في تونس: جلسات وزارية رسمية لرسم السياسات الاقتصادية وفق خارطة طريق الشركات البترولية البريطانية
في تونس: جلسات وزارية رسمية لرسم السياسات الاقتصادية وفق خارطة طريق الشركات البترولية البريطانية

الخبر:   تدارس وزير الماليّة محمد نزار يعيش، خلال اجتماع مع عدد من أعضاء الحكومة، عقد مساء الجمعة 05 حزيران/يونيو 2020 بمقر الوزارة، إلى الوضعية الاقتصادية للبلاد والضغوطات التي تشهدها الماليّة العموميّة وسبل تعزيز الموارد الذاتية للدولة. ...

0:00 0:00
Speed:
June 10, 2020

في تونس: جلسات وزارية رسمية لرسم السياسات الاقتصادية وفق خارطة طريق الشركات البترولية البريطانية

في تونس: جلسات وزارية رسمية لرسم السياسات الاقتصادية

وفق خارطة طريق الشركات البترولية البريطانية

الخبر:

تدارس وزير الماليّة محمد نزار يعيش، خلال اجتماع مع عدد من أعضاء الحكومة، عقد مساء الجمعة 05 حزيران/يونيو 2020 بمقر الوزارة، إلى الوضعية الاقتصادية للبلاد والضغوطات التي تشهدها الماليّة العموميّة وسبل تعزيز الموارد الذاتية للدولة.

وحضر هذا الاجتماع كلّ من وزير النّقل أنور معروف، ووزير التنمية والاستثمار والتعاون الدّولي سليم العزّابي، ووزير التجارة محمّد المسليني، ووزير التربية محمّد الحامدي، وعدد من نواب الشعب المنتمين إلى أحزاب الائتلاف الحاكم وبعض الخبراء الاقتصاديين.

وتطرّق الاجتماع وفق بلاغ لوزارة المالية، إلى أهميّة تظافر جهود كلّ الأطراف من حكومة وفاعلين اقتصاديين وأحزاب ومنظمات وطنيّة لدفع الحركة الاقتصاديّة ووضع كل الإجراءات الكفيلة بتجاوز الصعوبات الراهنة. (موقع باب نت)

التعليق:

قد يبدو الخبر عاديا واجتماعا روتينيا لوزراء الحكومة، لمن لا يعرف شخصية نائب مدير الشركة البترولية البريطانية العابرة للقارات "بريتش غاز" (شال حاليا) مهدي بن عبد الله الذي يبدو أنه قد تم تقديمه خلال هذا الاجتماع على أنه أحد الخبراء الاقتصاديين.

هي جلسة وزارية ذات طابع اقتصادي بامتياز، أشرف عليها رئيس غرفة التجارة التونسية البريطانية مهدي بن عبد الله وحضرت فيها أهم الأطراف التي يريد عبرها فرض مسار الانتقال من الشراكة بين القطاعين العام والخاص إلى مزيد من الخصخصة، ثم فرض ما يسمى باقتصاد المعرفة الذي سيخفف العبء عن الدولة ظاهريا عبر التخفيض من كتلة الأجور، فضلا عن تفعيل اتفاقيات شراكة ومذكرات تفاهم سابقة تجمع الطرف البريطاني بهذه الوزارات تحديدا. اتفاقيات ذهبت إلى حد التفكير في مشروع "مدرسة الفرصة الثانية" لمعالجة مشكلة الانقطاع المدرسي، وهو ما يفسر حضور وزير التربية في هذا الاجتماع.

هذا كله بغاية ربط اقتصاديات البلد بالاستراتيجية والرؤية البريطانية عقب خروج بريطانيا من الاتحاد الأوروبي، قبل أن تكون تونس منطلقا لاستثمار بريطاني في دول أفريقية أخرى، لعل أولها هي ليبيا كما جاء على لسان رئيس البرلمان راشد الغنوشي ضمن حوار على قناة نسمة. وهذا يستوجب أن تكون هذه الرؤية المحور الذي تدور حوله السياسات الاقتصادية للبلد وتشتغل على تفعيله الوزارات السيادية في النظام الرأسمالي (المالية، الاستثمار والتعاون الدولي والتجارة).

هذا العنوان الساحر للموظفين الوزاريين وهذا النوع من الاقتصاد (اقتصاد المعرفة) وما يرتبط به من برامج هي أمور جاهزة عند الإنجليز منذ مدة، وما إعلانها السابق عن ضرورة تفعيل سبل الشراكة مع تونس في مجال الذكاء الاصطناعي والرقمنة وغيرها إلا مقدمة جذابة لتحقيق ذلك، ولكن الوزراء والنواب بصدد اكتشاف عالم جديد من الاقتصاد يظنون أنه سبيل الخلاص ما داموا يتلقون "العلم النافع" ممن تم تقديمهم على أنهم خبراء اقتصاديون.

لا عجب أن يناقش مهدي بن عبد الله وزراء حكومة الفخفاخ حول خزينة الدولة وتعبئة الموارد المالية، فهو اليد اليمنى للسفارة البريطانية في تونس ورئيس غرفتها التجارية منذ عهد السفير كريستوفر أوكونور مرورا بالسفير هاميش كويل وصولا للسفيرة لويس دي سوزا، وهو أيضا من شارك في صياغة ميزانية 2019 و2020 بوصفه رئيس الغرف التجارية المشتركة وباعتراف سابق منه، وهو من جاء بصديقه العزيز سليم العزابي ووضعه على رأس وزارة الاستثمار والتعاون الدولي مثلما جاء برئيس الحكومة إلياس الفخفاخ ومن قبله صديقه يوسف الشاهد، وهو أيضا من رافق وتابع وحضر مسار تشكيل جميع الحكومات بلا استثناء.

نستطيع القول إذن، إن فريق العمل الحكومي التابع لغرفة التجارة التونسية البريطانية جاهز للقيام بالمطلوب في المرحلة القادمة، خاصة بعد إعلان سفيرة بريطانيا يوم 08 حزيران/يونيو 2020 عن ضرورة الإعداد للدورة السابعة لمنتدى الحوار السياسي والاقتصادي والثقافي التونسي البريطاني، ليصبح اقتصاد المعرفة هو عنوان المرحلة دون أدنى معرفة بهذا النوع من الاقتصاد ومنافعه على البلاد والعباد، ولكن الواضح الآن أنه من وحي السفارة البريطانية وأذرعها في تونس...

ويكفي أن نشير في هذا الصدد إلى أن الرئيس السابق لجهاز المخابرات السرية البريطانية جون سورز قد تم انتدابه كمدير غير تنفيذي لشركة "بريتش بتروليوم" لندرك مدى التقاطع طويل الأمد بين ضرورات الجغرافيا السياسية وأبعاد إنتاج النفط، ولنأخذ فكرة عن نوعية الانتدابات التي تقوم بها هذه الشركات العابرة للقارات لضمان مصالحها في البلدان التي يقع فيها الإنتاج...

فهلا استفاق أهل تونس على أنه لا خلاص لهم إلا بمبدأ الإسلام العظيم حين تطبقه دولة، هي دولة الخلافة الراشدة، وأن التمسح على أعتاب القوى الاستعمارية ومؤسساتها البنكية وشركاتها البترولية لا يزيد البلد إلا خضوعا وارتهانا وبُعدا عن شرع الله وأحكامه العادلة، وأن ما يجري اليوم ليس سوى عملية تغيير الاستعمار لجلده حتى يحافظ على رصيد قرن من التآمر والاختراق لجسد الأمة المنهوبة المسلوبة ومنها تونس؟

قال تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾. [الأنفال: 24].

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. وسام الأطرش – ولاية تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست