هل تم القيام بأي عمل لمنع 5 ملايين جريمة ترتكب في تركيا كل عام؟ هل انتهت الصداقات مع الدول الغربية الكافرة التي تهاجم الإسلام بحقد عميق في قلوبهم؟

هل تم تنفيذ أي من حلول الإسلام لمشاكل أهلنا الذين يعيشون في أزمات؟ أبدا، لم يتم عمل أي من هذا. ولن يتم ذلك طالما بقيت الجمهورية العلمانية الغربية، التي معيارها الوحيد هو المصلحة الذاتية. في واقع الأمر، فإن الملصق العملاق لمصطفى كمال المعلق على المجمع الرئاسي بعد فوز أردوغان في الانتخابات، هو وثيقة نموذجية لكيفية خداع المسلمين.

إذن، الإسلام لم ينتصر، ولا يوجد نصر حقيقي للاحتفال به. هناك مسلمون خدعوا بالهندسة المحترفة وفازت الانتخابات على حسابهم. لكن هذا لا يعني أن المسلمين سيستمرون في الانخداع. لأن المسلمين لم يصوتوا للديمقراطية التي دافع عنها أردوغان، بل للخطابات الإسلامية التي استخدمها كأداة للاستغلال. وبهذا المعنى، فإن انتصار أردوغان هو انتصار زائف يُنتصر بالخسارة. وسينتهي عصر الديمقراطية ودعاتها عند أول نقطة انهيار في طريق كسب قلوب المسلمين من قبل حملة الدعوة المخلصين للإسلام الذين يعملون بجد من أجل إعادة دولة الخلافة الراشدة. في النهاية حكم أردوغان مميت، بينما حب الإسلام في نفوس المسلمين سوف يستمر حتى يوم القيامة. لذلك فإن حب الإسلام في نفوس المسلمين سيتحول عاجلاً أم آجلاً إلى ثورة فكرية وسيصل بالإسلام نفسه إلى السلطة. بعد ذلك سيكون قرن تركيا قرن الإسلام والخلافة.

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد أمين يلدريم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست