في يوم عرفة نستذكر وحدة المسلمين وعزتهم
في يوم عرفة نستذكر وحدة المسلمين وعزتهم

وقوف الحجيج على جبل عرفة (23/09/2015).

0:00 0:00
Speed:
September 24, 2015

في يوم عرفة نستذكر وحدة المسلمين وعزتهم

في يوم عرفة نستذكر وحدة المسلمين وعزتهم

الخبر:

وقوف الحجيج على جبل عرفة (23/09/2015).

التعليق:

لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لاَ شَرِيكَ لَكَ..

في يوم عرفة نستذكر وحدة المسلمين وعزتهم ومقياس تفاضلهم؛ «لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ، وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى، إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ»..

في يوم عرفة نستذكر يوماً خطب فيه رسول الله مبلّغاً ومودّعاً: أيُّها النَّاسُ، اسمعوا قولي، فإنِّي لا أدري لعلِّي لا ألقاكم بعدَ عامي هذا، بِهذا الموقِفِ أبدًا: «أيُّها النَّاسُ، إنَّ دماءَكم وأموالَكم عليْكُم حرامٌ، إلى أن تلقَوا ربَّكم كحُرمةِ يومِكم هذا، وَكحُرمةِ شَهرِكم هذا».

نستذكر ذلك ونحن نرى كيف استبيحت دماء المسلمين اليوم، وأعراضهم وأموالهم، نستذكر ذلك ونحن نرى حكامنا يلقون حمم الموت على المسلمين في الشام واليمن والعراق فيجمعون بين انتهاك حرمة دماء المسلمين وأموالهم وبين انتهاك حرمة الأشهر الحرم فيقترفون ما لم يقترفه رؤوس الجاهلية الذين كانوا يراعون حرمة الأشهر الحرم، أما حكامنا اليوم فلا يراعون ولا يرعوون ولا يخجلون..

«وإنَّ كلَّ ربًا موضوعٌ، ولكن لَكم رؤوسُ أموالِكم، لا تظلِمونَ ولا تُظلَمونَ قضى اللَّهُ أنَّهُ لا ربًا»

نستذكر ذلك، ونحن نرى كيف ملأ حكامُنا أرض الحرمين الشريفين وكافة بلاد المسلمين بالبنوك الربوية دون أي حياء..

«إنَّ الشَّيطانَ قد يئِسَ أن يعبدَ في أرضِكم، ولَكنَّهُ قد رضِيَ أن يطاعَ فيما سوى ذلِكَ مِمَّا تحقِّرونَ من أعمالِكم»

نستذكر ذلك ونحن نرى كيف اتخذ حكامُنا الأمريكان والإنجليز أربابا من دون الله، حيث أحلوا لهم ما حرم الله وحرموا عليهم ما أحل، وليس أدل على ذلك من مشاركتهم قتل المسلمين وامتناعهم عن نصرة المسلمين وحماية مقدساتهم وتحليلهم الربا واتخاذهم الكفار أولياء من دون الله، والأمثلة كثيرة، وتلك عبادتهم لهم، ومع ذلك يحتقر كثيرٌ من مشايخنا وعلمائنا في هذه البلاد أفعال حكامِهم تلك ولا تغلي دماؤهم على تلك الانتهاكات وعلى تلك العبادة، فلا يهبّون لإنكار المنكر، بل يرضون ويتابعون..

«وقد ترَكتُ فيكم ما إنِ اعتصمتُم بِهِ فلن تضلُّوا أبدًا كتابَ اللَّهِ وسنَّةَ نبيِّهِ»

نستذكر ذلك ونحن نرى كيف يعتصمُ حكامُنا بالكفار ويسيرون تحت أقدام ركابهم، بل ويطلبون منهم حماية المسلمين في الشام والقدس وحماية الأقصى، عِوضاً عن أن يعتصموا بكتاب الله وسنته وينصروا الله ويستنصروه..

«أيُّها النَّاسُ، اسمعوا قولي واعقِلوهُ تعلمُنَّ أنَّ كلَّ مسلمٍ أخٌ للمسلِمِ، وأنَّ المسلمينَ إخوَةٌ»

نستذكر ذلك ونحن نرى كيف فرق حكامُنا بين المسلمين ومزّقوهم وصنّفوهم، فهذا عربي وهذا أعجمي، هذا سعودي وهذا مصري وهذا سوري ...، هذا مواطن وهذا مقيم، بل هذا مواطن أصيل وهذا مواطن مجنّس، ولا حول ولا قوة إلا بالله..

في يوم عرفة نستذكر أعواماً كان المسلمون يحجون فيها من كل بلاد الإسلام لا تحدّهم حدود ولا توقفهم حواجز ولا يمنعهم جواز سفر ولا يُطلب منهم تصريح، أرضهم واحدة وبلادهم واحدة ودولتهم واحدة وإمامهم واحد، أمّةٌ واحدة حكماً وواقعاً، تماما مثلما أن دينهم واحد وقبلتهم واحدة.. نستذكر ذلك ونحن نرى الصعوبة المتناهية في نوال المسلمين الحج، والتفتّت الذي تفتّتته بلاد المسلمين بفعل حكامها..

في يوم عرفة نستذكر يوما كان أمير حج المسلمين يقف على جبل عرفة بينما أمير جهادهم يحاصر بيت المقدس تمهيدا لفتحها ولضم أقصاها ثالث الحرمين إلى شقيقيه حرمي مكة والمدينة.. نستذكر ذلك ونحن نرى جيوشَ الصهاينة تحاصر المسجد الأقصى في حجنا هذا وتقتحمه وتسعى لتقسيمه أو هدمه، وحكام المسلمين يجتهدون بصد كل من يحاول أن يستنصر للأقصى ولو بكلمة..

في يوم عرفة نستذكر حاكما للمسلمين كان يتولى إمارة حجهم عاما وإمارة جهادهم عاما، فلا نعجب أن يخاطب ملك الروم بكلب الروم وأن يقود فتح مدينة هرقل، ولا نعجب أن يخاطب الغيوم أن أمطري حيث شئت فإن خراجك راجع إليّ، ولا نعجب أن تصبح الدولة الإسلامية في عهده منارةً في تاريخ العلم والعلماء.. نستذكر ذلك ونحن نرى ذلّ حكامِنا وهوانَهم واستخذاءَهم لملوك الكفار وقادتِهم، فلا نعجب أبداً لما وصل إليه حالُنا وحالُ بلادنا..

وفي يوم عرفة يكفينا أن نستذكر يوماً قال اللهُ فيه: ﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾ فننظر ليومنا هذا فنرى كيف مزّق حكامُنا أحكامَ الدين ففصلوا الدين عن الدولة وحكموا بأهوائهم وأهواء أسيادهم، وأعرضوا عن دين الله الذي أكمله وارتضاه..

في يوم عرفة نستذكر ذلك كله، فيتقطّع القلبُ ألماً وحزناً عندما نقارن حالَ المسلمين في حج اليوم، بما كان وما يجب أن يكون..

إلا أن هذا الألم والحزن يستحيلُ تفاؤلاً وأملاً عندما نستذكر وعود الله وبشارات رسوله لهذه الأمة بالسنا والرفعة والعزّ والنصر والتمكين والاستخلاف، وعندما نرى هذه الجموع المباركة موحَدّةً ملبيّةً في عرفة لا يجمعها إلا تلبية نداء الله، وعندما نرى اجتماعَ ذلك مع جهاد المجاهدين في الشام رافعين راية رسول الله، ومع رباط المرابطين في الأقصى مفتدينَه بدمائهم.. فنستبشر بأيام كأيام حج المسلمين وجهادهم في تاريخهم المجيد، نستبشر بخلافة راشدة على منهاج النبوة تضم الأقصى إلى الحرمين، وتحرر البلاد والعباد وتقود الحج والجهاد، فتعيدنا كما كنا خيرَ أمة أخرجت للناس بحقّ..

في يوم خير الدعاء، يومِ عرفة، نسأل الله حجاً قريباً وعيداً قريباً ويومَ عرفة قريباً في ظل خلافةٍ راشدة على منهاج النبوة تعيدنا للدين الكامل، وتطبّق علينا ما أمر به رسولُ الله في خطبة الوداع، وكلّ أحكام الدين، وتعيدنا لعهود عزّة كعهود أبي بكر وعمر وعثمان وعلي وابن عبد العزيز وهارون، فتحيل الذكريات واقعاً معاشاً...

في يوم عرفة نهنئ المسلمين بعيد الحج ونبشرهم بخلافة راشدة على منهاج النبوة بدأت أشعةُ شمسِها بالإشراق، وندعوهم للّحاق بركب العاملين لها قبل أن يفوتهم الأجر بقيامها، والله الهادي إلى سواء السبيل وهو سبحانه الوليّ والنصير والمجيب..

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

محمد بن إبراهيم - بلاد الحرمين الشريفين

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست