فرض صندوق النقد الدولي عضلاته للاستيلاء على مفاصل الاقتصاد البنغالي يكشف العلاقة الحقيقية بين السيد والعبد
فرض صندوق النقد الدولي عضلاته للاستيلاء على مفاصل الاقتصاد البنغالي يكشف العلاقة الحقيقية بين السيد والعبد

الخبر:   حدد صندوق النقد الدولي تدابير إصلاحية أوسع نطاقاً على بنغلادش، بما في ذلك تطبيق قواعد الانضباط على القطاع المالي وتعزيز تحصيل الإيرادات، حتى تتمكن بنغلادش من الحصول على القرض البالغ 4.5 مليار دولار، ونوقشت هذه الشروط خلال سلسلة من الاجتماعات بين وفد صندوق النقد الدولي الزائر ومختلف الوكالات والإدارات الحكومية في بنغلادش. (ذي ديلي نيشن)

0:00 0:00
Speed:
November 05, 2022

فرض صندوق النقد الدولي عضلاته للاستيلاء على مفاصل الاقتصاد البنغالي يكشف العلاقة الحقيقية بين السيد والعبد

فرض صندوق النقد الدولي عضلاته للاستيلاء على مفاصل الاقتصاد البنغالي

يكشف العلاقة الحقيقية بين السيد والعبد

الخبر:

حدد صندوق النقد الدولي تدابير إصلاحية أوسع نطاقاً على بنغلادش، بما في ذلك تطبيق قواعد الانضباط على القطاع المالي وتعزيز تحصيل الإيرادات، حتى تتمكن بنغلادش من الحصول على القرض البالغ 4.5 مليار دولار، ونوقشت هذه الشروط خلال سلسلة من الاجتماعات بين وفد صندوق النقد الدولي الزائر ومختلف الوكالات والإدارات الحكومية في بنغلادش. (ذي ديلي نيشن)

التعليق:

إن الطريقة التي يتجوّل فيها صندوق النقد الدولي داخل المكاتب الحكومية المختلفة في بنغلادش، مثل المجلس الوطني للإيرادات ووزارة المالية وبنك بنغلادش المركزي، تعد انتهاكاً واضحاً لجميع القواعد البروتوكولية والدبلوماسية. وليس ذلك فحسب، بل يعقد ممثلو صندوق النقد الدولي اجتماعات مباشرة مع المسؤولين من الأقسام الفرعية لهذه المراكز الحيوية في البلاد، ويقومون بمحاسبتهم، والضغط عليهم، وإعطائهم توجيهات حول مسارات العمل المستقبلية، وهذا السلوك يفضح علاقة السيد والعبد بين صندوق النقد الدولي وبنغلادش. وصندوق النقد الدولي، الأداة الاستعمارية الجديدة للغرب، لم يقدّم حتى الحد الأدنى من المجاملة لعملائه المحليين المتنكرين بزي سياسيين ومسؤولين حكوميين، وكما هو متوقع، لم تشعر حكومة بنغلادش بأي خجل من هذا التعدي المهين لصندوق النقد الدولي ووصفته بأنه "عمل منتظم"! إن بعض من يسمون بالمثقفين يقدّمون هذه السيطرة الوقحة والتعدي على ممتلكات الغير من هذه المؤسسة الاستعمارية على أنها نعمة لشعب بنغلادش! إنهم يروجون لفكرة أن مطالب إصلاح السياسات التي قدمها صندوق النقد الدولي هي في الواقع شرط مسبق لاستقرار اقتصادنا، ومن ذلك طلب فريق صندوق النقد الدولي بتعزيز تحصيل الإيرادات، وخفض التضخم، وخفض قروض التخلف عن السداد في القطاع المصرفي، وسحب سقف سعر الربا المزعج، وفرض سعر الصرف القائم على السوق. وقد صرّح زاهد حسين، وهو موظف سابق في البنك الدولي بأن "هذه مشاكل معروفة منذ زمن بعيد وتشكل مشكلة محورية طويلة الأمد في الاقتصاد البنغالي. وبسبب ضغوط صندوق النقد الدولي، يتعين على الحكومة أن تنظر في هذه القضايا بجدية". وفي الواقع، يعرف صندوق النقد الدولي جيداً أنه بدون ظهور هذه المشكلات واستمرار وجودها في الاقتصاد، لن يطلب أي بلد قروضاً منه. ومن الحقائق المعروفة والراسخة أن هذا الصندوق وحلفاءه يخلقون مثل هذه المشاكل بشكل مباشر أو غير مباشر في الدول الضعيفة لتوريطها في مستنقعات قروضه.

بعد هزيمتها في الحروب الصليبية، شكّلت أوروبا النصرانية "اتحادات مقدسة" مختلفة لهزيمة المسلمين وشنت العديد من الهجمات العسكرية والغزوات التبشيرية. وبعد عام 1683 ميلادي، وعندما أُجبر المسلمون على الانسحاب من حصار فينّا، اشتدت هذه الغزوات التبشيرية ونجحت فيما بعد في هدم الخلافة عام 1924م. ومع ذلك، لم يتوقف الغزو التبشيري عند هذا الحد. فبعد سنوات عديدة، لا يزال هذا الغزو مستمراً تحت ستار المنظمات غير الحكومية التي تقوم بأعمال تنموية بلغ عددها الآلاف. وكنيسة إنجلترا، وكنيسة السويد، وكنيسة الدنمارك، والكنيسة الإنجيلية اللوثرية، وجهات كنسية أخرى إلى جانب المخططات الاستعمارية مثل الوكالة الأمريكية للتنمية الدولية تضخ مليارات الدولارات كل عام في جيوب تلك المنظمات غير الحكومية للعمل في البلاد الإسلامية. لذلك كان من غير المعقول أن يفرض صندوق النقد الدولي شروطاً فقط لتأمين أقساط قروضه التي تبلغ قيمتها بضعة مليارات من الدولارات، في حين إن مالكي صندوق النقد الدولي ينفقون بسخاء في العديد من المشاريع العلنية وغير العلنية في بنغلادش. والحقيقة هي أن هذه المنظمات غير الحكومية تعمل بين عامة الناس في بنغلادش لنشر معتقدات الكفر ومفاهيم وثقافات تلك الدول الاستعمارية لإيجاد قبول لهذه الأفكار بين المسلمين، ويعمل صندوق النقد والبنك الدوليان على إضفاء الطابع الرسمي لمأسسة سيطرتهم على دولتنا على المدى الطويل. ولقد حذرنا الله سبحانه وتعالى في القرآن الكريم من نواياهم الحقيقية حيث قال: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا بِطَانَةً مِنْ دُونِكُمْ لَا يَأْلُونَكُمْ خَبَالاً وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ريسات أحمد

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية بنغلادش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست