فشل رؤية بوروندي 2025
فشل رؤية بوروندي 2025

  الخبر: بعد اتفاق أروشا للسلام عام 2000، انطلقت رؤية "بوروندي 2025" عام 2003، والتي كانت تهدف إلى توفير تنمية مستدامة للبورونديين. ومع أنها في عامها الأخير، لم يتحقق أيٌّ من أهدافها.

0:00 0:00
Speed:
March 17, 2025

فشل رؤية بوروندي 2025

فشل رؤية بوروندي 2025

(مترجم)

الخبر:

بعد اتفاق أروشا للسلام عام 2000، انطلقت رؤية "بوروندي 2025" عام 2003، والتي كانت تهدف إلى توفير تنمية مستدامة للبورونديين. ومع أنها في عامها الأخير، لم يتحقق أيٌّ من أهدافها.

التعليق:

شهدت بوروندي، التي استقلت عن بلجيكا عام 1962، صراعات عرقية عديدة قائمة على النزعة القبلية، أدت في النهاية إلى حرب أهلية ضارية استمرت 12 عاماً بدءاً من عام 1993. وفي عام 2000، وبعد سلسلة من المفاوضات في إطار عملية انتقال سياسي طويلة في تنزانيا، تمّ اعتماد اتفاق أروشا الذي أفضى إلى رؤية 2025.

حددت الرؤية ثلاثة أهداف أساسية، هي: إرساء حكم رشيد، وتطوير اقتصاد قوي وتنافسي، وتحسين الظروف المعيشية لشعب بوروندي.

وفيما يتعلق بإرساء حكم رشيد، سعت الحكومة إلى مكافحة الفساد وتشكيل حكومة شاملة للجميع. الوضع على أرض الواقع يتناقض مع هذا، فوفقاً لتقرير منظمة فريدوم هاوس لعام 2024، ازداد الفساد في بوروندي، حيث ارتفع من 3 نقاط في عام 2000 إلى 4 نقاط في عام 2024. وتُصنف بوروندي باستمرار من بين أكثر دول العالم فساداً. كما أنّ هناك انقساماً مجتمعياً كبيراً في بوروندي قائماً على أسس قبلية، لا سيما بين القبيلتين الرئيسيتين - الهوتو والتوتسي. فعلى سبيل المثال، تواجه المعارضة، ومعظمها من التوتسي، وأنصارها مضايقات وترهيباً وحتى اغتيالات، ما يجبر العديد منهم على العمل في المنفى. كما أثبتت قضية تطوير اقتصاد قوي وتنافسي فشلها. وتهدف الحكومة إلى معالجة الاتجاهات السلبية في نصيب الفرد من الناتج المحلي الإجمالي التي شهدتها البلاد لفترة طويلة تزيد عن عقد من الزمان، بما يضمن ارتفاعه من 137 دولاراً إلى 720 دولاراً أمريكياً في عام 2025، وخفض معدل الفقر وزيادة معدل النمو الاقتصادي إلى 10٪ في المتوسط. بلغ الناتج المحلي الإجمالي للفرد 362 دولاراً عام 2023، و320 دولاراً عام 2024، و156 دولاراً عام 2025، ما يدل على أن تحقيق ناتج محلي إجمالي قدره 720 دولاراً أمريكياً للفرد هو أمر مستحيل في عام 2025. وبلغ متوسط ​​معدل النمو الاقتصادي 4.6٪ عام 2024، و5.9٪ في عام 2025، ما يعني أنه لم يتم الوصول إلى نمو بنسبة 10٪. ولا تزال بوروندي من بين الدول الفقيرة في العالم، ما يعني أن الحكومة فشلت في تحسين الظروف المعيشية للشعب كما هو مخطط لها في رؤيتها لعام 2025. في الواقع، أعطى قادة الحزب الحاكم CNDD-FDD والعديد من مسؤولي الدولة الأولوية للسيطرة على الموارد الاقتصادية للحفاظ على نظامهم وتحقيق تطلعاتهم الاقتصادية الشخصية بدلاً من خدمة الشعب.

فيما يتعلق بتحسين الظروف المعيشية، لم تتحسّن الأمور. حيث يعاني العديد من البورونديين من البطالة، بينما لا تزال الزراعة نشاطهم الاقتصادي الرئيسي، حيث توظف 90% من السكان الذين يعتمدون على زراعة الكفاف البدائية.

أما الحصول على الرعاية الصحية فيعاني من صعوبات بالغة، حيث لا تزال الحكومة تخصص ميزانية ضئيلة، وقد ازدادت صعوبة الحصول عليها بالنسبة لغالبية البورونديين بعد اعتماد الدولة لنظام استرداد التكاليف في شباط/فبراير 2002. حيث إن على المرضى، بغض النظر عن إمكانياتهم، دفع جميع تكاليف الاستشارات الطبية والفحوصات والأدوية والإقامة في المستشفى، وما إلى ذلك (المجلة البريطانية للممارسة). علاوةً على ذلك، تعاني بوروندي من نقص في الكوادر الطبية المدربة، حيث يعمل الكثير منهم إما في مؤسسات خاصة أو ينتقلون إلى رواندا المجاورة بحثاً عن فرص عمل (هيومن رايتس ووتش). ويعيش جزء كبير من السكان تحت خط الفقر، ما يصعب عليهم تحمل تكاليف السكن اللائق.

وفقاً لتقرير السعادة العالمي لعام 2018، صُنفت بوروندي من بين الدول الأقل سعادة. ناهيك عن أن بوروندي كانت تهدف إلى تنمية رأس المال البشري، وهو أغنى أصول الأمة، إلا أنها، بتبنيها وجهة نظر رأسمالية، تخلت عن هذه الخطط، وخفضت النمو السكاني من 2.5% إلى 2% سنوياً.

ومثل العديد من الدول النامية الأخرى، تتمتع بوروندي بثروة سكانية تبلغ حوالي 14 مليون نسمة، وأراضٍ صالحة للزراعة تُنتج أجود أنواع البن في العالم (أرابيكا)، وغابات طبيعية تُقدر مساحتها بـ 172,000 هكتار، تضم أكثر من 2,500 نوع من النباتات والأخشاب الصلبة، وتنوعاً في موارد الحياة البرية، وموارد مائية مثل بحيرة تنجانيقا وبحيرة رويرو وبحيرة سيوهوها، واحتياطيات تقدر بـ 180 مليون طن من النيكل، ورواسب الذهب، وغيرها.

ورغم كل ما سبق، تُعرف بوروندي على نحوٍ مثير للدهشة، بأنها واحدة من أفقر الدول بلا أمل. ويعود فشلها هي وجميع الدول النامية بشكل كبير إلى الدول الرأسمالية الاستعمارية التي تستغل الدول الفقيرة من خلال الاستعمار الجديد. فقد أُجبرت بوروندي على خوض حرب أهلية عرقية بضغط من أمريكا من جهة، والأوروبيين بقيادة بريطانيا من جهة أخرى، وفرضت قيادتها عبر الانقلابات العسكرية والاغتيالات لصالح المستعمرين على حساب الشعب البوروندي. لقد فشل المبدأ الرأسمالي في إنهاض بوروندي يوم كانت مستعمرة بلجيكية، وكذلك تحت هيمنة الاستعمار الجديد الحالي لأمريكا وأوروبا، ولن تتعافى أبداً تحت شعار "رؤية 2025" الفارغ. إن ما سيحرر بوروندي والدول النامية الأخرى هو التخلص من المبدأ الرأسمالي الاستغلالي، وإقامة النظام العادل والمنصف في ظلّ دولة الخلافة الراشدة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد بيتوموا

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في تنزانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست