فساد حال المسلمين وسوء ظروفهم الاقتصادية نتاج طبيعي لغياب الإسلام وخيانة الحكام
فساد حال المسلمين وسوء ظروفهم الاقتصادية نتاج طبيعي لغياب الإسلام وخيانة الحكام

الخبر:   اعترفت السعودية، أكبر منتج للنفط في العالم، في أكثر من تقرير رسمي، بمعاناتها من ظاهرة الفقر، إلا أنها لم تفصح عن أعدادهم أو نسبتهم حيث تعمدت إخفاء أية إحصائيات حول هذا الموضوع، وفي المقابل كشفت تقارير غير رسمية عن أن نسبة الفقر تفاقمت لتتراوح ما بين 15 و25% من إجمالي عدد السعوديين البالغ 20.4 مليون نسمة، ويتوزع ملايين الفقراء السعوديين في العديد من المناطق، ولا سيما التي تقع في الأطراف وتعاني من إهمال على مدار الحكومات المتعاقبة. ومن المتناقضات ضم السعودية لأكبر عدد من المليارديرات على مستوى الوطن العربي، إذ رصد تقرير صدر عن مؤشر "ويلث إكس" لتعداد المليارديرات في العالم، بالاشتراك مع بنك "يو بي إس" السويسري، أن السعودية بها 64 مليارديراً وحلت الثامنة في قائمة الدول الـ10 الأكثر احتضانًا للمليارديرات، وعلى رأسهم الوليد بن طلال بثروة تقدر بنحو 18.7 مليار دولار، حسب مجلة "فوربس" العالمية، وما يثير تساؤلات حول تركز ثروات النفط في أيدي عدد محدود من الأفراد. (العربي الجديد، 2017/08/19م)

0:00 0:00
Speed:
August 20, 2017

فساد حال المسلمين وسوء ظروفهم الاقتصادية نتاج طبيعي لغياب الإسلام وخيانة الحكام

فساد حال المسلمين وسوء ظروفهم الاقتصادية

نتاج طبيعي لغياب الإسلام وخيانة الحكام

الخبر:

اعترفت السعودية، أكبر منتج للنفط في العالم، في أكثر من تقرير رسمي، بمعاناتها من ظاهرة الفقر، إلا أنها لم تفصح عن أعدادهم أو نسبتهم حيث تعمدت إخفاء أية إحصائيات حول هذا الموضوع، وفي المقابل كشفت تقارير غير رسمية عن أن نسبة الفقر تفاقمت لتتراوح ما بين 15 و25% من إجمالي عدد السعوديين البالغ 20.4 مليون نسمة، ويتوزع ملايين الفقراء السعوديين في العديد من المناطق، ولا سيما التي تقع في الأطراف وتعاني من إهمال على مدار الحكومات المتعاقبة.

ومن المتناقضات ضم السعودية لأكبر عدد من المليارديرات على مستوى الوطن العربي، إذ رصد تقرير صدر عن مؤشر "ويلث إكس" لتعداد المليارديرات في العالم، بالاشتراك مع بنك "يو بي إس" السويسري، أن السعودية بها 64 مليارديراً وحلت الثامنة في قائمة الدول الـ10 الأكثر احتضانًا للمليارديرات، وعلى رأسهم الوليد بن طلال بثروة تقدر بنحو 18.7 مليار دولار، حسب مجلة "فوربس" العالمية، وما يثير تساؤلات حول تركز ثروات النفط في أيدي عدد محدود من الأفراد. (العربي الجديد، 2017/08/19م)

التعليق:

من الطبيعي لبلد غني بالثروات العامة والتي تدخل تحت صنفي الملكية العامة وملكية الدولة أن تصل إلى هذا الحد من السوء في التوزيع جراء استحواذ ثلة من المتنفذين وأتباعهم وأشياعهم بالملكيات العامة وملكيات الدولة، بدلا من أن يجري توزيعها وتصريفها لما فيه مصلحة العامة، وهذا ليس حال السعودية فحسب وإن كان فيها بارزا كبقية الدولة النفطية الغنية، بل هو حال كل بلاد المسلمين مع تفاوت هنا وهناك مرجعه إلى مدى سيطرة الطبقة الحاكمة ودرجة غياب المحاسبة والشفافية والخوف من الخصوم السياسيين، وهذا أمر تعاني منه بلاد المسلمين كما تعاني منه بلاد الغرب وإن كان بأقل درجة نظرا لوجود نوع من المحاسبة والقانون فيها أكثر من بلاد المسلمين.

ففي المحصلة، هذه الحالة من التردي والفقر في أصلها نتاج الفكر الرأسمالي المطبق، وتتفاوت فيه دول العالم ومنها بلاد المسلمين تبعا لحيثيات وظروف محلية أو إقليمية خاصة بكل منطقة أو بلد، لكن بالمجمل كل من يعتنق الفكر الغربي في الاقتصاد يعاني من المشكلة نفسها ولن يتخلص منها وإن سعى إلى ذلك.

فدعوات الإصلاح والعلاج المنبثقة أو المبنية على الفكر الرأسمالي ومنطلقاته كلها فاشلة ولن تغني عن المسلمين أو الفقراء شيئا يذكر، لأن الخلل أصيل في فكرهم الاقتصادي وعميق في جذور نظرتهم للقضايا الاقتصادية، وزاد على ذلك في بلاد المسلمين حالة العمالة والدكتاتورية التي يتصف بها الحكام مما جعلهم شرا في وجودهم وشرا في معالجاتهم حتى وإن أرادوا غير ذلك.

إن الفكر القويم الذي يجب أن يُرعى به المسلمون ليسعدوا به في الدارين، هو فكر الإسلام، ففيما يتعلق بالاقتصاد وهو محل الحديث هنا، فالإسلام سعى إلى توزيع الثروات توزيعا عادلا بين الناس وحال دون تكدسه أو استئثار فئة أو مجموعة به دون غيرهم من الناس ﴿كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاء مِنكُمْ﴾، بل إن الإسلام اعتبر المشكلة الاقتصادية التي تحتاج إلى حل وتشريعات هي توزيع الثروة وليس إنتاج الثروة. والنظام الاقتصادي في الإسلام قد رسم وخطط للثروة بتشريعات جعلت الأمر الطبيعي هو حصول كل الناس على الحاجات الأساسية وتمكينهم من الحصول على الحاجات الكمالية بأكبر درجة ممكنة، وكان الأمر غير الطبيعي أو الاستثنائي أن يحصل سوء توزيع أو تكدس وهو ما عالجه بتشريعات للخليفة ليستدرك ويعالج تلك الحالة عند حدوثها.

وإن من أسوأ ما سبب التفاوت الكبير بين الناس في الثروة، والغنى الفاحش للثلة الحاكمة وأتباعهم هو فساد رعاية الملكيات الثلاث، بحيث مكنت الرأسمالية الحكام من جعل الملكيات العامة وملكيات الدولة قابلة للتملك والاستحواذ عليها من قبل الأفراد تحت ذرائع ومبررات اقتصادية أو رعوية عدة، وهو ما مكن أفراداً قلة من بلوغ المليارات على حساب البقية الذين تم سرقة أموالهم بحرمانهم من الملكيات العامة وملكية الدولة والتي كان من المفترض أن تكون للجماعة وليس لأفراد، وزاد على ذلك عمالة وخيانة حكام المسلمين في بلاد المسلمين ليزداد الطين بلة، وهذا ما يفسر الخبر أعلاه في السعودية.

فما من سبيل إلى الخلاص من حالة الضنك والشقاء التي تحياها البشرية ومنها بلاد المسلمين إلا بالإسلام العظيم ونظامه الاقتصادي الفريد الذي يحتاج إلى دولة الخلافة على منهاج النبوة لتطبقه وتحسن رعاية شئون الثروة والناس به، ﴿وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاء وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلاَ يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إَلاَّ خَسَاراً﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

المهندس باهر صالح

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في فلسطين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست