فوليزا إم بيسا تدفق ربوي مستمر
فوليزا إم بيسا تدفق ربوي مستمر

الخبر:   لقد كان الكينيون يقترضون 1.32 مليار شيلينغ يوميا من تسهيلات السحب على المكشوف التابعة لشركة سفاريكوم، وهي شركة فوليزا بين نيسان/أبريل وأيلول/سبتمبر من هذا العام، ما يؤكد الاعتماد المتزايد على القروض لاستخدام الأسر. وقد كشفت شركة سفاريكوم عن ذلك يوم الأربعاء، والتي حققت أرباحا صافية بلغت 37.055 مليار شيلينغ في النصف الأول من العام حتى 30 أيلول/سبتمبر مدعوما بارتفاع إيرادات "إم بيسا". وتظهر النتائج المالية لشركة سفاريكوم أن الشركة صرفت 242.6 مليار شيلينغ في فترة الـ183 يوما، بزيادة قدرها 62.4% عن الفترة المماثلة من العام الماضي عندما أقرضت 149.4 مليار شيلينغ من خلال هذا المرفق.

0:00 0:00
Speed:
December 05, 2021

فوليزا إم بيسا تدفق ربوي مستمر

فوليزا إم بيسا تدفق ربوي مستمر

(مترجم)

الخبر:

لقد كان الكينيون يقترضون 1.32 مليار شيلينغ يوميا من تسهيلات السحب على المكشوف التابعة لشركة سفاريكوم، وهي شركة فوليزا بين نيسان/أبريل وأيلول/سبتمبر من هذا العام، ما يؤكد الاعتماد المتزايد على القروض لاستخدام الأسر. وقد كشفت شركة سفاريكوم عن ذلك يوم الأربعاء، والتي حققت أرباحا صافية بلغت 37.055 مليار شيلينغ في النصف الأول من العام حتى 30 أيلول/سبتمبر مدعوما بارتفاع إيرادات "إم بيسا". وتظهر النتائج المالية لشركة سفاريكوم أن الشركة صرفت 242.6 مليار شيلينغ في فترة الـ183 يوما، بزيادة قدرها 62.4% عن الفترة المماثلة من العام الماضي عندما أقرضت 149.4 مليار شيلينغ من خلال هذا المرفق.

التعليق:

تحولت فكرة الوصول المالي السريع والموثوق إلى الديون في كينيا، وخاصة بين الكينيين الفقراء وأصحاب الدخل المتوسط، إلى كلمة سواحيلية بسيطة "فوليزا" وتعني "التدفق المستمر". سفاريكوم التي تملكها شركة الاتصالات البريطانية متعددة الجنسيات؛ طرحت مجموعة فودافون "فوليزا إم بيسا" في عام 2019، والتي تملكها ثلاثة كيانات مالية؛ سفاريكوم 40٪، البنك التجاري الكيني 40٪، والبنك التجاري الأفريقي 20٪. وهي خدمة تسمح لعملاء إم بيسا بإكمال معاملاتهم إم بيسا عندما يكون لديهم أموال غير كافية في حساب الإم بيسا الخاص بهم.

فوليزا هي تسهيلات السحب على المكشوف على حساب إم بيسا الخاص بك حيث ستتمكن من شراء أي شيء عبر إم بيسا حتى لو لم تملك أموالاً كافية. إنه منتج القرض الأكثر شعبية في سفاريكوم ويسمح للعملاء بالوصول إلى الائتمان وتأمينه من خلال السحب الزائد على إم بيسا لتغطية التدفق النقدي القصير الأجل الخاضع لحدود محددة مسبقا. مع سعر الربا البالغ 1.1٪ ورسوم إدارية يومية تصل إلى 30 شيلينغ يتم فرضها يوميا، جذبت سفاريكوم ما متوسطه 1.4 مليون كيني يقترضون يوميا. وارتفع منتج الإقراض اليومي المقدر بـ1.34 مليار شيلينغ سفاريكوم لتوسيع نطاق هذا المرفق ليشمل الشركات التي اقترضت من خدمة السحب على المكشوف من سفاريكوم إلى 1.2 مليار شلن يوميا في الأشهر الستة المنتهية في حزيران/يونيو من هذا العام، ما يشير إلى نقص الدخل الذي دفع العديد من الكينيين إلى الاعتماد على ديون باهظة قصيرة الأجل.

في ظل الأسواق التنافسية والديناميكيات المتغيرة باستمرار لاقتصاد رأس المال، يغير الربا وجهه القبيح في كثير من الأحيان. إن المعاملات الربوية التي ترقى إلى الاستغلال الوقح للأفراد والشركات هي بلا منازع غير شرعية في الإسلام. ويُصنف أي شكل من أشكال الأرباح الزائدة على التسهيلات الائتمانية على أنه ربا، وتظل وجوه الربا المتغيرة وتأمين الترتيبات الجديدة للمرافق المالية الغامضة ذات العوائد المحددة مسبقاً تضع المسلمين في فضول دائم.

مرفق السحب على المكشوف الجديد من سفاريكوم المعروف على نطاق واسع باسم فوليزا يتطابق تماما مع مفهوم الربا وبالتالي يصبح إهانة للمعاملات المالية المقبولة ضمن المبادئ الأساسية للإسلام كما هو منصوص في القرآن الكريم وسنة نبينا الحبيب ﷺ. كما يمكن تصنيف فوليزا تحت نوع من الربا يعرف شرعا بربا النسيئة. هذا النوع من الربا ينتج عن الزيادة المحددة سلفا التي يحصل عليها المقرض أكثر من المبلغ الرئيسي. ويبدو أنه الشكل الأكثر شيوعا الذي ينتشر اليوم في العالم، حيث يتم فرض الزيادة واحتسابها على الائتمانات.

الربا وهو في اللغة العربية يعني الزيادة أو الإضافة أو النمو. من الناحية الفنية، يشير إلى المبلغ الإضافي الذي يكسبه المرء من الإقراض.

وهو الفرق بين زيادة المقترض وكسبة المقرض، وربا اليوم هو ثمن الإيجار الذي يدفع على المال مقابل استعماله. وفي الأعمال المصرفية المعاصرة، أدى دخول الزيادة الاستغلالية إلى تحويل الأموال إلى سلعة تجارية.

قال الإمام الغزالي: "التداول في المال لكسب بعض الفائدة يجعل المال كائن نهاية مثل سلعة السوق. إن التعامل بالمال بهذه الطريقة هو ظلم". ولذا نحن نعرف جيدا عقوبة التعامل في الربا. وإن الربا هو واحد من الكبائر السبع المدمرة والهدامة التي تتساوى في العقاب تقريبا مع الشرك، والسحر، وقتل الأبرياء، وأكل أموال اليتيم، والهروب من ساحة المعركة وقذف المحصنات.

إن الذين يتاجرون بالربا ويكسبون أموال الناس بطريقة غير مشروعة، مستخدمين أساليب سيئة مختلفة وطرقاً شريرة، يتاجرون بصورة غير مشروعة وهم ينتظرون عذاب نار جهنم. يقول سبحانه وتعالى: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لاَ يَقُومُونَ إِلاَّ كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُواْ إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَن جَاءهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىَ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُوْلَـئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شعبان معلم

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست