فشل النظام الرأسمالي أصبح واضحا للجميع (مترجم)
فشل النظام الرأسمالي أصبح واضحا للجميع (مترجم)

الخبر:   كتب أحد كتاب الأعمدة في صحيفة الجارديان مقالاً هذا الأسبوع بعنوان "تجرأوا وأعلنوا إسقاط حكم الرأسمالية - قبل أن تقضي علينا". حيث افتتح المقال بعبارة "لوقت لا بأس به من حياتي، كنت أهاجم "رأسمالية الشركات"، و"رأسمالية المستهلك" و"الرأسمالية المحببة". ولكن استغرق الأمر وقتاً طويلاً لأرى أن المشكلة لم تكن تكمن في الصفة بل في الاسم. في حين إن بعض الناس رفضوا الرأسمالية على الفور وبكل رضا وسرور، فقد رفضتها وأيقنتُ أنها على خطأ ببطء وعلى مضض. وجزء من هذا يرجع إلى عدم رؤيتي لبديل واضح في ذلك الوقت،

0:00 0:00
Speed:
April 29, 2019

فشل النظام الرأسمالي أصبح واضحا للجميع (مترجم)

فشل النظام الرأسمالي أصبح واضحا للجميع

(مترجم)

الخبر:

كتب أحد كتاب الأعمدة في صحيفة الجارديان مقالاً هذا الأسبوع بعنوان "تجرأوا وأعلنوا إسقاط حكم الرأسمالية - قبل أن تقضي علينا". حيث افتتح المقال بعبارة "لوقت لا بأس به من حياتي، كنت أهاجم "رأسمالية الشركات"، و"رأسمالية المستهلك" و"الرأسمالية المحببة". ولكن استغرق الأمر وقتاً طويلاً لأرى أن المشكلة لم تكن تكمن في الصفة بل في الاسم. في حين إن بعض الناس رفضوا الرأسمالية على الفور وبكل رضا وسرور، فقد رفضتها وأيقنتُ أنها على خطأ ببطء وعلى مضض. وجزء من هذا يرجع إلى عدم رؤيتي لبديل واضح في ذلك الوقت، فعلى عكس بعض المناهضين للرأسمالية، لم أكن أبداً متحمساً لشيوعية الدولة. وتم تثبيتي أيضاً بسبب وضعها الديني. وإن القول بأن الرأسمالية سقطت في القرن الواحد والعشرين يشبه قول إن "الله مات" في القرن التاسع عشر. وهذا يتطلب درجة من الثقة بالنفس لم أكن أمتلكها. لكن مع مرور الوقت، أدركت أمرين اثنين. أولاً، أن النظام بدلاً من أي نظام آخر بديل له، هو الذي يدفعنا بقوة نحو المصائب. ثانياً، أنك لست مضطراً إلى إنتاج بديل نهائي للقول إن الرأسمالية فشلت. لكن هذا يتطلب بذل جهد آخر ومختلف لتطوير نظام جديد".

وأضاف بأن "فشل الرأسمالية ينجم عن عنصرين من العناصر المحددة لها. الأول هو النمو الدائم. النمو الاقتصادي وهو التأثير الكلي للسعي نحو جمع رأس المال وجني الأرباح. والرأسمالية تنهار من دون نمو، لكن النمو الدائم والمستمر على كوكب محدود يؤدي حتماً إلى كارثة بيئية". وكان جمال هاروود وسافراز والي قد تعرّضا لموضوع النمو الرأسمالي سابقاً في بحثهما عام 2013 بعنوان "ضرورة النمو الاقتصادي للرأسمالية ووجهة النظر الإسلامية". (New Civilisation)

التعليق:

إن استهداف النمو الاقتصادي هو أمر لا يمكن تجاهله من الدول العلمانية لمنع النظام من الانهيار على نفسه. والبيئة تكون هي الضحية التي لا مفر منها لمثل هذا العيب في التصميم المنهجي، حيث يخلق النظام تعارضاً ممنهجا مع السياسات البيئية المستدامة. وهذه الضرورة والحاجة تستوجب في جزء كبير منها النظام النقدي القائم على الربا. فعليهم أن يزيدوا الإنتاج بما يتماشى مع تزايد المال المعروض الضروري لخدمة الديون. وإذا تأخر عرض المال، فإن الانكماش يمثل خطراً حقيقياً يؤدي إلى دوامة الموت الهابطة التي لا يستطيع النظام الرأسمالي مواجهتها.

مقالة الجارديان هي جزء من سلسلة طويلة من المقالات التي تنتقد الرأسمالية وتأثيراتها على البيئة، والتي هي في حد ذاتها استجابة للمظاهرات المتنامية في لندن النابعة من أشخاص يشعرون بقلق بالغ إزاء تأثير الحكومات الغربية الرأسمالية.

ومضت المقالة أيضاً بالرد على الصحفي الذي كتب هذا الأسبوع عن "محاسن الرأسمالية" بعبارة "إن الإشارة إلى هذه المشكلات هو مجموعة من الاتهامات، التي يستند الكثير منها إلى هذه الفرضية: بأن الرأسمالية أنقذت مئات الملايين من الناس من الفقر - ​​ولكن الآن يحاول النظام إفقارهم مرة أخرى. فصحيح أن الرأسمالية، والنمو الاقتصادي الذي تحركه، قد حسَّنا بشكل كبير من ازدهار أعداد كبيرة من الناس، ولكن دمروا بذلك وفي الوقت نفسه رخاء العديد من الآخرين: مثل أولئك الذين استولت على أراضيهم وعملهم ومواردهم لتغذية النمو في أماكن أخرى. بالإضافة إلى أن معظم ثروات الدول الغنية كانت ولا تزال مبنية على الرق والمصادرة الاستعمارية".

إن بحث هذا المؤلف، والعديد من الكتاب الآخرين عن الرأسمالية منذ الأزمة الاقتصادية عام 2008، هو أمر لا مفر منه لأي شخص لديه قدر من الوعي والصدق. ولكن مع ذلك، لا يزال هؤلاء المؤلفون مرتبطين برأسمالية علمانية، على الرغم من أن عيوبها تصبح أكثر وضوحاً كل يوم. مثل هذه العلاقة تمنعهم من النظر إلى أي شيء آخر غير الإقطاع الأوروبي أو الشيوعية ما قبل الرأسمالية كبدائل، ويبدو أنهم يجهلون الأنظمة الإسلامية ويخافون منها.

وللأسف، فإن المسلمين حالياً ليسوا في وضع يؤهلهم لإخراج البشرية من ظلام الرأسمالية إلى نور الإسلام، بسبب غياب دولة الخلافة التي تطبق الأنظمة الإسلامية الاقتصادية والاجتماعية والأحكام الإسلامية الصحيحة. ولكن نسأل الله أن لا يكون ذلك اليوم ببعيد، يوم التطبيق العملي للإسلام من الجميع وبإذن الله كما دخلت قريش من قبل في الاسلام، سينهي معارضو الإسلام معارضتهم ويدخلون الإسلام بأعداد كبيرة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

يحيى نسبت

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في بريطانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست