فقط في ظل النظام الاقتصادي الإسلامي سوف يتم القضاء على التفاوت الهائل بين الأغنياء والفقراء
فقط في ظل النظام الاقتصادي الإسلامي سوف يتم القضاء على التفاوت الهائل بين الأغنياء والفقراء

 الخبر:   وفقا لتقرير منظمة أوكسفام الذي صدر في 18 كانون الثاني/ يناير 2016، فإن 62 شخصاً فقط يمتلكون ثروة تعادل ما يمتلكه نصف سكان العالم الأكثر فقراً. وقد انخفض هذا العدد من 388 ثرياً في عام 2010 إلى 80 ثرياً في العام الماضي. وعلى الرغم من أن قادة العالم تحدثوا بشكل متزايد حول الحاجة إلى معالجة عدم المساواة الاقتصادية،

0:00 0:00
Speed:
January 24, 2016

فقط في ظل النظام الاقتصادي الإسلامي سوف يتم القضاء على التفاوت الهائل بين الأغنياء والفقراء

فقط في ظل النظام الاقتصادي الإسلامي

سوف يتم القضاء على التفاوت الهائل بين الأغنياء والفقراء

(مترجم)

الخبر:

وفقا لتقرير منظمة أوكسفام الذي صدر في 18 كانون الثاني/ يناير 2016، فإن 62 شخصاً فقط يمتلكون ثروة تعادل ما يمتلكه نصف سكان العالم الأكثر فقراً. وقد انخفض هذا العدد من 388 ثرياً في عام 2010 إلى 80 ثرياً في العام الماضي. وعلى الرغم من أن قادة العالم تحدثوا بشكل متزايد حول الحاجة إلى معالجة عدم المساواة الاقتصادية، فإن الفجوة بين فئة الأغنياء وبقية الفئات قد اتسعت بشكل كبير خلال السنوات الخمس الماضية. وحثت أوكسفام زعماء العالم إلى اتخاذ إجراءات عاجلة لمعالجة عدم المساواة من خلال اعتماد نهج ثلاثي الأبعاد يتمثل في - تضييق الخناق على المتهربين من الضرائب، وزيادة الاستثمار في الخدمات العامة، والعمل على زيادة دخل ذوي الدخل المتدني. وقال مارك غولدرينغ، الرئيس التنفيذي لأوكسفام: "إنه من غير المقبول أن أفقر نصف سكان العالم يملكون ما لا يزيد عن مجموعة صغيرة من فاحشي الثراء عالميا، قليلين جداً بحيث يمكن وضعهم كلهم في حافلة واحدة". وتابع قائلا: "في عالم حيث واحد من تسعة أشخاص يبيتون جوعى كل ليلة، لا يمكننا الاستمرار في إعطاء الأغنى أكبر شريحة من الكعكة". ووفقا للتقرير، فإن أحد الأسباب الرئيسية وراء هذا التفاوت هو انخفاض الدخل القومي للعاملين في كل البلدان المتقدمة تقريبا ومعظم الدول النامية، واتساع الفجوة بين قيمة الأجور في أعلى وأسفل سلم الدخل. من جهة أخرى، فإن الطبقة الغنية استفادت من العائد على رأس المال عن طريق مدفوعات الفائدة وأرباح الأسهم الخ.. ولقد تفاقمت هذه المزايا من خلال استخدام الملاذات الضريبية الآمنة. وأضاف غولدرينغ: "لم يعد كافياً للأغنياء التظاهر بأن ثرواتهم تفيد البقية منا، حين تظهر الحقائق عكس ذلك، إذ إن الانفجار الأخير في ثروة فاحشي الثراء قد يأتي على حساب أشد الناس فقراً في العالم". (المصدر: oxfam.org.uk)

التعليق:

بعد زوال الشيوعية وضع العالم آمالا كبيرة على الرأسمالية وشعاراتها المربحة. ومع ذلك، فإن التقرير الأخير الموجع للقلب لأوكسفام قد أثبت مرة أخرى أن الاقتصاد الرأسمالي ونظرياته المستفيضة قد فشل فشلا ذريعا في تحقيق أي حل للبشرية.

إن الهدف من الاقتصاد الرأسمالي هو زيادة الإنتاج للحفاظ على النمو الاقتصادي، والذي غالبا ما يتم تمثيله بالناتج القومي الإجمالي أو الناتج المحلي الإجمالي. ولكن في الواقع فإن هذه الصورة كاذبة ومضللة، والحقيقة هي أن هناك تفاوتاً غير طبيعي في توزيع الثروة بين الناس. هل يمكننا القول بأن الاقتصاد الرأسمالي هو اقتصاد سليم، في حين إن الفجوة بين الأغنياء والفقراء تزداد بشكل كبير كل عام؟ هل يمكننا القول حقا أن هذا لأجل رفاه الشعب عندما تتراكم ثروة طائلة في أيدي قلة قليلة فقط؟ صحيح أن الرأسمالية قد أوجدت كماً هائلاً من الثروة، ولكن في الوقت نفسه قد فشلت في تحقيق أي حل بشأن كيف ينبغي توزيع الثروة بشكل عادل داخل المجتمع. وقد أثبت التقرير أيضا أن نظرية "الأثر الانتشاري" التي غالبا ما يهتف بها النقاد الاقتصاديون الغربيون، هي كذبة مطلقة وقد فشلت في جعل الثروة تنساب إلى بقية السكان. وبدلا من توزيع الثروة إلى الطبقة الفقيرة فإنها تساعد فقط الطبقة الغنية بالفعل لتصبح أكثر ثراء ويزداد الفقراء فقرا. إن الاقتصاد الحالي الذي مر عبر ركود خطير في السنوات القليلة الماضية، ونتيجة لذلك، فقدَ عشرات الآلاف من الناس وظائفهم في جميع أنحاء العالم، فإن الناس الأكثر ثراء هم فقط من استفادوا بشكل غير طبيعي من هذا النظام. إن الحلول المقدمة من قبل المفكرين الغربيين تدندن دائما حول معالجة التهرب الضريبي، وتغيير الأنظمة الضريبية أو زيادة دخل الأفراد الأشد فقرا. لكن غالبا ما يغيب عنهم أن المشكلة تكمن في الأساس العقائدي لاقتصاد السوق الحر الرأسمالي، الذي يعتمد على الأيدي الخفية (الفكرة التي قدمها آدم سميث، الأب الروحي للرأسمالية) لتوزيع الثروة. في الواقع، لقد أصبحت الأيدي الخفية أيادي مرئية للقلة أصحاب الثراء الفاحش العالم، الذين يسيطرون على كل شيء من صناعة السياسات إلى السياسة، بينما 99٪ من سكان العالم لا يزالون ينتظرون ليروا ثمرة ذلك.

وعلى النقيض من الرأسمالية، فإن النظام الاقتصادي الإسلامي يهتم بتوزيع الثروة بدلا من زيادة الثروة في المجتمع. وبدلا من إعطاء صورة مضللة من خلال الناتج المحلي الإجمالي، فإنه يتعامل مع كل فرد في المجتمع ويضمن الاحتياجات الأساسية لكل رعايا الدولة. وعلاوة على ذلك، فإن الإسلام لا يسمح بتركيز الثروة في أيدي القلة القليلة من الناس. وفقا لقواعد الشريعة الإسلامية، ومن خلال تنفيذ نظام الزكاة، وأحكام توزيع الأراضي، والتمييز بين أنواع الملكيات (أي ما يمكن امتلاكه للفرد وما لا يمكن امتلاكه)، وعن طريق منع الكنز والفائدة (الربا)، فإن الإسلام يمنع احتكار الأعمال في المجتمع ويغلق باب التراكم الجائر للثروة إلى الأبد. وعلاوة على ذلك، فإن الإسلام لا يعتمد على الأيدي الخفية الوهمية مثلما يفعل الاقتصاد الرأسمالي، بل يضمن التوزيع العادل للثروة من خلال مبادئ الشريعة الصارمة حتى يتم التمتع بثمرة التنمية الاقتصادية من قبل المجتمع ككل. عندما تقام الخلافة الراشدة على منهاج النبوة من جديد، ستباع الموارد الطبيعية مثل النفط أو الغاز إلى بلدان أخرى، وسيصل ريعه إلى عامة الناس - وليس إلى أيدي عدد قليل من الرأسماليين. والتاريخ يشهد كيف أن نظام الخلافة حرّر الناس من بؤس لا ينتهي من الاقتصاد من صنع الإنسان في الماضي وقادهم إلى حياة الشرف والرخاء والثراء. عندما وصل الإسلام أوروبا الشرقية، حرّر الناس من النظام الإقطاعي الظالم، ومن خلال تنفيذ قانون توزيع الأراضي في الإسلام أصبح الفلاحون الفقراء في تلك المنطقة بين عشية وضحاها ملاك الأراضي وحصلوا على حقهم في بيع منتجاتهم التي اكتسبوها بعناء في السوق.

لإنقاذ العالم كله من هذا الوضع اليائس والقضاء على التفاوت الهائل بين الأغنياء والفقراء، فإننا لسنا بحاجة للحلول الترقيعية من النظام الرأسمالي الفاشل. بل يجب علينا أن نطبق أحكام الشريعة الإسلامية الخاصة بالاقتصاد في ظل دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، الأمر الذي سيقود البشرية كلها مرة أخرى نحو عالم مطمئن وآمن تحت ظل النظام الاقتصادي الإسلامي.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

 فهميدة بنت ودود

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست