فقط الخضوع لحكم الله سبحانه يمكنه إنهاء البؤس في شبه القارة الهندية
فقط الخضوع لحكم الله سبحانه يمكنه إنهاء البؤس في شبه القارة الهندية

الخبر:   ذكرت وكالة رويترز في 11 تموز/يوليو، أن الحكومة الهندية قالت يوم الثلاثاء 8 تموز/يوليو "إنها ستفرض ضريبة بنسبة 28٪ على الأموال التي تجمعها شركات الألعاب عبر الإنترنت من عملائها، في ضربة لصناعة 1.5 مليار دولار التي ارتفعت شعبيتها وجذبت الاستثمار الأجنبي".

0:00 0:00
Speed:
August 05, 2023

فقط الخضوع لحكم الله سبحانه يمكنه إنهاء البؤس في شبه القارة الهندية

فقط الخضوع لحكم الله سبحانه يمكنه إنهاء البؤس في شبه القارة الهندية

(مترجم)

الخبر:

ذكرت وكالة رويترز في 11 تموز/يوليو، أن الحكومة الهندية قالت يوم الثلاثاء 8 تموز/يوليو "إنها ستفرض ضريبة بنسبة 28٪ على الأموال التي تجمعها شركات الألعاب عبر الإنترنت من عملائها، في ضربة لصناعة 1.5 مليار دولار التي ارتفعت شعبيتها وجذبت الاستثمار الأجنبي".

التعليق:

فرضت ولايات تاميل نادو وكارناتاكا وكيرالا وأندرا براديش الهندية عقوبات على صناعة الألعاب عبر الإنترنت لأنها تخلق مشاكل في البلاد؛ نظرا لأن الطلاب والمناطق ذات الدخل المنخفض يخسرون الأموال المكتسبة بشق الأنفس بسبب سهولة الوصول إلى تطبيقات الألعاب عبر الإنترنت (المقامرة أو المراهنة). المحاكم العليا الهندية والمحكمة العليا مشغولة بالجدل حول نوع المقامرة التي يجب أن تكون قانونية؟ وأعلنت المحكمة العليا الهندية مؤخرا أن مثل هذه الألعاب (التي تتم المراهنة عليها) حيث يحتاج اللاعبون إلى مجموعة مهارات للفوز، يجب السماح بها مثل الشطرنج والبوكر وما إلى ذلك. بينما تلك الألعاب التي لا تتطلب مهارة ويلعب الحظ فقط دورا فيها، يجب حظرها.

وبينما فرضت المحكمة العليا في تاميل نادو عقوبات على جميع ألعاب المراهنة عبر الإنترنت، فإن الولاية تطلب من المحكمة العليا إعادة تأكيد قانونيتها.

تفتخر Dream11، أكبر منصة رياضية افتراضية في الهند، بأكثر من 180 مليون مستخدم. وتدعي MPL أن لديها 90 مليون مستخدم، وتدعي My11Circle أن لديها 40 مليون مستخدم. لوضع الأمر في منظوره الصحيح يبلغ إجمالي عدد سكان باكستان حوالي 235 مليون نسمة. كانت تطبيقات الألعاب الافتراضية هي أكبر المعلنين على التلفزيون خلال الدوري الهندي الممتاز في عام 2016. وارتفع دخل منصات الألعاب الافتراضية بنسبة 24 في المائة خلال مباريات دوري الكريكيت الهندي الممتاز من 2022 إلى 2023، ليصل إلى أكثر من 28 مليار روبية (341 مليون دولار). وشارك حوالي 61 مليون مستخدم في أنشطة الألعاب الافتراضية، وجاء ما يقرب من 65 في المائة منهم من المدن الصغيرة.

وخلال الدوري الباكستاني الممتاز 2023، كانت منصات 1XBAT، وMCW Sports وWOLF777News وBJ Sports وMelBat هي بعض رعاة الدوري. حيث يتم تسجيلها باعتبارها تطبيقات رياضية، ولكن المثير للاهتمام هو أن جميع هذه التطبيقات لها أسماء مشابهة لمواقع المراهنة، ووفقا لبعض الصحفيين فإن هذه التطبيقات تمتلكها مواقع المراهنة. كان MalBat الراعي الرسمي لنادي لاهور كالاندر.

لقد انتحر رجل مؤخرا في باكستان بسبب قرض أخذه من تطبيق عبر الإنترنت. وتقوم وكالة التحقيقات الاتحادية الباكستانية بالتحقيق، وتحاول إيقاف تطبيقات الإقراض عبر الإنترنت هذه. حتى الآن تقوم الحكومة بإغلاق هذه التطبيقات على أساس ارتكابها للنصب أو الاحتيال ولكن ليس على أساس أن هذه المواقع تتعامل بالربا. وعلى الرغم من وجود بعض القوانين المتعلقة بالإقراض الخاص في باكستان، إلا أنه لا يوجد تشريع ملموس متاح لإغلاق هذه التطبيقات، والتي ما زال العديد منها يعمل.

تأتي هذه الإجراءات بعد فوات الأوان بالنسبة للعديد من العائلات في باكستان والهند وفي شتى أنحاء العالم. ففي الهند، تنشغل المحاكم بتحديد نوع المقامرة الحلال وأيها حرام، وتناقش المحكمة العليا الهندية ما إذا كان ينبغي السماح بالمقامرة في الألعاب التي تنطوي على مهارات وما هو تعريف المهارة. بينما في باكستان، تواصل الحكومة إعادة اختراع تعريف الربا على مدار الثلاثين عاما الماضية.

تظهر هذه القوانين المتناقضة والمختلفة محدودية العقل البشري. فالعقل البشري قصير النظر وغير قادر على التشريع وهذا واضح في جميع أنحاء العالم. سواء أكان ذلك نقاشا حول كونك مؤيدا للحياة أو مناهضا لها (الإجهاض) أو الجدل حول الهوية الجنسية في الغرب أو الجدل حول القوانين التي تحكم الألعاب عبر الإنترنت أو الإقراض القائم على الربا، فإن فشل العقل البشري في إنتاج حلول فعالة لمشاكل البشرية واضح، يقول سبحانه وتعالى: ﴿وَعَسَى أَن تَكْرَهُواْ شَيْئاً وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّواْ شَيْئاً وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ﴾.

إن البشر ليسوا فئران تجارب. ولا يمكن للمرء أن يجرب عليها من خلال تشريع قانون في يوم وفي اليوم التالي آخر، وتستمر مثل هذه التجارب على المجتمعات البشرية إلى أجل غير مسمى. إن التشريعات والحلول الرديئة وغير الصحيحة التي صاغها البشر تؤدي إلى معاناة إنسانية واسعة.

في دولة الخلافة، السيادة هي لله وحده، والله سبحانه وتعالى، العليم الخبير، هو المشرع. فقد خلق سبحانه وتعالى الإنسان ويعلم ما يصلحه. وفي الإسلام، لا يسمح للبشر بالتشريع للبشر الآخرين. لهذا السبب لأكثر من 1300 عام، لم نكن بحاجة إلى أي مراجعة أو تعديل للقوانين. فقد تم استنباط الأحكام من القرآن والسنة، وتم تنفيذ القوانين نفسها في ثلاث قارات، وتقدم الناس الذين يعيشون في هذه الأراضي اقتصاديا ومجتمعيا. لقد حان الوقت لوضع حد لهذا النظام الديمقراطي الفاسد الذي يسمح للبشر بالتشريع للمجتمعات البشرية، والسعي لإعادة البشرية تحت حكم الله سبحانه وتعالى. يقول سبحانه وتعالى: ﴿فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفاً فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس عباس – ولاية باكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست