فوائد البنوك كلها ربا لا يبيحها فتوى علماء السلطان!
فوائد البنوك كلها ربا لا يبيحها فتوى علماء السلطان!

الخبر:   نقلت قناة صدى البلد على موقعها الجمعة 2021/9/3م، قول الدكتور شوقي علام مفتي الجمهورية، أنه تمت دراسة البنوك المصرية، من حيث واقعها، ودورها في الاقتصاد الوطني، ومن حيث الطبيعة التي اختلف بها عن إطار التعامل الربوي السابق. وأضاف المفتي خلال حواره مع برنامج نظرة، المذاع عبر قناة صدى البلد، بعد دراسة دار الإفتاء للبنوك وجدت أن الأمر اختلف، وهناك أسس يختلف فيها عمل البنك عن قضية الربا. وأكد المفتي أنه ثبت أن التعامل مع البنوك عمليات استثمار، نيابة عن مودع الأموال.

0:00 0:00
Speed:
September 07, 2021

فوائد البنوك كلها ربا لا يبيحها فتوى علماء السلطان!

فوائد البنوك كلها ربا لا يبيحها فتوى علماء السلطان!

الخبر:

نقلت قناة صدى البلد على موقعها الجمعة 2021/9/3م، قول الدكتور شوقي علام مفتي الجمهورية، أنه تمت دراسة البنوك المصرية، من حيث واقعها، ودورها في الاقتصاد الوطني، ومن حيث الطبيعة التي اختلف بها عن إطار التعامل الربوي السابق. وأضاف المفتي خلال حواره مع برنامج نظرة، المذاع عبر قناة صدى البلد، بعد دراسة دار الإفتاء للبنوك وجدت أن الأمر اختلف، وهناك أسس يختلف فيها عمل البنك عن قضية الربا. وأكد المفتي أنه ثبت أن التعامل مع البنوك عمليات استثمار، نيابة عن مودع الأموال.

التعليق:

لا يختلف مسلمان على حُرمة الربا، فالأدلة الشرعية قطعية على حُرمته منها قوله سبحانه وتعالى في سورة البقرة: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لاَ يَقُومُونَ إِلاَّ كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾، وقوله سبحانه: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافاً مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ فالربا محرم شرعا ولا يختلف على حرمته أحد من المسلمين، ولكننا نرى من المسلمين اليوم من يبيح التعاملات الربوية بحجج لا أصل لها من الشرع كما يزعم مفتي مصر في قوله عن نيابة البنوك في الاستثمار بأموال المودعين! والوَصْفُ الواقعُ للرّبا هو أنّ هذه الفائدةَ التي يأخذُها البنك هي استغلالٌ لِجُهْدِ الناسِ وهي جزاءٌ من غيرِ بَذْلِ جُهد. ولأنّ المالَ الذي يؤخَذُ عليهِ ربا هو مضمونُ الفائدةِ غيرُ مُعرَّضٍ للخَسارة، وهذا يخالفُ قاعدةَ "الغُرْمُ بالغُنْم"، ولذلكَ كان استغلالُ المالِ بالشركةِ والمُضارَبَةِ والمُساقاةِ بِشُروطِها جائزاً لأنه تنتفعُ به الجماعةُ ولا يَستغِلُّ جهدَ آخَرِين، بل يكونُ وسيلةً تُمكِّنُهُم من الانتفاعِ بِجُهْدِ أنفُسِهِم وهو مُعرَّضٌ للخسارةِ كما هو مُعرَّضٌ للرِّبح، وهذا بخلافِ الربا. على أنّ تحريمَ الربا إنّما كان بالنّصِّ ولم يُعلَّلْ هذا النَّصُّ بِعِلَّة.

واقع تعاملات البنوك في مصر وغيرها لم يختلف لاحقا عن سابقا فكلها تعاملات ربوية ولا يختلف اثنان على ذلك، حتى ما سمي منها تجاوزا بالبنوك الإسلامية فكل تعاملاتها عدا التحويلات المالية التي تسهل انتقال المال من شخص لآخر ومن بلد لآخر، لا تخرج عن دائرة الربا مهما أطلقوا عليها من أسماء تضفي عليها الشرعية! وحتى الحسابات الجارية بدون فائدة والتي تعد في واقعها أمانة لدى البنك، فإنه إذا غلب على الظن أن البنك سيستعمل الحساب الجاري في الربا فلا يجوز أن توضع هذه الأمانة "الحساب الجاري" عند البنك، والقول بأن البنوك تنوب عن مودع الأموال في عملية الاستثمار لا يبيحها، فلا يجوز أن تنوب البنوك عن المودعين في فعل الحرام، كما أن واقع العقود بين البنوك والمودعين أنها ليست عقود وكالة في التصرف بالمال بل هي عقود إيداع بفائدة محددة. ويُقصد بالفائدة لغة واصطلاحا ما نتج وكسبهُ الإنسان من غير مالٍ؛ كالميراث، والعطيّة، وأمّا في الاصطلاح المصرفيّ فهي الثّمن المدفوع مُقابل استعمال النُّقود، ويُفرّق بينها وبين الرّبح من حيث إنّ الرّبح يكون بزيادةٍ على ثمن السّلعة مُنذ البداية، وتكون بنيّة التّجارة، وأمّا المبلغ الزّائد بغير نيّة التّجارة فهو من قبيل الفوائد، وينطبق لفظ الفائدة على لفظ الرّبا في الشرع؛ حيثُ يشتركان في الزّيادة المشروطة على القرض، فتُعرف الفائدة عند الاقتصاديّين بأنّها الزّيادة التي يدفعها البنك أو صندوق الادخار على الودائع، أو الزيادة التي يأخذها البنك مُقابل القُروض. كما تعرف بأنّها النّسب التي تأخُذها البُنوك على الأموال المودعة لديها، أو مُقابل ما تُقدّمهُ لهم من اقتراض.

إن ما تُسمّى بفوائد البنوك، هي الرّبا بعينه، فقد نُقل الإجماع على تحريم الزّيادة المشروطة على أيّ قرض، سواء كانت تلك الودائع تحت الطّلب؛ أو ما يُسمّى بالحساب الجاري، أو ودائع لِأجَلٍ، أو ودائع بإشعار، أو غير ذلك، وأما كونها الربا بعينه؛ فذلك لأنّ العميل يودع أو يأخذ من البنك مبلغاً مُعيّناً، بشرط أن يَرُدّه أو يأخذه بزيادةٍ مُعيّنة، كما يدخُل هذا النّوع من الرّبا في الصّرف، كمن يشتري نُقوداً دون أن يتمّ القبض في المجلس نفسه، بشرط أن يُردّها بزيادةٍ بنسبةٍ مُعيّنةٍ، وقد نهى النّبيّ ﷺ عن السّلف في البيع، فقال ﷺ: «لا يحلُّ سلَفٌ وبيعٌ، ولا شَرطانِ في بيعٍ، ولا رِبحُ ما لم تَضمَنْ، ولا بيعُ ما ليسَ عندَكَ».

إن المحاولات المستميتة لإباحة الربا غايتها الحقيقية هي الاستحواذ على مدخرات الناس الرافضين للمعاملات الربوية التي تقوم بها البنوك، وإن تسميتها بغير مسماها لخداع الناس لن تجعلها مباحة ولن تجعل الانتفاع بها مشروعا بل تُدخل المحاولين في حرب معلنة مع الله ورسوله ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ * فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ﴾.

والواقع الذي يجب أن يعلمه الناس أن بلادنا ليست بحاجة لتلك البنوك ولا استثماراتها ولا عوائدها بل في حاجة لتطبيق أحكام الإسلام التي تضمن القضاء على الربا بأنواعه وتجفيف منابعه من جذورها، ولهذا يجَبَ أن يُغيَّرَ النظامُ الاقتصاديُّ الحاليُّ بِرُمَّتِهِ وأنْ يوضَعَ مكانَه - وضعاً انقلابياً شاملاً - النظامُ الإسلاميُّ للاقتصاد في دولته الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، فإذا أُزيلَ هذا النظامُ وطُبِّقَ الإسلام بَرَزَ للناسِ أنّ المجتمعَ الذي يُطبِّقُ الإسلامَ لا ضرورة فيه إلى الربا، لأن المحتاجَ إلى الاستقراضِ إمّا أنْ يحتاجَهُ لأجْلِ العَيْشِ أو يحتاجَهُ لأجْلِ الزراعة. أمّا الحاجةُ الأولى فقد سدَّها الإسلامُ بِضَمانِ العيش لكلِّ فردٍ من أفراد الرعية. وأمّا الحاجةُ الثانيةُ فقد سدّها الإسلامُ بإقراضِ المحتاجِ دونَ ربا، فقد روى ابنُ حِبّانٍ وابنُ ماجَه عن ابنِ مسعودٍ أنّ الرسولَ ﷺ قال: «ما مِنْ مُسلِمٍ يُقرِضُ مُسلِماً قرضاً مرّتَيْنِ إلاّ كان كَصَدَقَتِها مَرَّةً» ولهذا فحاجة الأمة الحقيقية ليست للبنوك ولا إلى فتاوى تبرر تعاملاتها، بل إنها بحاجة لدولة تطبق الإسلام تطبيقا انقلابيا شاملا في دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، دولة حق وعدل، نسأل الله أن يعجل بها وأن نكون من جنودها وشهودها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست