في مواجهة الكساد الاقتصادي الهائل الحكومات الغربية تكافح لكيفية رفع حالة الإغلاق خلال أزمة فيروس كورونا
في مواجهة الكساد الاقتصادي الهائل الحكومات الغربية تكافح لكيفية رفع حالة الإغلاق خلال أزمة فيروس كورونا

الخبر:   تسعى إدارة ترامب إلى إعادة فتح جزء كبير من البلاد في الشهر المقبل، مما يثير مخاوف بين خبراء الصحة والاقتصاديين من عودة انتشار كوفيد-19 المحتمل إذا ما عاد الأمريكيون إلى حياتهم الطبيعية قبل القضاء على الفيروس. وراء الأبواب المغلقة، سعى الرئيس ترامب - المعني بالاقتصاد المتدهور - إلى استراتيجية لاستئناف النشاط التجاري بحلول الأول من أيار/مايو، وفقاً لأشخاص مطلعين على المناقشات...

0:00 0:00
Speed:
April 15, 2020

في مواجهة الكساد الاقتصادي الهائل الحكومات الغربية تكافح لكيفية رفع حالة الإغلاق خلال أزمة فيروس كورونا

في مواجهة الكساد الاقتصادي الهائل

الحكومات الغربية تكافح لكيفية رفع حالة الإغلاق خلال أزمة فيروس كورونا

(مترجم)

الخبر:

تسعى إدارة ترامب إلى إعادة فتح جزء كبير من البلاد في الشهر المقبل، مما يثير مخاوف بين خبراء الصحة والاقتصاديين من عودة انتشار كوفيد-19 المحتمل إذا ما عاد الأمريكيون إلى حياتهم الطبيعية قبل القضاء على الفيروس.

وراء الأبواب المغلقة، سعى الرئيس ترامب - المعني بالاقتصاد المتدهور - إلى استراتيجية لاستئناف النشاط التجاري بحلول الأول من أيار/مايو، وفقاً لأشخاص مطلعين على المناقشات.

في المكالمات الهاتفية مع المستشارين الخارجيين، يحاول ترامب مجازفاً إعادة فتح جزء كبير من البلاد قبل نهاية هذا الشهر، عندما تنتهي التوصيات الفيدرالية الحالية لتجنب التجمعات والعمل من المنزل، على حد قول الشعب. قال الناس إن ترامب ينظر بانتظام في أرقام البطالة وأسواق الأسهم، ويشكو من أنهم يضرون برئاسته وإعادة انتخابه.

مثل الآخرين، تحدثوا بشرط عدم الكشف عن الاسم الذي كشف عن المناقشات الداخلية.

قال ترامب في إيجازه اليومي الخميس إن الولايات المتحدة وصلت "أعلى القمة" وأضاف: "آمل أن نفتح - يمكنك أن تطلق عليه الافتتاح - قريباً جداً جداً جداً، قريباً جداً، أنا أتمنى". [واشنطن بوست]

حذر رئيس صندوق النقد الدولي من أن جائحة فيروس كورونا ستحول النمو الاقتصادي العالمي إلى "سلبي بشكل حاد" هذا العام.

وقالت كريستالينا جورجيفا إن العالم واجه أسوأ أزمة اقتصادية منذ الكساد الكبير في الثلاثينات. وتوقعت أن عام 2021 سيشهد انتعاشاً جزئياً فقط.

أجبرت حالة الإغلاق التي فرضتها الحكومات العديد من الشركات على الإغلاق وتسريح الموظفين.

وفي وقت سابق من هذا الأسبوع، قالت دراسة للأمم المتحدة إن 81٪ من القوى العاملة في العالم التي يبلغ عددها 3.3 مليار قد أغلقت أماكن عملهم بالكامل أو جزئيا بسبب تفشي المرض. (البي بي سي)

التعليق:

إن الأمراض المعدية ظاهرة طبيعية ولا مناص منها، لكن سوء إدارة الغرب بشكل صارخ لأزمة كوفيد-19 أدّى إلى كارثة إنسانية واقتصادية في الدول الغربية وأضرار للعالم بشكل عام.

الطريقة المناسبة لاحتواء تفشي الأوبئة هي من خلال محاصرتها جغرافياً، يقول رسول الله r: «إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ بِأَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا»

طبقت الصين ودول شرق آسيا المحاصرة الجغرافية إلى حد ما. بعد أن قمعت في البداية أنباء العدوى، قامت الصين بعد ذلك بإغلاق مدينة ووهان، مما حدّ من الدخول إلى المنطقة المصابة والخروج منها. وقد قيدت تايوان وسنغافورة وغيرها دخولها من الصين عبر حدودها. لكن الدول الغربية فشلت تماماً في إغلاق السفر الدولي، بما في ذلك من الصين، حتى خلال ذروة الوباء في ووهان. حتماً، انتشر المرض بسرعة وعلى نطاق واسع داخل أوروبا ثم أمريكا. عندها فقط بدأت تفرض قيود السفر دولياً ولكن لا تزال غير محلية. على سبيل المثال، نيويورك لديها أكبر نسبة من المرض داخل أمريكا، لذلك كان ينبغي عزل منطقة نيويورك عن بقية أمريكا تماماً مثلما عزل الصينيون ووهان عن بقية الصين، بدلاً من السماح للمرض بالانتشار في جميع أنحاء الولايات المتحدة الأمريكية.

بدلاً من المحاصرة الجغرافية، طبّق الغرب سياسة الإغلاق وما يسمونه بالتباعد (الاجتماعي)، مما أدّى إلى توقف الحياة العامة وإجبار الناس على البقاء في منازلهم. تتعارض هذه السياسة مع الرأي العلمي الطبي الأولي، وقد تم تبنيها من الحكومات الغربية فقط بسبب الذعر العام بشأن الوباء، مستندةً إلى هذه السياسة على المنهج غير المدعوم الذي يُتوقع من خلاله السيطرة الكبيرة على انتشار المرض إذا تم اتخاذ هذه الخطوة. هناك ثلاثة أسباب للذعر في الغرب: أولاً، انحرافهم عن الدين والثقة بالله سبحانه وتعالى؛ وثانياً، وسائل الإعلام التجارية التي تسعى إلى المبالغة في فضح كل قضية وإثارة لجذب عدد أكبر من القراء والمستمعين والمشاهدين؛ وثالثاً، سياساتهم الفاسدة التي تدفع سياسيي المعارضة إلى مهاجمة سياسات الحكومة بغض النظر عما إذا كانت صحيحة أم لا. كان هذا هو ما دفع الحكومات الغربية إلى عكس سياساتها الأولية وفرض التباعد (الاجتماعي) والإغلاق العام.

من الخطأ إغلاق الحياة العامة تماماً. الذين ليسوا على ما يرام هم فقط من يحتاجون إلى البقاء في المنزل وليس أولئك الذين يتمتعون بصحة جيدة. يقول رسول الله r: «لاَ تُورِدُوا المُمْرِضَ عَلَى المُصِحّ».

بالإضافة إلى ذلك، يمكن لأولئك الذين يعانون من أمراض مزمنة، أو كبار السن اتخاذ احتياطات معينة ووفقاً لنصيحة طبية حقيقية. يقول رسول الله r: «لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ».

يجب أن يكافح الأصحاء أكثر وبقوة خلال الأوبئة من أجل الحفاظ على الحياة العامة نيابةً عن المرضى. يجب أن تستمر الحياة الاقتصادية من أجل توفير الحاجات للجميع. ويجب أن تستمر الحياة المجتمعية في تقديم الدعم للجميع. الحياة المجتمعية ليست كما يفهمها الغرب، وهي الانخراط في ملذات أنانية فردية؛ وإنما هي زيارة وقضاء الوقت مع الآخرين، وخاصةً الأسرة والأقارب، وتلبية احتياجاتهم. هذا هو الأمر الأكثر أهمية عندما يكون الكثير منهم على ما يرام.

وفيما يتعلق برفع الحظر، يستخدم الغرب استراتيجيتين؛ أولاً، إنهم ينتظرون أن ينتشر الفيروس بين جميع السكان حتى يتم تجاوز ذروة الإصابة بالمرض، على الرغم من أنه بدون اختبار عام يصعب إثبات ذلك. فشل الغرب في إجراء اختبارات كافية، أو حتى نشر نتائج اختبار عينات لعامة السكان. ثانياً، لقد بدؤوا في بناء الرأي العام ضد عمليات الإغلاق، حتى تتمكن الحكومات بعد ذلك من الادعاء بأنها تعيد فتح الحياة العامة تحت ضغط عام.

بإذن الله، ستقيم الأمة الإسلامية قريباً دولة الخلافة الثانية على منهاج النبوة وسيشهد العالم نهجاً أكثر عقلانيةً وفعاليةً وإنسانيةً في جميع شؤون في الحياة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

#كورونا               |      #Covid19        |       #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست