في ذكرى هدم الخلافة
في ذكرى هدم الخلافة

الخبر: صادف يوم الأحد 28 من رجب 1444هـ، 19 من شهر شباط 2023م الذكرى الثانية بعد المئة لهدم دولة الخلافة. التعليق: لعل أعظم مصيبة أصيب بها المسلمون منذ انتقال الرسول الكريم ﷺ إلى الرفيق الأعلى هي هدم الكيان الذي بناه ﷺ بيديه الشريفتين. فقد خاض ﷺ هو ومن آمن معه في مكة المكرمة ولمدة 13 عاما صراعا مريرا مع مشركي مكة كان ينزل ما يتنزل عليه من القرآن الكريم منزلته في بناء جيل فريد من المهاجرين الأولين، يكشف بها عوار المجتمع،

0:00 0:00
Speed:
February 23, 2023

في ذكرى هدم الخلافة

في ذكرى هدم الخلافة

الخبر:

صادف يوم الأحد 28 من رجب 1444هـ، 19 من شهر شباط 2023م الذكرى الثانية بعد المئة لهدم دولة الخلافة.

التعليق:

لعل أعظم مصيبة أصيب بها المسلمون منذ انتقال الرسول الكريم ﷺ إلى الرفيق الأعلى هي هدم الكيان الذي بناه ﷺ بيديه الشريفتين. فقد خاض ﷺ هو ومن آمن معه في مكة المكرمة ولمدة 13 عاما صراعا مريرا مع مشركي مكة كان ينزل ما يتنزل عليه من القرآن الكريم منزلته في بناء جيل فريد من المهاجرين الأولين، يكشف بها عوار المجتمع، يسفه أحلامهم، ويكشف عوارهم، ويهتك ظلمهم، ويقشع القذى عن عيونهم ليبصروا الحق، حتى أذن الله له بالهجرة إلى يثرب ليقيم كيانا سياسيا فريدا من نوعه متفردا بين الكيانات، الحكم فيه لله، والسلطان فيه للأمة، والعدل قوامه، ورعاية الشؤون عمله. وبعد عشر سنين من هجرته وبناء صرحه المكين، وتشييد دولة الإسلام الأولى دولة النبوة والرحمة، توفاه الله إليه بعد أن وفى للرسالة حقها وأداها على خير ما أدى رسول رسالته. وبقي الصرح الذي بناه شامخا عاليا مجيدا حين خلفه فيه أبو بكر رضي الله عنه ومن بعده عمر وعثمان وعلي في خلافة لم يشهد التاريخ مثلها في خلافة نبي في الحكم دون النبوة. ولم يأل المسلمون جهدا في الحفاظ على هذا الصرح العظيم والحفاظ على رايته خفاقة عالية مهما أصابها من ضعف أو سرى فيها من مرض. فحمل الراية بنو أمية في الشام والأندلس وبنو عباس في بغداد وبنو عثمان في إسطنبول، وتوسعت أركان الدولة، وارتقت حتى بلغت مشارق الأرض ومغاربها ودخل في دين الإسلام من الملل والأقوام ما جعل دولة الإسلام أعظم وأقوى وأعدل وأرسخ دولة عرفها التاريخ حتى اليوم. توسعت في رقعتها وارتقت بعلومها ومعارفها، وتميزت بعدلها وصلابتها حتى أشاد بها أعداؤها قبل أوليائها.

ثم مضت في دولة الإسلام، دولة الخلافة سنة الله في حركة الدول وتداول الأيام "وتلك الأيام نداولها بين الناس" فدالت دولة الخلافة بعد أكثر من 13 قرنا، وتمكن أعداؤها من كفار أوروبا وأعوانهم من خونة العرب والترك من هدمها وأصبحت مأتما للبكائين ومرثاة للراثين فرثاها أمير الشعراء شوقي بقوله:

الهِندُ والِهَةٌ وَمِصرُ حَزينَةٌ *** تَبكي عَلَيكِ بِمَدمَعٍ سَحّاحِ

الشامُ تَسأَلُ وَالعِراقُ وَفارِسٌ *** أَمَحا مِنَ الأَرضِ الخِلافَةَ ماحِ

وَأَتَت لَكَ الجُمَعُ الجَلائِلُ مَأتَماً *** فَقَعَدنَ فيهِ مَقاعِدَ الأَنواحِ

ومنذ هدم الخلافة، لم تبق مصيبة إلا وحلت بالمسلمين. فتمزقت وحدتهم إربا إربا، فصارت الدولة الواحدة بضعا وخمسين خرقة، كل واحدة لا تملك إلا أن تمسح بساطير محتليها من إنجليز وفرنسيين وأمريكان وروس. وباتت أموالهم نهبا للطغاة من شراذم العالم، فلا نفطهم نفطهم، ولا الغاز غازهم، ولا الذهب ينتفعون به. وزاد الطين بلة أن يهود اغتصبوا الأرض المباركة وأقاموا لهم كيانا فيها ودنسوا ساحات المسجد الأقصى:

إني رأيت قبيل الصبح ساحته *** ما بين باغ يدنسها ومنتقم

وقد بلغت مأساة هدم الخلافة الإسلامية أن أكثر من نصف مليار مسلم يبيتون كل ليلة وفيهم جوع شديد، يصارعون بردا قارسا، ويبيتون في ما يشبه العراء، بعد أن كانت أمة الإسلام تطعم كل جائع وتؤوي كل مشرد وتقي من البرد كل من أصيب به:

كم من فقير عاشها سغبا *** والبرد أبلى عظمه قرسا

ومنذ هدم دولة الخلافة رفرفت في بلاد المسلمين كل راية عمية، وكل راية ضلالة من قومية ووطنية وعلمانية وقبلية وغربية أو شرقية، إلا راية رسول الله ﷺ، فقال فيهم الشاعر:

قد رفرفت خافقات لست تعرفها *** مذ أخفقت زمنا عن رفرف علمي

وبكت نجوم الليل تندبنا إذ *** غيب الدهر أهل العز والكرم

وفي كل الأحوال ومع شدة الأهوال لم ينهض لإنقاذ الأمة من كبوتها، ولإعادة دولة الإسلام وخلافته، ليمسح دموع اليتامى ويستر عورات وحرمات المسلمين من الدنس، ويحمي بيضة المسلمين ويوحد بلادهم في دولة واحدة، ويحرر المغتصب من أراضيهم إلا ثلة باعت نفسها لله رخيصة، ونذرت نفسها وما لديها من أنفاس لإعادة صرح الخلافة وقوة الدولة وهيبة الأمة. ومرت الذكرى الثانية بعد المئة ولم نر في العالم بأسره من قام على قدميه، وجمع ما لديه، وحشد ما عنده من رجال ليحيي ذكرى هدم الخلافة والتأكيد مرة أخرى بنفَس جديد أنه عقد العزم على أن تعود الخلافة، وأن يعيدها ليس على منهاج من سبقنا من الخلفاء بل على منهاج النبوة والرحمة، منهاج رسول الله، كما أنبأنا رسول الله ﷺ "ثم تكون خلافة على منهاج النبوة".

نعم لقد قام حزب التحرير في الأمة صائحا، ومنبها، ومحذرا، ومستحثا للخطا، وشاحذا للهمم، أن هبوا أيها المسلمون وقفوا وقفة رجل واحد، وشدوا أياديكم على أيادينا كي نعيدها خلافة على منهاج النبوة، نعيد للأمة عزتها، وللكتاب حقه في الحكم والسيادة، وللمسجد رسالته، وللدين قوامته. أيها الناس إننا الرائد الذي لا يكذب أهله. فلن يكون لأمتنا صولة ولا صولجان إلا إذا عاد الإسلام بخلافته الراشدة ليحكم أمرنا. لن نستعيد سلطاننا بدون دولة الخلافة. وإنا على ذلك ماضون. لقد أقمنا مؤتمرا في العالم كله فذكرنا الخلافة حين نسيها الناس، وعزمنا على إقامتها حين ابتعد عنها الناس، ووقفنا في وجه الطغاة، حين حاباه الناس، ونذرنا أنفاسنا لها حين كاد أن يحبسها فينا طواغيت الناس.

ومن كانت الخلافة همه الدائم وشغله الشاغل، فلن يتره الله عمله، ومن كان على عهد الله ووعده بالنصر والتمكين فأولى أن يكون من الذين قال فيهم الله تعالى: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُم فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

#أقيموا_الخلافة               #كيف_تقام_الخلافة                      #بالخلافة_يحصل_التغيير_الحقيقي

#ReturnTheKhilafah          #KhilafahBringsRealChange

#YenidenHilafet      #HakikiDeğişimHilafetle

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست