فشل الحكومة التي صنعها جون كيري يجب أن يكون واضحاً للجميع الآن! (مترجم)
فشل الحكومة التي صنعها جون كيري يجب أن يكون واضحاً للجميع الآن! (مترجم)

الخبر:   قتل 10 أشخاص من القوات المسلحة الأفغانية وأصيب 9 آخرون في مقاطعة هلمند الشرقية بأفغانستان نتيجة لضربة جوية شنتها القوات الخارجية. وقد وقع الحادث في منطقة دي آدم خان في مقاطعة غريشك في ولاية هلمند مساء الأحد. وفي هجوم جوي آخر للقوات الجوية الأمريكية على نقطة تفتيش في مقاطعة هلمند أسفر عن مصرع 16 جنديا أفغانيا. وكان اثنان من قادة الجيش من بين الضحايا. ووقع الحادث أيضا في نفس المنطقة التي كانت القوات الأمريكية تدرب القوات الأفغانية فيها. بيد أن وزارة الدفاع الأفغانية أعلنت مسؤوليتها عن ذلك.

0:00 0:00
Speed:
October 08, 2017

فشل الحكومة التي صنعها جون كيري يجب أن يكون واضحاً للجميع الآن! (مترجم)

فشل الحكومة التي صنعها جون كيري يجب أن يكون واضحاً للجميع الآن!

(مترجم)

الخبر:

قتل 10 أشخاص من القوات المسلحة الأفغانية وأصيب 9 آخرون في مقاطعة هلمند الشرقية بأفغانستان نتيجة لضربة جوية شنتها القوات الخارجية. وقد وقع الحادث في منطقة دي آدم خان في مقاطعة غريشك في ولاية هلمند مساء الأحد. وفي هجوم جوي آخر للقوات الجوية الأمريكية على نقطة تفتيش في مقاطعة هلمند أسفر عن مصرع 16 جنديا أفغانيا. وكان اثنان من قادة الجيش من بين الضحايا. ووقع الحادث أيضا في نفس المنطقة التي كانت القوات الأمريكية تدرب القوات الأفغانية فيها. بيد أن وزارة الدفاع الأفغانية أعلنت مسؤوليتها عن ذلك.

التعليق:

إن ما تسمى بحكومة الوحدة الوطنية لأشرف غاني وعبد الله عبد الله التي أنشأها جون كيري قد دامت ثلاث سنوات. وامتناناً لجون كيري الذي منحهم هذه الصلاحيات، وقعوا في غضون الـ48 ساعة الأولى اتفاق الأمن الثنائي. وبعد توقيع الاتفاقية الأمنية اتبعت أمريكا سياسة الاستعمار والاحتلال التي حولت أفغانستان حرفياً إلى قاعدة عسكرية أمريكية، فضلاً عن مشروع أمريكا الحربي.

وللحفاظ على حكمهم، حمل هؤلاء القادة المزيفون جميع الجرائم التي ارتكبتها قوات أمريكا وقوات حلف شمال الأطلسي على أكتافهم. على سبيل المثال، حملوا مسؤولية ضربات الطائرات بدون طيار الأمريكية على مستشفى منظمة أطباء بلا حدود في قندوز مما أدى إلى مقتل عشرات الأطباء والمرضى، وذلك قبل إصدار أي بيان رسمي من قبل الاحتلال الأمريكي. وقبل بضعة أشهر، أسقطت القوات الأمريكية الشرسة أفضل قنبلة تملكها في منطقة أشين في مقاطعة نينغهارهار، ولكن مجدداً أعطى هؤلاء الحكام الخائنون انطباعاً للشعب كما لو أنه تم إسقاطها بالتنسيق المسبق والموافقة. وعلاوة على ذلك، ادعت حكومة الوحدة الوطنية أيضا أن من قام بالقصف هو الجيش الوطني الأفغاني في مقاطعة لوغار، وأنهم أيضاَ من قصفوا المدنيين في مقاطعة نينغارهار، وأنهم من نفذ الهجوم الحالي على قوات الأمن في منطقة غريشك بمقاطعة هلمند.

في دولة ضعيفة بالفعل مثل أفغانستان فإن وجود مثل هؤلاء الحكام الخائنين هو ما تأمله أمريكا والناتو. ويرجع ذلك إلى تبعيتهم المخزية وعبوديتهم المطلقة لها لكونها منحت طائرات الهليكوبتر لقوات الأمن الأفغانية لمواصلة البربرية نيابة عنها والضغط على المعارضة المسلحة لإجبارهم على القدوم إلى طاولة المفاوضات، حسب سياسة ترامب الجديدة. ولتبرئة أمريكا يتحمل النظام في أفغانستان المسؤولية حتى عن الجرائم التي ارتكبتها قواتها وقوات الناتو، وهو أمر مقلق أكثر من قصف قوات الاحتلال. ومن الجدير بالذكر هنا أنه وفقاً للتقرير الذي نشره المسؤولون الأمريكيون فإن أمريكا أسقطت في آب/أغسطس وحده أكثر من 2000 قنبلة في أفغانستان.

بالإضافة إلى كل ذلك، فقد أسقطت القوات الأمريكية منشورات قبل أكثر من شهر بقليل باستخدام طائرات الهليكوبتر في مقاطعة باروان، حيث صوروا أنفسهم بالأسود وحركة طالبان بالكلاب. لم يكتفوا بوضع كلمة على ظهر الكلب وطبعها بشكل منشور. وإنما في هذه المنشور طلبوا من الناس تحرير أنفسهم من "الكلاب الإرهابية" ومساعدة قوات التحالف حتى يجدوا هؤلاء "الإرهابيين" والقضاء عليهم من أجل جعل حياتهم وحياة أسرهم آمنة. وطلبوا أيضا من الناس إبلاغهم بأماكن بوجود طالبان باستخدام رقم الهاتف المكتوب على المنشور.

من المتوقع أن حكومة جون كيري الدمية اختارت أن تبقى صامتة على هذه المسألة الخطيرة المتعلقة برموز الإسلام، حتى يخرج الجمهور للشوارع وينظم احتجاجات ومظاهرات ضخمة. ومن أجل نزع فتيل الوضع فقد أصدرت حكومة عدم الوحدة الوطنية بياناً ضعيفاً دعت فيه إلى إجراء تحقيق، والذي لن تهمنا نتيجته أبدا.

وبسبب سياسات جون كيري فإن الحكومة اضطرت الشباب الذي هو عماد أي دولة إلى الفرار من البلاد. وليس ذلك فحسب، بل إن الحكومة تحرض باستمرار على الكراهية الطائفية والعرقية والقبلية في جميع قطاعات المجتمع. فقد كانوا جميعهم مسلحين وعلى وشك أن يقاتل بعضهم بعضاً. وبمساعدة السفارات الغربية كان أشرف غاني ورفاقه ينفذون بعنف سياسات الغرب في مهاجمة النساء المسلمات وتغيير المناهج التعليمية وتغيير ما تبقى من القواعد والأحكام الإسلامية من خلال مشاريع مختلفة أدت إلى الفاحشة والجرائم والقتل وغيرها على نطاق واسع.

أمريكا من جهة أخرى تعزز قواعدها تحت ذريعة الحرب ضد تنظيم الدولة، وقد أعلنت سياستها في استخدام أفغانستان كقاعدة لاستراتيجيتها في جنوب آسيا. ومن ثم فإن أمريكا من أجل تحقيق أهدافها الاستراتيجية في المنطقة أعلنت أفغانستان كجزء من مشروع جنوب آسيا، الأمر الذي سيدفع أفغانستان إلى ساحة المعركة لتخوض حروباً بالوكالة بين مختلف اللاعبين الإقليميين.

وختاماً، فإن فشل حكومة الانقسام الذليلة وحقيقة قيام قوات الاحتلال بقتلنا وإهانة ديننا وحربهم ضد الإسلام والمسلمين تحت ستار "الإرهاب والتطرف"، والأهم من ذلك تحمل الحكومة الدمية مسؤولية الجرائم التي ارتكبتها قوات أمريكا وقوات الناتو يجب أن يكون الآن واضحاً تماماً للجميع.

وفي الواقع، فإن هذه النخبة الحاكمة الذليلة والمذمومة ليس لديها شجاعة لمواجهة الأمة وللرد على قضاياها واهتماماتها. وبالتالي، من الضروري للمسلمين والأمة المجاهدة في أفغانستان أن يتعاونوا مع بقية الأمة لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة وأن يأخذوا موقفاً ثابتاً ضد أفكار الكفر بجميع أشكالها ومظاهرها، لأن الخليفة وحده القادر على الدفاع عنا نحن أمة محمد r وديننا وقيمنا وشرفنا ومواردنا وكل قطرة من دمنا. «إِنَّمَا الإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ».

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست