فلنجعل من أيام رمضان بداية العودة إلى أيام عزة الأمة الإسلامية
فلنجعل من أيام رمضان بداية العودة إلى أيام عزة الأمة الإسلامية

  الخبر: في مثل هذا اليوم 9 رمضان عام 93هـ الموافق 712م تم فتح مدينتي أشبيلية وطليطلة ليكتمل فتح بلاد الأندلس، وفي مثل هذا اليوم 9 رمضان عام 212هـ تم فتح جزيرة صقلية في البحر الأبيض المتوسط.

0:00 0:00
Speed:
April 23, 2021

فلنجعل من أيام رمضان بداية العودة إلى أيام عزة الأمة الإسلامية

فلنجعل من أيام رمضان بداية العودة إلى أيام عزة الأمة الإسلامية


الخبر:


في مثل هذا اليوم 9 رمضان عام 93هـ الموافق 712م تم فتح مدينتي أشبيلية وطليطلة ليكتمل فتح بلاد الأندلس، وفي مثل هذا اليوم 9 رمضان عام 212هـ تم فتح جزيرة صقلية في البحر الأبيض المتوسط.


التعليق:


كان الجيش الإسلامي يحمل في داخله عقيدة راسخة أن الباطل لا بد مهزوم، وكان المجاهدون في سبيل الله تملأ قلوبهم وعقولهم الثقة بوعد الله لهم، فتهون عليهم التضحيات في حياتهم وأموالهم وكل غالٍ على قلوبهم، مستشعرين حقيقة الجنة ونعيمها، متخذينها هدفا يريدون الوصول إليه، ودافعا لهم للإقدام والثبات، وهم يرددون: يا ريح الجنة هبي ويا خيل الله اركبي، وكانوا يستنهضون العزائم ويستثيرون الهمم عند اللقاء ثم يلجأون إلى الله بالدعاء، حينها ساد المسلمون وانتصروا، وفرّت من أمام جيوشهم ملوك الشرك.


ففي معركة ملاذ كرد، تراءت للقائد ألب أرسلان غرف الفردوس، فعمد إلى جنوده يشعل في نفوسهم روح الجهاد وحب الاستشهاد، وأوقد في قلوبهم جذوة الصبر والثبات، وقال له الفقيه أبو نصر البخاري وهو يؤازره: "إنك تقاتل عن دينٍ وعد الله بنصره وإظهاره على سائر الأديان، وأرجو أن يكون الله تعالى قد كتب باسمك هذا الفتح المبين، فسِرْ على بركة الله".


وهذا ما جعل القائد المسلم المحنك موسى بن نصير الذي بلغ زهاء السبعين عاما ولا زالت فيه همة الشباب، يقوم بفتح مدينتي أشبيلية وطليطلة مستكملا بهما فتح بلاد الأندلس.


وبهذه النفسية وبأمر من الخليفة المأمون تمت هزيمة جيش الروم وفتح جزيرة صقلية في البحر الأبيض المتوسط عام 212هـ الموافق 827م على يد زياد بن الأغلب والي مدينة قيروان والذي استشهد في المعركة، فنزل المسلمون على شواطئ الجزيرة وأخذوا ينشرون الإسلام في ربوعها.


وكذلك عام 222هـ الموافق 837م، وبعد عشرين عاما من المتاعب التي سببتها حركة الخرّمية والتي ظهرت في إيران وقامت ضد الدولة العباسية زمن خلافة المأمون، تمكن القائد المسلم المعروف باسم الأفشين في زمن الخليفة المعتصم، من القضاء عليها بعد قتال استمر لسنتين وتمكن من دخول مدينة البذ مقّر بابك الخرّمي الذي فر هاربا، إلا أن الأفشين ألقى القبض عليه وأخذه وأتباعه إلى سامراء وقتلهم هناك.


وهكذا نرى كيف أن الأمة الإسلامية يوم كانت منضوية تحت قيادة واحدة (الخلافة) كانت في مركز القيادة والشهادة على البشرية واستمرت لما يقارب السبعة قرون، كان المسلمون وقتها يتحينون فرص النصر في أشهر رمضان فارتبط شهر رمضان المبارك بالجهاد والفتوحات الإسلامية ودخول الناس في الإسلام أفواجا. لكن هذه القيادة وهذه الوحدة ما لبثت أن بدأت تتفكك عندما ضعف الفهم لحقيقة الجهاد وبدأ الانهزام يدخل بعض قلوب المسلمين، فصارت الهزائم تترى على الأمة الإسلامية وصارت بلاد المسلمين تتناقص، ولنا في واقع الأندلس مثالا.


ففي مستهل القرن الخامس الهجري، وفي عز ازدهار الدولة الأموية، اندلعت الفتنة بين المسلمين، حين أقدم عبد الرحمن (شنجول) الذي تولى الإمارة بعد وفاة أخيه عبد الملك بن الحاجب المنصور سنة 399هـ، حين أقدم على طلب الخلافة لنفسه، اشتعلت نيران الاضطرابات والفوضى، فانهار البيت الأموي على نفسه، واستغل الأمراء الطامعون هذا الوضع الطارئ وأعلن كل واحد منهم استقلاله داخل مدينة وإقليم محلي، فانقسمت الدولة الإسلامية إلى 22 دويلة لتدخل البلاد في عهد ملوك الطوائف، وأوصل هذا الانقسام إلى إعلان انتهاء الخلافة الأموية عام 422هـ.


في هذه الفترة الحالكة من التنازع والتناحر والتي عرفت بالسقوط الأول لبلاد الأندلس، كانت الإمارات النصرانية تتحد متربصة بالمسلمين، وتتوسع في أراضي المسلمين دون أن يحرك ملوك الطوائف ساكنا، إلى أن سقطت مدينة طليطلة كبرى الحواضر الأندلسية سنة 478هـ، بيد القشتاليين النصارى، فاستنجد العلماء وبعض الأمراء بيوسف بن تاشفين قائد جيوش المرابطين حكام المغرب، وتمكن هذا القائد من هزيمة النصارى بقيادة الفونس السادس في معركة الزلاقة عام 479هـ، ولم ينج إلا الفونس مع تسعة فقط من أفراد جيشه. وقام يوسف بن تاشفين بضم الأندلس إلى الحكم المرابطي وانتهت حقبة ملوك الطوائف.


لم يتعلم المسلمون الدرس فما لبثت بلاد الأندلس وبظهور عهد جديد من ملوك الطوائف فيها حتى تعرضت لسقوط ثان، فترة حكم الموحدين الذين ورثوا المرابطين في الحكم في بلاد المغرب، حيث ثار الولاة وحكام الجهات عليهم ولم يستطع هؤلاء إنقاذ الأوضاع بسبب انشغالهم بنزاعاتهم الداخلية، فسيطرت الممالك الصليبية على المساحة الأكبر من بلاد الأندلس، وسقطت قرطبة عام 633هـ ثم إشبيلية عام 646هـ، وتساقطت أغلب حواضر المسلمين في قبضة النصارى، ما عدا غرناطة التي بقي فيها المسلمون تحت سلطان بني الأحمر، وهؤلاء أيضاً كسابقيهم تفشت الخيانة والنزاعات بين سلاطينهم وعادت الممالك الصليبية بالتمدد إلى أن تمكنت إسبانيا الصليبية من إحكام الحصار على أهل غرناطة إلى أن تم تسليم المدينة عام897هـ / 1492م، فكان ذلك هو السقوط الأخير للحكم الإسلامي في الأندلس.


فيا أيتها الأمة المؤمنة الموحدة الصائمة، خذي العبرة مما مضى وارفعي عن كاهلك ثقل الانهزامية وأخرجي جيوشك الرابضة في ثكناتها والتي لا تتحرك إلا لخدمة حكامها وأسيادهم ومشاريعهم الخيانية، أليس فيك رجل كسعد بن معاذ، يعطي النصرة لحزب التحرير ليقيم الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة؟ أليس فيك قائد كصلاح الدين يعيد تحرير فلسطين والمقدسات الإسلامية من دنس يهود الغاصبين؟ بلى والله فيك العديد منهم، والله وعدنا ووعده حق، وما هي إلا فترة انقشاع غمامة الانهزام والتبعية، والعودة إلى العقيدة التي كان عليها المجاهدون الأوائل، وليسارع كل منا إلى حجز مقعد له في جنة عرضها السماوات والأرض أعدت للمؤمنين المتقين.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
راضية عبد الله

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست