فرضية نقض الهدن والتخلي عن قادة الفصائل الموقعة عليها
فرضية نقض الهدن والتخلي عن قادة الفصائل الموقعة عليها

الجزيرة - دعت المعارضة السورية إلى تدخل دولي لوقف هجوم قوات النظام السوري وحزب الله اللبناني المستمر للأسبوع الثالث؛ على منطقة وادي بردى في ريف دمشق الغربي.

0:00 0:00
Speed:
January 13, 2017

فرضية نقض الهدن والتخلي عن قادة الفصائل الموقعة عليها

فرضية نقض الهدن والتخلي عن قادة الفصائل الموقعة عليها

الخبر:

الجزيرة - دعت المعارضة السورية إلى تدخل دولي لوقف هجوم قوات النظام السوري وحزب الله اللبناني المستمر للأسبوع الثالث؛ على منطقة وادي بردى في ريف دمشق الغربي.

فقد دعت الهيئة العليا للمفاوضات التابعة للمعارضة السورية الأمم المتحدة ومجلس الأمن الدولي إلى معالجة ما وصفته بالوضع المخيف والمتدهور في وادي بردى فورا.

وقالت الهيئة في خطاب لها إنه منذ بدء سريان وقف إطلاق النار يوم 29 كانون الأول/ديسمبر الماضي خرقه النظام وحلفاؤه قرابة أربعمئة مرة، وأزهقوا أرواح أكثر من 270 شخصا. وأضاف أن أكثر هذه الانتهاكات تأثيرا في منطقة وادي بردى باستخدام البراميل المتفجرة.

وتابعت أن ممارسات النظام في وادي بردى أدت إلى تهجير 1200 شخص في ثلاثة أيام. كما حملت الهيئة النظام مسؤولية حرمان أكثر من خمسة ملايين شخص من وصول المياه الحيوية، وحذرت من أن تؤدي انتهاكات النظام إلى انهيار أسس اتفاق وقف إطلاق النار.

التعليق:

ما زالت قوات المعارضة تستنجد بالدول الاستعمارية الكافرة المغمسة أيديها بدماء المسلمين ولا زالت تمارس عربدتها الهمجية في قتل المسلمين في سوريا رجالا ونساء وأطفالا وشيوخا وشبابا على مدى ست سنوات؛ أكثر من نصف مليون قتيل وملايين الجرحى والمعذبين في السجون وملايين المشردين في الداخل السوري وفي الشتات العالمي تم تحت سمع وبصر وبمشاركة فعلية من قبل أمريكا وروسيا وأوروبا وتركيا وإيران وأشياعهم وعملائهم من البلاد العربية وغيرها، ثم تأتي المعارضة لتستنجد بهؤلاء؟ هل يعقل هذا؟! أم أنهم انضموا إلى عصابة الحكام؟!

إلى الشرعيين الذين أفتوا بالهدن والمفاوضات تحت قيادة المعارضة التي تؤمن بالمجتمع الدولي والقوانين الدولية طريقا لإنهاء المعاناة وتحقيق النصر، محتجين بصلح الحديبية:

هل فعلتم ما فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم بمن نقض عهد صلح الحديبية؟

هل أفتيتم للفصائل ماذا يجب أن تفعل بناقضي الصلح والهدن؟

عندما وصل خبر هجوم بني بكر "حلفاء قريش" على بني خزاعة "حلفاء المسلمين" اعتبر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن صلح الحديبية قد انتقض رغم أن قريش لم تنقضه وإنما بعثت أبا سفيان لتقويته ودعمه، لكن رسول الله صلى الله عليه وسلم رفض مقابلة أبي سفيان، وأمر بتجهيز جيش كبير لفتح مكة وفتحها، وسمح لبني خزاعة أن يأخذوا بثأرهم من بني بكر فأباحها لهم مدة ثلاثة أيام.

فهل أفتى الشرعيون للفصائل بالرد السريع على النظام وحزب إيران الذي نقض الهدن 400 مرة في وادي بردى وأزهق أرواح 270 إنسانا وهجر 1200 في ثلاثة أيام وحرم 5 ملايين من الناس من الوصول إلى المياه؟

وهل أفتى الشرعيون بالرد على نقض الروس للهدن؟

هل يجوز الإبقاء على هدن رغم نقض العدو لها؟

ألم يسمعوا قوله تعالى ﴿وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِن قَوْمٍ خِيَانَةً فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ﴾ [الأنفال: 58]؟

فنقض العدو للمواثيق والعهود والهدن يوجب على المسلمين نبذ العهد إلى الأعداء أي إبلاغهم أن الهدن ألغيت، ومهاجمتهم.

لقد ثبت أن بعض قادة الفصائل تابعون للنظام وليسوا منشقين عنه، فهم أعداء ألداء لأهلنا في الشام يحملون لهم نفس الحقد والعداوة اللتين يحملهما بشار وأشياعه.

ومن يعمل تحت قيادتهم ويعرف عنهم هو يحمل العداوة لأهل سوريا ولذلك يجب محاربته كمحاربة بشار وأشد، وكما خرج الشعب السوري ضد النظام عام 2011 وهو أعزل لا يملك شيئا يجب إعادة الثورة ضد قادة الفصائل تماما وأن يعيدوا للثورة زخمها ويتمسكوا بثوابتها وأن يتخلوا عن المال السياسي القذر الذي اشتراهم به قادة الفصائل وأن ينفض العناصر عن القادة وأن يقبلوا الانضواء تحت قيادة حزب التحرير، وأن لا يتذرعوا بحجج فارغة بأن ليس له جناح عسكري، فهل كان لحجاب الذي سلموه قيادتهم جناح عسكري وهل خاض المعارك تلو المعارك مع النظام وهل كان لقادة الائتلاف الذين قضوا أيامهم في الفنادق وأنفقوا ملايين الدولارات على ملذاتهم وشهواته، هل خاضوا معركة مع النظام؟

للعسكري موقعه وللسياسي موقعه، والعسكري المخلص لا يقبل إلا بقيادة مخلصة، أما القيادة العميلة والخائنة فليس لها من أتباع إلا الخونة والعملاء فانبذوها فليس لها قيمة من دونكم حتى المال الذي يأتيها لا يأتيها إلا بسببكم، فانفضّوا عنهم يلفظهم أعداؤكم أيضا فتصبح لا قيمة لهم، أما التفافكم حولهم فهو الذي يجعل منهم بشارا آخر يسومكم سوء العذاب.

إن البقاء تحت القيادات التي وقعت الهدن مع النظام هو حرام لقوله تعالى ﴿فَانبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَىٰ سَوَاءٍ﴾ أي وجب عليك نقض الهدنة بينه وبين عدوك كما نقضها هو، ولا يجوز الاستمرار بها، فإذا أصر القادة عليها فيجب التخلي عنهم ولا تجوز طاعتهم فلا طاعة لمخلوق في معصية الخالق.

وليعلم الجميع أن النصر بيد الله فقط، لا بيد أمريكا وروسيا وغيرهم من الدول الكبرى، فإنها لا تحمل لأهلنا إلا الموت الزؤام، ومن تعلق بأحبالهم لم يجن إلا الذل والصغار في الدنيا والآخرة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

نجاح السباتين – ولاية الأردن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست