في موسم الحج: يا عُزى كفرانك لا سبحانك!
في موسم الحج: يا عُزى كفرانك لا سبحانك!

يقبل ملايين المسلمين في هذه الأيام الفضيلة على جبل عرفات لإكمال شعيرة الحج الأعظم، حيث تضج الطرقات المؤدية إلى جبل الرحمة بعرفات بأصوات التلبية ودعاء الحجيج وأنين التضرع إلى ربهم رجاء رحمته ومخافة عذابه. فالبكاء والدموع، والأمل بالمغفرة هي حالة ضيوف الرحمن وهم يؤدون ركن الحج الأعظم، وقوفا على صعيد عرفات الطاهر.

0:00 0:00
Speed:
September 26, 2015

في موسم الحج: يا عُزى كفرانك لا سبحانك!

في موسم الحج: يا عُزى كفرانك لا سبحانك!

الخبر:

يقبل ملايين المسلمين في هذه الأيام الفضيلة على جبل عرفات لإكمال شعيرة الحج الأعظم، حيث تضج الطرقات المؤدية إلى جبل الرحمة بعرفات بأصوات التلبية ودعاء الحجيج وأنين التضرع إلى ربهم رجاء رحمته ومخافة عذابه. فالبكاء والدموع، والأمل بالمغفرة هي حالة ضيوف الرحمن وهم يؤدون ركن الحج الأعظم، وقوفا على صعيد عرفات الطاهر.

التعليق:

يقول رب العزة في كتابه الكريم ﴿وَلِلَّهِ عَلَى ٱلنَّاسِ حِجُّ ٱلْبَيْتِ مَنِ ٱسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًۭا ۚ﴾ [آل عمران: 97]، وهكذا كان المسلمون في كل وقت منذ نزول هذه الآية إلى اليوم يلبون أمر الله سبحانه ويستجيبون لقوله ﴿وَأَذِّن فِى ٱلنَّاسِ بِٱلْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًۭا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍۢ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍۢ﴾ [الحج: 27].


يأتي موسم الحج ليربط الأمة كلها ويُظهر وحدتها وأنَّها ﴿إِنَّ هَـٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةًۭ وَ‌ ٰحِدَةًۭ وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُونِ﴾ [الأنبياء: 92]. وترتبط مشاعر المسلمين بهذه الفريضة العظيمة ارتباطاً قوياً تظهر فيه قوة إيمانهم وحبهم لله ولجوؤهم إليه، وتحررهم من عبادة من سواه. فلا عبادة لحجر ولا وثن ولا صنم ولا دنيا زائلة بل هو الله سبحانه، وشريعته التي ندور حيث تدور.

وليس القصد هو الكعبة لبنائها ولا الصفا والمروة لذاتهما ولا الحجر الأسود لنفسه بل هو ما افترضه الله ولله يطوف المسلمون ويلبون ويسعون ويجتهدون في أداء هذه الفريضة.

وتحضر هنا في الذاكرة، وجموع المسلمين تحج لبيت الله الحرام، حجة الوداع لرسول الله eحيث خطب في المسلمين في السنة العاشرة للهجرة حيث خطب فيهم الخطبة المشهورة التي جاء فيها «أيُّها النَّاسُ، إنَّ دماءَكم وأموالَكم عليْكُم حرامٌ، إلى أن تلقَوا ربَّكم كحُرمةِ يومِكم هذا، وَكحُرمةِ شَهرِكم هذا، وإنكم ستلقونَ ربَّكم، فيسألُكم عن أعمالِكم وقد بلَّغتُ» نذكرها ونحن نرى سيل دماء المسلمين تُراق بأيدي بعضهم في أكثر من موطن خدمة لأعداء الله فتتمزق القلوب كمداً.

نذكر قوله e«وإنَّ كلَّ ربًا موضوعٌ، ولكن لَكم رؤوسُ أموالِكم، لا تظلِمونَ ولا تُظلَمونَ قضى اللَّهُ أنَّهُ لا ربًا وإنَّ ربا العبَّاسِ بنِ عبدِ المطَّلبِ موضوعٌ كلُّهُ» لكننا ننظر حولنا فنرى التعاملات الربوية ملأت بلادنا وأفسدت علينا حياتنا، فأصابنا الضنك والشقاء والعنت والبلاء.

يحضرنا قول الله عز وجل ﴿إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ﴾ لكنَّنا نرى حرمات الله استُحِّلت، وحلاله بل والفروض قد حُرمت فمنعنا عن طاعة ربنا وعبادته، وباتت المعصية معروفة مَدعوٌّ لها والطاعة منكرة يُحارب دُعاتها. والأمة تسكت!

رسول الله eقال «فإنِّي قد بلَّغتُ وقد ترَكتُ فيكم ما إنِ اعتصمتُم بِهِ فلن تضلُّوا أبدًا، أمرًا بيِّنًا كتابَ اللَّهِ وسنَّةَ نبيِّهِ». ثم ختم بقوله «هل بلغت» فأجيب بنعم. فقال «اللهم قد بلغت اللهم فاشهد».

فكيف بنا نحن الذين يقول فينا ربُّنا ﴿وَكَذَ‌لِكَ جَعَلْنَـٰكُمْ أُمَّةًۭ وَسَطًۭا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًۭ﴾ [البقرة 143] وقد ضيعنا أمانة رسولنا، وأضعنا مكانتنا بكوننا شهداء على الناس؟

كيف حالنا يوم نلقى ربَّنا فيسائلنا عن تقصيرنا في تبليغ دعوته، بل عن رضانا بالحكم بغير شريعته والاحتكام للنظام الرأسمالي الوضيع حيث الربا والفساد الاقتصادي. وحيث الزنا والخبائث وإهانة النساء وانتهاك حرماتهن، وحيث يُعبد الله في المسجد ولا يُعبد في الحياة والمجتمع!

يصبح الحلال حراماً ويغدو الحرام حلالاً لأجل مصالح سياسية وغايات آنية لا ترضي الله ولا رسول الله؟؟

أليس الواجب أن نحج لله كل السنة ونحج له بالإقبال على شريعته فنقوم لنقيم دولة الإسلام التي تحكمنا بما لا نضل به أبداً "كتاب الله وسنة رسول الله"؟

أليس الحق أن نقول لكل الأصنام الديمقراطية والليبرالية وما يُريدون لنا الاحتكام إليه من أنظمة ومفاهيم غربية كما قال خالد بن الوليد للعُزَّى حين هدمه. أورد ابن كثير في البداية والنهاية ج4 قال: "قال ابن إسحاق: ثم بعث رسول الله eخالد بن الوليد إلى العزى، وكانت بيتا بنخلة تعظمه قريش وكنانة ومضر، قال: فلما انتهى خالد إليها هدمها، ثم رجع إلى رسول الله eوقد روى الواقدي وغيره: أنه لما قدمها خالد لخمس بقين من رمضان فهدمها ورجع، فأخبر رسول الله eفقال: «ما رأيت؟» قال: لم أر شيئا، فأمره بالرجوع فلما رجع خرجت إليه من ذلك البيت امرأة سوداء ناشرة شعرها تولول، فعلاها بالسيف وجعل يقول:

يا عُزَّى كفرانك لا سبحانك * إني رأيت الله قد أهانك

ثم خرب ذلك البيت الذي كانت فيه، وأخذ ما كان فيه من الأموال رضي الله عنه وأرضاه، ثم رجع فأخبر رسول الله eفقال: «تلك العزى ولا تعبد أبدا»

أجل يا أمة محمد eإنه الحق ولا حقَّ سواه: قوموا لهذه الحضارة الوضعية الوضيعة أسقطوها وأسقطوا سدنتها، واقطعوا أذرعها وأذنابها من بلادنا.

قولوها بألسنتكم وأفعالكم "يا ديمقراطية كفرانك، لا سبحانك".

فلا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك وإليه يرجع الأمر كله.

لبُّوا نداء الله بتحكيم شريعته وأنتم تحجُّون لبيته، وأعلنوها غضبة على أنظمة الكفر.

فإنَّ الحجَّ شاهدٌ على وحدةِ المسلمين، وهو يَسْتَصْرِخَهُم أن يُعيدوا لُحمَتَهُم، ويُقيموا دَولَتَهُم، ويُبايِعوا خَليفَتَهُم، لِيَعودوا جماعةً متماسكةً قوية، يَقودُهُم خَليفَتَهُم، يُقيمُ فيهِم أحكامَ الله، ويُجاهِدُ بِهِم في سبيلِ الله. ليكونوا شهداء الله على الناس بحق.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم بيان جمال

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست