فوز أردوغان في الانتخابات يعني فوز فكرة الديمقراطية والحريات وليس الإسلام والمسلمين!
فوز أردوغان في الانتخابات يعني فوز فكرة الديمقراطية والحريات وليس الإسلام والمسلمين!

 توجهت الناس في تركيا إلى صناديق الاقتراع لانتخاب رئيسهم الثالث عشر. وأعلن رئيس الهيئة العليا للانتخابات، أحمد ينر، أن الانتخابات كانت رسمياً في الجولة الثانية. وفقاً للنتائج المؤقتة، سيتنافس رجب طيب أردوغان، الذي حصل على 49.51 في المائة من الأصوات في الجولة الأولى، وكمال كليجدار أوغلو، الذي حصل على 44.88 في المائة من الأصوات، مرة أخرى في الجولة الثانية في 28 أيار/مايو.

0:00 0:00
Speed:
May 26, 2023

فوز أردوغان في الانتخابات يعني فوز فكرة الديمقراطية والحريات وليس الإسلام والمسلمين!

فوز أردوغان في الانتخابات يعني فوز فكرة الديمقراطية والحريات وليس الإسلام والمسلمين!

الخبر:

توجهت الناس في تركيا إلى صناديق الاقتراع لانتخاب رئيسهم الثالث عشر. وأعلن رئيس الهيئة العليا للانتخابات، أحمد ينر، أن الانتخابات كانت رسمياً في الجولة الثانية. وفقاً للنتائج المؤقتة، سيتنافس رجب طيب أردوغان، الذي حصل على 49.51 في المائة من الأصوات في الجولة الأولى، وكمال كليجدار أوغلو، الذي حصل على 44.88 في المائة من الأصوات، مرة أخرى في الجولة الثانية في 28 أيار/مايو.

يتم انتخاب المرشح الرئاسي بنظام من جولتين، حيث يجب أن يحصل على الأغلبية المطلقة من الأصوات الصحيحة (على الأقل 50 بالمائة + صوت واحد) حتى يتم انتخابه. وفي حالة عدم حصول أي مرشح على الأغلبية المطلقة، يتم إجراء جولة ثانية بين المرشحين اللذين حصلا على أكبر عدد من الأصوات في الجولة الأولى، ثم يتم انتخاب المرشح ذي الأغلبية المطلقة، ولن يتم البحث عن 50 + 1 في اختيار الجولة الثانية. (وكالات).

التعليق:

بادئ ذي بدء تجدر الإشارة إلى أنه مع هدم دولة الخلافة في 3 آذار/مارس 1924م، أصبحت الأفكار والآراء السائدة في تركيا أفكاراً على النمط الغربي. وتمت تغذية الشعب المسلم في تركيا بهذه الأفكار، واستخدمت أساليب وأدوات كثيرة لجعل الشعب يتبنى هذه الأفكار ويقبلها. ومع ذلك خلال حكم أردوغان وحزبه "العدالة والتنمية" تم تبني الأفكار الغربية خاصة فكرة الحريات وقبولها على أعلى مستوى من الشعب. وهذا يعني أن أردوغان وحزبه تبنوا هذه الأفكار والآراء الغربية كأسلوب حياة وبذلوا جهوداً كبيرة لجعل الشعب يتقبلها. وهكذا لمتعد وجهة نظر الشعب للحياة هي أحكام الشريعة المنبثقة عن العقيدة الإسلامية، فقد بدؤوا في تنظيم كل علاقاتهم على أساس فكرة الحريات، والأسوأ من ذلك أنهم بدؤوا تقييم حتى أوامر الله ونواهيه في إطار فكرة الحريات. نتيجة لذلك بدأ الشعب التركي بالنظر إلى جميع الأحداث مثل الحكم والاقتصاد وقانون الأسرة والعلاقات بين الدول ووجهة النظر تجاه الكفار، بهذه الأفكار الفاسدة التي يسوقها الغرب. وبعبارة أخرى لم تعد المقاييس في الحياة حراما وحلالاً، بل أصبح مقياس المنفعة هو السائد.

على سبيل المثال في بداية الأحداث التي عانى منها المسلمون في تركيا كانت قضية منع المسلمات من ارتداء الخمار في المدارس والجامعات. وهنا قام أردوغان بحل قضية المسلمين الحساسة هذه وسمح للفتيات بارتداء الخمار في المدارس والجامعات. ومع ذلك أثناء سماحه بالخمار، أسس فكرة أنه يجب عليهم ارتداء الخمار ليس لأنه أمر من الله، ولكن لأن لديهم حقوقاً ديمقراطية. هذه هي الثقافة التي يريد الكفار الغربيون ترسيخها في البلاد الإسلامية، بما في ذلك تركيا. لذلك كان أداء أردوغان فوق التوقعات في تحقيق فكرة الحريات هذه، فكريا وسلوكيا. لأنه من ناحية، يصلي ويتلو القرآن، ومن ناحية أخرى يرحّب برئيس كيان يهود الذي يذبح المسلمين الفلسطينيين يوميا، ومن ناحية يصوم رمضان ويحضر موائد إفطار المسلمين ومن ناحية أخرى يفتخر بافتتاح المزيد من مصانع التقطير في عهده، ومن ناحية يقول إن ثقافة الأسرة ظاهرة لن يتنازلوا عنها أبداً ومن ناحية أخرى ينشر الأفكار التي تحطم مؤسسة الأسرة مثل الشذوذ الجنسي والمواعدة والمساواة بين الجنسين. وهكذا بدأ الشعب التركي ينظر إلى أردوغان وحزبه كحزب إسلامي ضد حزب المعارضة الرئيسي حزب الشعب الجمهوري وهو حزب علماني كمالي ويعبر علانية عن عدائه للإسلام والمسلمين. لهذا السبب نجح في كسب دعم غالبية الشعب التركي المسلم، على الرغم من كل ممارساته المعادية للإسلام خلال فترة حكمه التي استمرت عشرين عاماً.

بناءً على التفسيرات المذكورة أعلاه من المرجح أن يفوز أردوغان في الجولة الثانية من الانتخابات الرئاسية المقرر إجراؤها في 28 أيار/مايو 2023، لأن المسلمين في تركيا سيختارون من لديه آثار الإسلام عليهم بسبب إخلاصهم للإسلام رغم أنهم يواجهون صعوبات اقتصادية خطيرة. وخير دليل على ذلك أن كمال كليجدار أوغلو، زعيم حزب المعارضة الرئيسي الذي سيشارك في الجولة الثانية من الانتخابات الرئاسية كمنافس لأردوغان، استخدم الشعائر الإسلامية كمواد انتخابية في حملته الانتخابية. هذا من حيث السياسة الداخلية.

أما ما يتعلق بالسياسة الخارجية؛ فلقد تبنى أردوغان وحزبه السياسة الخارجية الأمريكية طوال فترة حكمهم وأظهروا نجاحاً كبيراً لصالح أمريكا في هذه المرحلة. وأقرب مثال على ذلك أنه أحرز تقدماً كبيراً لصالح السياسة الأمريكية في المشاكل التي مرت بها بعد الثورات الشعبية التي بدأت في الشرق الأوسط، وخاصة في سوريا. لهذا السبب تدعم أمريكا أردوغان وحزبه للبقاء في السلطة. ومن أوضح مظاهر ذلك أنها لم تضغط عليه لدفع 131 مليار دولار من الديون المستحقة التي تضاعفت منذ وصوله للسلطة. ومن ناحية أخرى فإن تصريحات أردوغان ضد أمريكا ليست سوى خطوة لكسب أصوات الناخبين المحليين. لأن المسلمين في تركيا غير مهتمين بالقادة الذين يدعمون الغرب علانية وخاصة أمريكا. وأردوغان متخصص في استغلال هذه المشاعر لدى أهل تركيا.

نتيجة لذلك سواء فاز أردوغان أو كليجدار أوغلو فلن يكون الفائز هو الإسلام والمسلمون، بل فكرة الديمقراطية والحريات. لهذا يجب على المسلمين في تركيا كسر اللعبة التي لعبت عليهم والتحرك فورا لإقامة دولة الخلافة الراشدة من أجل خلاص المسلمين والإنسانية جمعاء، لأن الضمان الوحيد لإسلامهم وشرفهم وجنتهم وكونهم سادة العالم هو دولة الخلافة. ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللهِ يَنصُرُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رمضان أبو فرقان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست