فلسطين، وإلى ما ستؤول إليه أحداثها!
فلسطين، وإلى ما ستؤول إليه أحداثها!

الخبر: لقي اثنان من المغتصبين اليهود مصرعهم في بلدة حوارة في نابلس يوم 2023/2/26، ردا على عملية نابلس التي نفذها جيش يهود في نابلس وأدت إلى استشهاد 11 شخصا وجرح أكثر من 100 شخص يوم 2023/2/22. فقام المغتصبون اليهود بالتعدي على بلدة حوارة، فهاجم المئات منهم البلدة على مدى 3 ساعات وتعدوا على أهلها ومنازلهم وأملاكهم بحماية جيش العدو. فقتلوا شخصا وجرحوا المئات وحرقوا العديد من المنازل والمحلات التجارية والسيارات كما قاموا بالتعدي على قرية بورين فحرقوا بعض المنازل وسرقوا أغناما.

0:00 0:00
Speed:
March 03, 2023

فلسطين، وإلى ما ستؤول إليه أحداثها!

فلسطين، وإلى ما ستؤول إليه أحداثها!

الخبر:

لقي اثنان من المغتصبين اليهود مصرعهم في بلدة حوارة في نابلس يوم 2023/2/26، ردا على عملية نابلس التي نفذها جيش يهود في نابلس وأدت إلى استشهاد 11 شخصا وجرح أكثر من 100 شخص يوم 2023/2/22. فقام المغتصبون اليهود بالتعدي على بلدة حوارة، فهاجم المئات منهم البلدة على مدى 3 ساعات وتعدوا على أهلها ومنازلهم وأملاكهم بحماية جيش العدو. فقتلوا شخصا وجرحوا المئات وحرقوا العديد من المنازل والمحلات التجارية والسيارات كما قاموا بالتعدي على قرية بورين فحرقوا بعض المنازل وسرقوا أغناما.

التعليق:

لقد تصاعدت هجمات يهود الغاصبين لفلسطين على أهلها بعد تطبيع العديد من الأنظمة مع كيانهم منذ عام 2020، إذ طبعت الإمارات والبحرين والمغرب والسودان حيث وقع اتفاقية تفاهم للتطبيع عام 2021.

علما أن النظام المصري قد اعترف بكيان يهود عام 1979 وطبع معه العلاقات بعدما وقع اتفاقية كامب ديفيد، وكذلك السلطة الفلسطينية وقعت اتفاقية أوسلو عام 1993 وأصبحت خادمة لكيان يهود وحارسة له تحت مسمى التنسيق الأمني، والنظام الأردني وقع اتفاقية وادي عربة عام 1994 وهو يلعب دور المنطقة العازلة بين الأمة وكيان يهود. وقام النظام التركي برئاسة أردوغان بالتطبيع مع كيان يهود بعد تخفيض التمثيل الدبلوماسي حيث إنه لم يقطع علاقاته معه منذ أن اعترفت تركيا به عام 1949. وقد استقبل أردوغان العام الماضي رئيس كيان يهود استقبال الأبطال. علما أن أذربيجان التي تسير وراء أردوغان قد زادت من وتيرة التطبيع في الفترة الأخيرة وهي تعترف بكيان يهود منذ عام 1992. وكذلك دول آسيا الوسطى تقيم علاقات مع كيان يهود منذ بداية التسعينات من القرن الماضي. وتشاد أعادت علاقاتها مع كيان يهود عام 2018 بعدما كانت مقطوعة منذ عام 1973، وقد قام رئيسها المؤقت محمد إدريس ديبي بزيارة كيان يهود يوم 2023/2/1 وكان والده المقتول الرئيس السابق لتشاد قد قام بزيارة كيان يهود عام 2021.

كل ذلك شجع يهود الغاصبين على مواصلة تعدياتهم على أهل فلسطين، وعلموا أنه لا يوجد في المنطقة كيان يهددهم أو يهز العصا في وجوههم حيث إنهم قوم جبناء يطلبون الطعن والنزال إذا خلوا بأرض غاب عنها الشجعان، بل الكيانات التي لم تطبع رسميا إما أنها مطبعة ضمنيا كقطر وعُمان وتونس والسعودية وإندونيسيا، وإما أنها تعترف بكيان يهود ضمنيا عندما تقول بحل الدولتين كباقي الدول العربية وإيران والباكستان وماليزيا.

فلا يوجد لدى يهود خوف من كل هذه الأنظمة في البلاد الإسلامية صاحبة القضية. بجانب الدعم الأمريكي غير المحدود والدعم الأوروبي. كل ذلك يطمئن يهود أنهم سيفلتون من العقاب مهما ارتكبوا من مجازر في حق أهل فلسطين. وأكثر ما يصدر عنهم تنديد أو استنكار لا يقدم ولا يؤخر!

إن يهود يتمادون في غيهم، وهم لا يعلمون أنهم يقصّرون أعمارهم بالمعنى المجازي، أي يعجلون في نشوء قوة عظمى للمسلمين ترعبهم وتنسيهم وساوس الشيطان. إذ إن أعمالهم تفضحهم وتكشف وجههم الحقيقي أنهم قوم بهت ولا يرقبون في مؤمن إلاّ ولا ذمة، وقد خفروا ذمة الله بعدما كانوا في أمان المسلمين مئات السنين، فكفروا بأنعم الله فسوف يذيقهم الله لباس الخوف والجوع، وقد علوا في الأرض وأظهروا فيها الفساد ودنسوا المسجد الأقصى، فسيبعث الله عليهم عبادا له أولي بأس شديد فيقطعون دابرهم وقبلهم.

إن تصرفات يهود وعربداتهم وغطرستهم نذير شؤم للمطبعين وللساكتين على كل ذلك، ستقوم الأمة وتزلزل كياناتهم وتسقطهم وتحاكمهم وتجازيهم ما يستحقون، عدا خزيهم في الآخرة ولعذاب الله أشد وأنكى. فقد توهموا أنهم بالتطبيع سيغرون يهود بالكف عن عربداتهم وتعدياتهم ويقبلون بحل الدولتين ويحصل السلام الموهوم، فيرتاحون على عروشهم فيأمنون ثورة الأمة عليهم. ولكن يهود أنفسهم خيبوا آمالهم فسبب ذلك لهم الخزي والعار بصورة أشد أمام أمتهم.

عندما قام يهود بالهجوم على مخيم جنين ودمروه عام 2002 ودافع مجموعة أبطال عن المخيم فاستشهد نحو 58 حسب الأمم المتحدة أو نحو 500 حسب السلطة الفلسطينية، وقتل من يهود نحو 23 جنديا حسب الروايات الرسمية أو نحو 55 حسب شهود العيان. يومها ذكر أهالي المخيم أن ما أصابنا لا يذكر أمام ما أصاب تركيا في زلزال عام 1999 حيث أحدث دمارا كبيرا وخلف نحو 17 ألف ضحية على الأقل. نعم مهما أصاب أهل فلسطين فلن يصيبهم إلا بقدر ما أصاب آخرين في كوارث طبيعية كالزلزال الذي أصاب تركيا مؤخرا فأودى بحياة نحو 45 ألفاً حتى الآن وأكثر من 6 آلاف في سوريا، عدا الدمار في الممتلكات وتضرر نحو 25 مليون إنسان. وكذلك زلزال وتسونامي إندونيسيا عام 2004 الذي راح ضحيته نحو 227 ألفا، وزلزال هايتي عام 2010 أكثر من 230 ألفا وغير ذلك من البلاد التي أصابتها كوارث طبيعية وأودت بحياة الكثيرين وخسائر مادية، وكما حصل في أمريكا من أعاصير وفيضانات وحرائق راح ضحيتها الآلاف وبلغت خسائرها خلال عام 2022 نحو 260 مليار دولار.

ولهذا فعلى أهل فلسطين الصبر والثبات، فإن يوم النصر قد اقترب، فإن الأمة كلها تغلي وستنقضّ على حكامها العملاء المتخاذلين قريبا بإذن الله وتسقطهم وتدوسهم تحت أقدامها وتقيم خلافتها الموعودة بوعد الله والمبشرة ببشرى رسول الله ﷺ: «ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسعد منصور

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست