في ظلّ الأنظمة العلمانية، يتمُّ تجاهل المعاناة الإنسانية بسبب المسافات السياسية
في ظلّ الأنظمة العلمانية، يتمُّ تجاهل المعاناة الإنسانية بسبب المسافات السياسية

الخبر: في الأسابيع الأخيرة، تعرّضت الحكومة البريطانية لانتقادات بسبب المعاملة غير الإنسانية لطالبي اللّجوء في مراكز الهجرة التابعة لها، والظروف المروّعة التي يتمّ احتجازهم فيها أثناء انتظار معالجتهم بمجرد وصولهم إلى شواطئ البلاد.

0:00 0:00
Speed:
November 11, 2022

في ظلّ الأنظمة العلمانية، يتمُّ تجاهل المعاناة الإنسانية بسبب المسافات السياسية

في ظلّ الأنظمة العلمانية، يتمُّ تجاهل المعاناة الإنسانية بسبب المسافات السياسية

(مترجم)

الخبر:

في الأسابيع الأخيرة، تعرّضت الحكومة البريطانية لانتقادات بسبب المعاملة غير الإنسانية لطالبي اللّجوء في مراكز الهجرة التابعة لها، والظروف المروّعة التي يتمّ احتجازهم فيها أثناء انتظار معالجتهم بمجرد وصولهم إلى شواطئ البلاد. وتمّ الاحتفاظ بحوالي 4000 شخص في منشأة مانستون في كينت، وهي قاعدة جوية سابقة، والتي ينبغي أن تستوعب 1600 شخص فقط. ووُصفت الظروف في المركز المكتظ بأنها بائسة وشبيهة بالسجن، مع تقارير عن مراحيض قذرة ووجبات باردة وطالبي لجوء ينامون على الورق المقوى بالإضافة إلى تفشي الخناق والجرب وعدوى MRSA بسبب البيئة غير الصّحية. كما كانت هناك صور مروّعة لأطفال خلف أسوار من الأسلاك الشائكة في المركز. دفاعاً عن إخفاق الحكومة في التعامل مع المهاجرين بشكل إنساني، زعمت وزيرة الداخلية البريطانية، سويلا برافرمان، في البرلمان أن هناك غزواً من طالبي اللّجوء على الساحل الجنوبي لإنجلترا وأنّ الحكومة كانت تحاول وقف ذلك. وجاءت تعليقاتها المثيرة للجدل والمثيرة للكراهية بعد يوم من قيام رجل بإلقاء قنابل حارقة على مركز للمهاجرين في دوفر، والتي قالت الشرطة إنها مدفوعة بفكر يميني و"شكل من أشكال الظلم المليء بالكراهية". ووفقاً لصحيفة التايمز، منعت برافرمان أيضاً نقل آلاف المهاجرين إلى الفنادق خلال فترة عملها الأولى كوزيرة داخلية في عهد رئيسة الوزراء السابقة ليز تروس. وسبق أن علقت برافرمان بأنها كانت تحلم برؤية عنوان في صحيفة تلغراف اليمينية عن اللاجئين الذين يتمّ نقلهم جواً على متن طائرة متوجهة إلى رواندا.

التعليق:

من الواضح أن نهج الحكومة البريطانية في التعامل مع اللاجئين اليائسين، الذين فرّ الكثير منهم من الاضطهاد والحرب، هو محاولة جعل الحياة لا تطاق بالنسبة لهم من أجل الانتقاص من الآخرين عن البحث عن ملاذ في البلاد. لقد تُرك العديد من اللاجئين شهوراً طي النسيان، غير قادرين على البحث عن عمل أو تعليم أو التمتع بحياة طبيعية حتى تتمّ معالجة طلب اللّجوء الخاص بهم، ما يؤثر على صحتهم العقلية. وفقاً لصحيفة الغارديان، فقد ارتفع التأخير في معالجة طلبات اللجوء بنسبة 72٪ خلال عام - "أكثر من الضعف قبل عامين وتضاعف ثلاثة أضعاف الفترة التي سبقت وباء كوفيد - وأن 75٪ من الإجمالي كانوا ينتظرون قراراً بشأن المزيد من ستة أشهر" في حزيران/يونيو، كان 122،213 شخصاً ينتظرون قراراً أولياً بشأن طلب لجوئهم. وذكر العديد من المعلقين أن مثل هذا التراكم الهائل والتأخير في معالجة طلبات اللجوء هذه مدفوع أيديولوجياً ويهدف إلى الحدّ من أعداد الذين يتمّ منحهم الإقامة في البلاد. بريطانيا ليست وحدها التي تصنع جحيماً حياً للاجئين أو تحاول جاهدةً منعهم من دخول أراضيها. إن الظروف الفظيعة في مخيمات اللاجئين في كاليه وبنغلادش وتركيا موثقة جيداً. وتخوض الحكومة النرويجية حالياً معركة دبلوماسية مع إيطاليا حول من يجب أن يتحمل مسؤولية حوالي 1000 لاجئ ومهاجر أنقذتهم سفن المنظمات غير الحكومية في البحر الأبيض المتوسط ​​التي كانت ترفع علمها. وتصرُّ أوسلو على أن تتولى روما مسؤولية الأشخاص الذين تقطّعت بهم السبل قبالة سواحلها.

تنظر معظم الدول العلمانية إلى اللاجئين على أنهم عبء على اقتصادها بدلاً من كونهم أصلاً لمجتمعهم؛ لأن مثل هذه الدول تقيس كل شيء من خلال العدسة الرأسمالية للمكسب والخسارة المادية، وليس وفقاً للقيم الإنسانية والأخلاقية مثل الحاجة البشرية. علاوةً على ذلك، فهي تستخدم اللاجئين ككبش فداء، وتلقي بشكل ساخر اللوم في بعض المشاكل الاقتصادية التي تؤثر على سكانها المحليين على المهاجرين الذين يدخلون البلاد. يستخدم السياسيون العلمانيون هؤلاء الأشخاص اليائسين كدروع بشرية وستائر دخان مريحة للمساعدة في صرف الغضب والانتباه العامين عن السياسات والأنظمة الاقتصادية الفاشلة لهذه الدّول التي فشلت في تلبية احتياجات شعوبها وخلق بيئة اقتصادية صحية داخل مجتمعاتها.

علاوةً على ذلك، وكما يتّضح من التصريحات التحريضية لوزيرة الداخلية البريطاني، فإن السياسيين العلمانيين لا يتردّدون في تبني خطاب يميني متطرف ولغة غير إنسانية تجاه طالبي اللّجوء، وتصويرهم على أنّهم تهديد للبلاد، بغضّ النظر عن تأجيج الهجمات ضد اللاجئين والعرقيات الصغيرة من السكان الذين يُنظر إليهم على أنهم أجانب بسبب لون بشرتهم أو بلدهم الأصلي. من الواضح أن الهدف هو اللعب على جمهور الناخبين اليمينيين المعادين للأجانب والعنصريين لكسب دعمهم. ليس من المستغرب أن تأتي تعليقات برافرمان في وقت يتأخر فيه حزب المحافظين في استطلاعات الرأي وحيث يوجد غضب شعبي هائل تجاه السقوط المالي المعطّل للقرارات والسياسات الاقتصادية للحكومة. دخلت اللغة التي استخدمها اليمينيون المتطرفون في الاتجاه السائد للسياسة العلمانية، ووظّفها السياسيون لتحقيق مكاسب سياسية. ومن ثمّ، في ظلّ الأنظمة العلمانية، يتمّ استخدام اللاجئين اليائسين كأهداف وأكياس الملاكمة من السياسيين الانتهازيين للفوز بالانتخابات وللمسافات السياسية. نرى في تركيا على سبيل المثال كيف أن الانتقادات اللاذعة السياسية ضد اللاجئين السوريين في البلاد، وإلقاء اللوم عليهم في المساهمة في الأزمة الاقتصادية التي تعاني منها البلاد، قد تسارعت مع اقتراب موعد الانتخابات الرئاسية. فقد أعلن أردوغان، على سبيل المثال، أنه يستعد لإعادة مليون لاجئ إلى سوريا التي مزقتها الحرب.

هذه هي الحقيقة الخطيرة والمثيرة للاشمئزاز والقاسية للنظام العلماني، والتي تسمح للحكام باستخدام أولئك الذين عانوا من أفظع القيم والاضطهاد كبيادق للفوز بالألعاب السياسية. هذا ليس نظاماً مناسباً لحكم البشرية. في المقابل، يتعامل النظام الإسلامي مع المهاجرين وطالبي اللجوء واللاجئين من منظور إنساني وأخلاقي. ففي ظل الحكم الإسلامي، يُمنح المظلوم ملاذاً وحياة كريمة، مع حقوق التابعية الكاملة إذا أرادوا الإقامة داخل الدولة وأن يصبحوا من رعاياها، لأن الإسلام نظام جاء رحمةً للبشرية. قال الله تعالى: ﴿وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ﴾ لذلك سوف ترحب الخلافة بالباحثين عن اللّجوء والملاذ على أراضيها. علاوةً على ذلك، سيكون لديها القدرة على تزويدهم باحتياجاتهم الأساسية وفرصة البحث عن عمل كريم وبناء مستوى معيشي جيد لأنفسهم، لأنه سينفّذ النظام الاقتصادي الإسلامي الذي يُجسد المبادئ السليمة لبناء مجتمعات مزدهرة حيث الاستفادة من ثروتها كما ثبت تاريخيا.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. نسرين نوّاز

مديرة القسم النسائي في المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست