فرنسا؛ البحث عن المنفعة في ظل نظام مفلس، فلماذا نحن؟
فرنسا؛ البحث عن المنفعة في ظل نظام مفلس، فلماذا نحن؟

الخبر:   ماكرون يصعد حربه ضد الإسلام.

0:00 0:00
Speed:
October 25, 2020

فرنسا؛ البحث عن المنفعة في ظل نظام مفلس، فلماذا نحن؟

فرنسا؛ البحث عن المنفعة في ظل نظام مفلس، فلماذا نحن؟

(مترجم)

الخبر:

ماكرون يصعد حربه ضد الإسلام.

التعليق:

إن مطاردة فرنسا الأخيرة للمسلمين ليست سوى واحدة من أساليبها في تاريخها الطويل من الكراهية للإسلام والمسلمين. دماء المسلمين لا تزال تقطر من أياديهم وهم يهتفون بشعارهم الفارغ: "حرية، مساواة، أخوة"! ومن وراء هذه الواجهة يستعمرون ويذبحون ويضطهدون الآخرين. ومع ذلك، عندما يحين موعد الانتخابات، ينجذب بعض المسلمين إلى التصويت للأحزاب العلمانية في النظام العلماني على أمل العثور على نوع من الراحة أو المنفعة للجاليات الإسلامية. إلى جانب المنظور الشرعي الواضح لهذه القضية، ما مدى المنطقية في ذلك من منظور الواقع؟

الفكرة الأساسية لفلسفة التنوير الغربي العلماني هي فكرة مضادة لمفهوم تدخل الله في حكمهم وتنظيم حياتهم. يتم التسامح مع الديانات المختلفة وأتباعها طالما أن معتقدهم مجرد إيمان سياسي ويذوب داخل النظام العلماني، وإلا فإنه يطلب من أتباع ذلك الدين تغيير دينهم (مثل المطالبة بإسلام ليبرالي) والاندماج في الثقافة العلمانية السائدة، حتى لو كان التابعون لا يعملون على تغيير المجتمعات الغربية ويلتزمون بالقوانين في المحيط العام؛ لأن الشرط المسبق لقبولك في الدول العلمانية هو أنه ليس عليك فقط الالتزام بسيادة القانون ولكن عليك أيضاً الإيمان بالقيم العلمانية وإظهار الولاء لها. بعبارة أخرى: العلمانية ليست مرادفاً لشعارهم الرخيص "الحرية، المساواة، الأخوة" بل هي مرادف للاستيعاب القمعي.

هذا هو السبب في أنهم يثيرون عمداً مشاعر الناس ضد الإسلام من أجل تبرير سياساتهم القمعية والتمييزية، وكلما كانت سيادة القانون تتعارض مع سياستهم، فإنهم ببساطة يغيرون أو يعدلون القانون. مثل عبدة الأصنام في شبه الجزيرة العربية في زمن النبي عليه الصلاة والسلام، كانوا يعبدون آلهة من التمر يصنعوها بأيديهم وكلما جاعوا كانوا يأكلونها!

بل إنهم يجبرون المسلمين على قبول الإساءة لنبينا الحبيب ﷺ، وقد بدأوا مبادرات "لتغيير" القرآن الكريم وإنشاء "إسلام فرنسي أو ليبرالي". أصبحت هذه العقلية العلمانية الراديكالية أرضية مشتركة لجميع الدول الغربية في سياساتها ضد الإسلام والمسلمين. لذا، فإن فكرة "الدولة المحايدة" فيما يتعلق بالأديان والجماعات المختلفة في المجتمع، وشمولية الجميع بغض النظر عن خلفيتهم، قد ثبت أنها كذبة كبرى.

عندما يحدث هذا، كيف يمكن للمسلمين الذين يعيشون في الغرب أن يتوقعوا نوعاً من المنفعة للجاليات المسلمة من خلال المشاركة السياسية في هذا النظام المفلس بشكل علني ضد الإسلام؟

المحزن أن المسلمين قد ضُللوا مراراً وتكراراً في المشاركة السياسية والتصويت في هذا النظام الفاسد. ففي فرنسا؛ صوت المسلمون بأغلبية كبيرة لصالح مرشح الوسط المعتدل إيمانويل ماكرون، لأنهم كانوا يخشون من وصول حزب مارين لوبان اليميني المتطرف إلى السلطة.

قبل الانتخابات، انتقد الزعيم اليميني المتطرف لوبان الصلاة في الشارع، واصفاً إياها بـ"غزو الإسلام" للمجتمع الفرنسي، إلا أن الرئيس ماكرون هو من حظر صلاة الشارع وأمر بمداهمة المساجد في جميع أنحاء فرنسا، وقامت السلطات بإغلاق 73 مسجداً ومدرسة إسلامية خاصة على الأقل في جميع أنحاء فرنسا منذ كانون الثاني/يناير في محاولة لمكافحة "الإسلام المتطرف".

قبل الانتخابات، أطلق ماكرون على حزب لوبان لقب "حزب الكراهية" وقال "لن أقبل أن يُهان الناس لمجرد أنهم يؤمنون بالإسلام". والآن فهو يتأكد من أن الرسوم الكاريكاتورية المثيرة للاشمئزاز يتم عرضها على مبنى حكومي. حتى إنه أغلق مسجد بانتين الكبير لأنه شارك مقطع فيديو ينتقد الرسوم الكاريكاتورية للنبي عليه الصلاة والسلام.

وصف لوبان المسلمين بأنهم "خطر مميت" على فرنسا، واتهمهم ماكرون بتقسيم فرنسا وإشعال "حرب أهلية". يعلن ماكرون الآن أن "الإسلام في أزمة" ويتعهد بمحاربة المسلمين ويصفهم بأنهم "انفصاليون إسلاميون".

حتى التجمع المناهض للإسلاموفوبيا في فرنسا (CCIF) غير الربحي الذي يوثق حوادث الإسلاموفوبيا، فإنه مدرج في قائمة المنظمات المستهدفة التي سيتم حلها. وتنص فقرة بارزة في تقرير التجمع المناهض للإسلاموفوبيا في فرنسا السنوي لعام 2016 على ما يلي:

"بجانب وجوده داخل المجلس الاقتصادي والاجتماعي التابع للأمم المتحدة، يقدم التجمع المناهض للإسلاموفوبيا في فرنسا بياناته كل عام إلى منظمة الأمن والتعاون في أوروبا والتي تستخدمها في تقريرها السنوي عن جرائم الكراهية. ويشارك التجمع المناهض للإسلاموفوبيا في فرنسا أيضاً في المؤتمرات السنوية لدائرة المؤسسات الديمقراطية وحقوق الإنسان التي يتم فيها فحص التقدم (والنكسات) في مجال حقوق الإنسان. وتشارك في تلك الدورات 57 دولة، بما في ذلك فرنسا".

لذلك، حتى لو كانت المنظمات والجمعيات الإسلامية تعمل في نطاق الإطار العلماني، فلا يمكن التسامح معها ولا بد من حلها. هذه هي الرسالة التي ترسلها فرنسا والدول الغربية الأخرى إلى المسلمين.

المفارقة أن ماكرون وصل إلى السلطة بأصوات المسلمين، مما يجعلهم للأسف مشاركين في حملة الكراهية ضد الإسلام. مع علمنا بهذا، فكيف ننخدع مراراً وتكراراً ليتم استدراجنا للمشاركة السياسية في نظام مفلس، يعتبر الإسلام عدواً له، لتحقيق نوع من المنفعة للجاليات الإسلامية؟!

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أوكاي بالا

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست