فرنسا المجرمة تتآمر على الإسلام مستعينة بأتباعها من الرويبضات
فرنسا المجرمة تتآمر على الإسلام مستعينة بأتباعها من الرويبضات

الخبر:   بتاريخ 2020/10/16، قام وزير الداخلية الفرنسي بزيارة للمغرب التقى فيها بنظيره المغربي، وتحادثا فيها عن مواضيع تتعلق بالأمن ومحاربة الإرهاب وعن سبل تحسين العمل المشترك بين البلدين. كما التقى بوزير الأوقاف المغربي أحمد التوفيق للحديث حول القانون الذي تنوي الحكومة الفرنسية سنه والمتعلق بالانفصالية، حيث أشار الوزير الفرنسي أنه يريد التشاور مع المغرب الذي تربطه بفرنسا علاقات علمانية مبنية على الاحترام والثقة.

0:00 0:00
Speed:
October 25, 2020

فرنسا المجرمة تتآمر على الإسلام مستعينة بأتباعها من الرويبضات

فرنسا المجرمة تتآمر على الإسلام مستعينة بأتباعها من الرويبضات

الخبر:

بتاريخ 2020/10/16، قام وزير الداخلية الفرنسي بزيارة للمغرب التقى فيها بنظيره المغربي، وتحادثا فيها عن مواضيع تتعلق بالأمن ومحاربة الإرهاب وعن سبل تحسين العمل المشترك بين البلدين. كما التقى بوزير الأوقاف المغربي أحمد التوفيق للحديث حول القانون الذي تنوي الحكومة الفرنسية سنه والمتعلق بالانفصالية، حيث أشار الوزير الفرنسي أنه يريد التشاور مع المغرب الذي تربطه بفرنسا علاقات علمانية مبنية على الاحترام والثقة.

التعليق:

من المعروف أن المغرب يلعب دوراً كبيراً في الناحية الأمنية للتجسس على المسلمين عموماً والحركات الجهادية خصوصاً، لخدمة فرنسا والغرب...

وقد نشر موقع العربي الجديد بتاريخ 10/13 تعليقاً على الزيارة ما يلي: "سيكون التعاون مع الأجهزة الأمنية المغربية، خاصة فيما يتعلق بمواجهة الإرهاب، على رأس القضايا التي سيبحثها الوزير الفرنسي خلال مباحثاته مع لفتيت وزير الداخلية المغربي. وتعتبر باريس الرباط شريكاً مثالياً في المجالات الأمنية والاستخبارية والعسكرية، بالنظر إلى العديد من العوامل، لعل أولها الاحترافية والكفاءة المشهود بها لجهاز مديرية مراقبة التراب الوطني (الاستخبارات) في محاصرة العناصر المتطرفة. وثاني العوامل التي تدفع الفرنسيين إلى تفضيل التعامل مع المغرب في مجال مكافحة الإرهاب، يعود إلى كون إحدى كبرى الجاليات في فرنسا هم من المغاربة، الذين يقطنون في ضواحي المدن، حيث تسود البطالة والتهميش، ويعانون من الفراغ وأحياناً من العنصرية والتعنيف. كما يُنظر إلى أماكن سكنهم وكأنها بؤر متطرفة. وتعوّل فرنسا على المغرب كثيراً في رصد الجالية المغربية في الأراضي الفرنسية، وتحركات المقاتلين، سواء داخل المملكة أو خارجها، عبر تقديم المساعدة بتوفير المعلومات الأمنية".

لكن المثير في الأمر، هو أن يجتمع وزير الداخلية الفرنسي بوزير الأوقاف المغربي بعد التصريحات المستفزة التي أدلاها ماكرون والتي هاجم فيها الإسلام صراحة وزعم فيها أنه يمر بأزمة. فمن المعلوم أن المغرب يقوم، بالإضافة إلى الدور الاستخباراتي، بدور كبير ومنذ مدة في إعداد أئمة على المقاس الأوروبي لتصديرهم إلى فرنسا ومستعمراتها في أفريقيا لتأطير المسلمين وتوجيههم نحو "الإسلام المعتدل"، أي الإسلام العلماني المفصل على مقاس الحكام وساستهم في الغرب.

المثير، هو أن يعلن حكامنا عن أدوارهم القبيحة في محاربة الإسلام بكل وقاحة وبدون أي مواربة، ويساندوا فرنسا في مسعاها الخبيث حتى بعد أن نزعت برقع النفاق عن وجهها وتنكرت لمزاعمها عن الحيادية والعلمانية والحرية و...، ومن يقرأ مشروع القانون الذي أعدته فرنسا لمواجهة ما سماه ماكرون "النزعة الإسلامية الراديكالية" الساعية إلى "إقامة نظام مواز" في فرنسا، يلمس الحقد الدفين الذي تكنه فرنسا للإسلام... فقد جاء في الخطوط العريضة لمشروع القانون الذي نشره وزير الداخلية الفرنسي على حسابه في تويتر بتاريخ 10/06:

  • وجوب احترام الحيادية من طرف الأجهزة العمومية (المقصود منع أي تسامح مع المظاهر الإسلامية)، ويضرب مثالاً على سبيل الاستنكار لشركة نقل عام قامت بإعداد قاعات للصلاة إرضاء لموظفيها المسلمين،
  • إعطاء صلاحيات قانونية للمحافظ لوقف قرارات البلديات غير الملتزمة بالحيادية، ويضرب مثالاً بترتيب أوقات المسابح العمومية للفصل بين الرجال والنساء، واختيار الكتب في المكتبات البلدية،...
  • الوقف الفوري لكل أشكال الدعم المادي لأي جمعية يثبت عليها عدم التقيد "بالقيم الجمهورية والمتطلبات الدنيا للعيش المشترك"، ويضرب مثالا لجمعية تتلقى دعماً بقيمة 2000 يورو في حين يدلي مسؤولوها تصريحات معادية للسامية.
  • توسيع الأسباب المبيحة لحل الجمعيات لإدخال الحالات التي يثبت فيها تورطها في المس بكرامة الأشخاص أو ممارستها ضغوطاً نفسية أو بدنية على الأشخاص وخصوصاً الأطفال، ويضرب مثالاً لجمعية لم يمكن حلُّها تحت النظام الحالي رغم أنها كانت مرتبطة بشبكات أشادت بالإرهاب.
  • وجوب تدخل الدولة لتعديل حصص الإرث لإصلاح الضرر الذي قد يلحق بالنساء نتيجة تطبيق قانون مواريث أجنبي، ويقصد طبعاً قانون المواريث الإسلامي.
  • وضع حد للدراسة في المنازل ابتداء من 3 سنوات إلا لأسباب صحية، ويضرب مثالاً عن مدرسة تديرها جمعية تستقبل 40 طفلاً بين 3 و6 سنوات وتُدرِّسهم كتاباً بعنوان "تعليم التوحيد للأطفال" لمحمد بن عبد الوهاب، علماً أن هذا الكتاب ممنوعٌ من النشر بسبب حضِّه على الكراهية والتفريق بين الأشخاص الذين لا يتبعون الإسلام على المذهب الوهابي.

والواضح من مشروع القانون هذا أنه موجَّهٌ للمسلمين بشكلٍ سافرٍ، لضرب العقيدة الإسلامية والأحكام الشرعية على حدٍّ سواء، ويهدف لخلق إسلامٍ جديدٍ علمانيٍّ صِرْفٍ، إسلام مُروَّضٍ ومُفصَّلٍ على العلمانية الفرنسية، حتى في أبسط الأمور، بحيث لا يبقى له لونٌ ولا طَعْمٌ ولا رائحة.

وقد زادت حِدَّة الهجمات على الإسلام بعد حادثة مقتل المدرس الفرنسي صامويل باتي الذي عرض الرسوم الكاريكاتورية المسيئة للنبي عليه الصلاة والسلام، واستغلت السلطات الفرنسية الحادث لفرض مزيد من التضييق على الأنشطة الإسلامية، ومن المتوقع أن يزيد هذا التضييق في الأشهر القادمة، كما تعهَّد الرئيس الفرنسي في تأبين القتيل بعدم التخلي عن هذه الرسوم المسيئة في تصريح مستفز للمسلمين.

إن عداء فرنسا المتأصل للإسلام رغم ما يثيره فينا من غضبٍ وأسىً، إلا أنه لا يُقارن بالأسى الذي يثيره فينا تخاذل حكام المسلمين بل وتواطؤهم مع أعداء هذا الدين، والعون الذي يقدمونه لهم لضرب المسلمين والتضييق عليهم.

ورغم ذلك كله، نقول إن الفرج قريب، وإن اشتداد عتمة الليل ينبئ بقرب بزوغ الفجر، ولولا أن فرنسا تُحِسُّ بِعِظَمِ خطر المسلمين عليها وقُرْبِ أن يَسحبوا البساط من تحت أقدامها، ما أقدمت على إعلان عدائها للإسلام بهذا السفور، فوحده فاقد الخيارات يكشف المستور، أما من هو في فسحةٍ من أمره فيمارس الألاعيب السياسية ولا يفضح خططه.

نسأل الله أن يُعجِّل بالفرج، وأن ينتقم لنا ممن أساء إلى ديننا وإلى نبينا،

وصلى الله وسلم وبارك على سيدنا محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسليماً كثيراً.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

خالد رضوان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست