"فرنسا 24" تُوقع مفتي القدس في شرك العلماني يوسف الصديق يا شيخ حسين لو أنك تَنحو المستقيم ما تورَطت!
"فرنسا 24" تُوقع مفتي القدس في شرك العلماني يوسف الصديق يا شيخ حسين لو أنك تَنحو المستقيم ما تورَطت!

الخبر:   خلال جلسة حوارية في برنامج "نقاش" بثت على قناة فرنسا 24 بتاريخ 23 نيسان/أبريل 2020 تمت استضافة كل من محمد حسين مفتي القدس والديار الفلسطينية، ويوسف الصديق الفيلسوف العلماني التونسي المختص في أنثروبولوجيا القرآن، حيث طرحت عليهما أسئلة من قبيل هل الصحة أهمّ أم ممارسة الطقوس الدينية؟ هل حان وقت مراجعة الطقوس الدينية؟ الفيروس انطلق في فرنسا بسبب تجمع ديني، والصلوات في كل الأديان تجري من خلال التقارب والتلاصق أحيانا فكيف يحمي المؤمنون أنفسهم من العدوى؟

0:00 0:00
Speed:
May 03, 2020

"فرنسا 24" تُوقع مفتي القدس في شرك العلماني يوسف الصديق يا شيخ حسين لو أنك تَنحو المستقيم ما تورَطت!

"فرنسا 24" تُوقع مفتي القدس في شرك العلماني يوسف الصديق

يا شيخ حسين لو أنك تَنحو المستقيم ما تورَطت!

الخبر:

خلال جلسة حوارية في برنامج "نقاش" بثت على قناة فرنسا 24 بتاريخ 23 نيسان/أبريل 2020 تمت استضافة كل من محمد حسين مفتي القدس والديار الفلسطينية، ويوسف الصديق الفيلسوف العلماني التونسي المختص في أنثروبولوجيا القرآن، حيث طرحت عليهما أسئلة من قبيل هل الصحة أهمّ أم ممارسة الطقوس الدينية؟ هل حان وقت مراجعة الطقوس الدينية؟ الفيروس انطلق في فرنسا بسبب تجمع ديني، والصلوات في كل الأديان تجري من خلال التقارب والتلاصق أحيانا فكيف يحمي المؤمنون أنفسهم من العدوى؟

التعليق:

بداية نُذكَر بالحادثة التي وقعت سنة 2018 عندما قدّم يوسف الصديق محاضرة في الجامعة العربية الأمريكية بجنين وتم إيقافه وطرده من الطلبة والأساتذة والمشايخ الحاضرين بتهمة الإلحاد والتطاول على العقيدة الإسلامية وهذا دليل أن حدثا بهذا المستوى لا بد وأن الشيخ محمد حسين قد سمع به وبالتالي أصبحت عنده فكرة سابقة عن يوسف الصديق وعن هويته ومنهجيته الفكرية المنحرفة التي تختص في البحث في القرآن فلا منهجيته من جنس الإسلام ولا هو من أهل القرآن.

ومن أسئلة البرنامج يشتمّ الفَطِنُ أن الموضوع بعيد كل البعد عن طرح مسألة شرعية واضحة وضوح الشمس حتى في ذهن يوسف الصدّيق وهي حكم التعامل مع الطاعون ووجوب التوقي والحجر على المناطق الموبوءة، فبينما ينغمس الشيخ في تفاصيل فقهية، ينحو يوسف الصديق منحى آخر بخطاب داهية يدعو فيه الشيخ أن يشاركه بل يشاطره تساؤلا حول مسألة التفكير في تحرير الدين الإسلامي من جموده منذ ألف سنة حيث يحتاج الإسلام - حسب رأيه - الآن ونحن في زمن كورونا لعملية تغيير على النمط الأوروبي!! مشيدا بجهود المفكرين المجددين الغربيين الذين نجحوا في تحرير الدين من التدخل في تنظيم "العلاقة الأفقية" أي بمفهومنا الشرعي علاقة المسلم بالآخر وحصره في "العلاقة العمودية" أي تنظيم علاقة المسلم بخالقه.

وأمام هذا الخطاب الذي لا يضمر سوى العداء الصريح للإسلام كنظام حكم شامل والعمل على تحويله إلى الهامش على النمط النصراني الكنسي في أوروبا الرأسمالية، ظل مفتي القدس يدافع عن قرار إغلاق المساجد وتعليق صلاة الجماعة في ظل الأزمة الصحية مبررا أنه لم يكن إلغاء لفريضة الصلاة بل هي لا زالت قائمة لكن بشكل فردي.

قد يقول قائل إن القرار الذي اتخذه مفتي القدس وغيره من علماء السلاطين الذين ابتلينا بهم في تونس ومصر وغيرها والذين سارعوا فيه إلى تعليق صلاة الجماعة دون تمحص، هذا يدخل في أحكام الوقاية من الطاعون، لما تمثله التجمعات في المساجد من أرضية خصبة لنقل فيروس كورونا، لكن من يتقي الله وينظر نظرة شاملة للواقع فينزل لشوارع تونس مثلا يرى التزاحم في الأسواق بل أكثر من هذا التزاحم قبيل رمضان بيوم، تزاحم مخجل أمام مخازن بيع الخمور التي هي ملك أحد رجال الأعمال المعروفين في تونس والذي قدم مساعدة مالية قدرها 10 مليارات دينار للحكومة لمجابهة أزمة كورونا وهي حقيقة لا تساوي شيئا أمام ما يكسبه بعد دفعه للحكومة أن تغض عنه الطرف تاركة له المجال لمواصلة تجارته للخمور دون أن يشمله قرار الحجر. فنفهم بذلك أن الحجر في بلادنا وبلاد الإسلام عامة له سياسة انتقائية تقفز على غلق المساجد دون مخازن ومحلات بيع الخمر!

إن قرار تعليق صلاة الجماعة لمفتي القدس فتح المجال لمارقٍ مثل يوسف الصديق لأن يدعو الشيخ لاستغلال الفرصة ومراجعة علاقتنا بكلام الله أي القرآن وفتح المجال للمواصلة على نفس النهج والوتيرة: فمثلما عطلتم حكم الله في صلاة الجماعة لماذا لا تملكون الشجاعة وتعطلوا كل أحكام الله التي تنظم حياة المسلمين فتجعلوا الدين مسألة فردية خاصة مثلما جعلتم الصلاة في زمن كورونا فردية بالبيوت؟!

يا شيخ محمد حسين! إن هذا العلماني وحفنة أخرى تشبهه ندعوهم في تونس بأيتام فرنسا، وعلى عكسكم فقد درستم دينكم عند العلماء والفقهاء في كليات الشريعة واستزدتم وتربعتم في المساجد وعكفتم في الحلقات، أما هو فقد جلس واضعا ساقا فوق ساق مع المستشرقين في أحضان جامعة السوربون يُفقهونه في دين الإسلام، وحسبك أن تتخيل كافرا يُفقه المسلمين في دينهم فأي نسخة ستنتج وأي علم شرعي سيُطل علينا؟!

إن هؤلاء ليس لهم امتداد في تونس ولا يلتفت لهم أحد من أهل البلاد الصافين الأتقياء بل هم مكروهون من عامة الناس وحتى من طلبتهم في الجامعات، لكن النظام العلماني في تونس هو الوحيد الذي ينفخ في صورتهم ويزينهم بهالة إعلامية كاذبة ليضرب بهم عقيدة الإسلام ويخلط على الناس أمور دينهم.

يا شيخ! إن هؤلاء المفلسين المفسدين لا يستحقون حتى المجالسة وإنهاك العقل للرد عليهم فهم أعراض مرض العلمانية التي أصابت الأمة، لكننا والحمد لله وفي زمن كورونا نرى عجائب الله في الأنظمة الرأسمالية التي فصلت الدين عن الحياة تتهاوى وتعجز، فترامب يصلي يوم الأحد ورئيس وزراء إيطاليا ينتظر في رحمة السماء.

يا شيخ! أنت مفتي أرض بيت المقدس، فلا ترض لنفسك الدنية ولا تجالس أعداء الإسلام مثلما لا تهادن عباسا قد خان.

يا شيخ! إن لنا في سيرة علماء الإسلام الربانيين الصالحين قدوة، فكان الأولى أن تعمل بنصيحة الإمام الشافعي رحمه الله إذ قال: أَعرِض عَنِ الجاهِلِ السَفيهِ فَكُلُّ ما قالَ فَهُوَ فيهِ / ما ضَرَّ بَحرَ الفُراتُ يَوماً إِن خاضَ بَعضُ الكِلابِ فيهِ.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هاجر بالحاج حسن

#كورونا                   |                  #Covid19             |                  #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست