في ظل الرأسمالية والأنظمة الفاسدة... أكثر من 100 مليون جائع في العالم!
في ظل الرأسمالية والأنظمة الفاسدة... أكثر من 100 مليون جائع في العالم!

الخبر: أفاد تقرير نشرته الأمم المتحدة بالاشتراك مع الاتحاد الأوروبي يوم الجمعة 2017/3/31، أن عدد الأشخاص الذين يعانون من خطر المجاعة في العالم بلغ 108 ملايين شخص أي بزيادة تقدر بـ35% مقارنة بعدد الجائعين خلال العام 2015 والذي كان 80 مليون نسمة. وبحسب التقرير فإن النزاعات الدامية والظروف المناخية والارتفاع الحاد في أسعار بعض المواد الغذائية قد ساهمت في ارتفاع هذه النسبة.

0:00 0:00
Speed:
April 04, 2017

في ظل الرأسمالية والأنظمة الفاسدة... أكثر من 100 مليون جائع في العالم!

في ظل الرأسمالية والأنظمة الفاسدة...

أكثر من 100 مليون جائع في العالم!

الخبر:

أفاد تقرير نشرته الأمم المتحدة بالاشتراك مع الاتحاد الأوروبي يوم الجمعة 2017/3/31، أن عدد الأشخاص الذين يعانون من خطر المجاعة في العالم بلغ 108 ملايين شخص أي بزيادة تقدر بـ35% مقارنة بعدد الجائعين خلال العام 2015 والذي كان 80 مليون نسمة. وبحسب التقرير فإن النزاعات الدامية والظروف المناخية والارتفاع الحاد في أسعار بعض المواد الغذائية قد ساهمت في ارتفاع هذه النسبة.

ويفيد التقرير أن الانعدام الحاد في الأمن الغذائي والذي يشمل الذين كانوا يعانون أصلا من نقص حاد في الغذاء وعاجزين عن تلبية حاجاتهم في هذا المجال بشكل دائم يمكن أن يتفاقم هذا العام عبر وصول المجاعة إلى أربعة بلدان هي جنوب السودان والصومال واليمن وشمال شرق نيجيريا. وإضافة إلى المناطق المعرضة للمجاعة هناك دول مثل العراق وسوريا، إضافة إلى اللاجئين السوريين في الدول المجاورة لسوريا ومالاوي وزيمبابوي دخلت حالة انعدام الأمن الغذائي. (فرانس24).

التعليق:

أرقام مهولة عن أعداد الجائعين في العالم، نسبة كبيرة من هذه الأعداد تضاف إلى سجل جرائم الدول الرأسمالية الجشعة التي تشعل الصراعات الدولية وتغذي الحروب الأهلية، خدمة لمصالحها وطمعاً في السيطرة على ثروات ومقدرات الدول ولا سيما بلاد المسلمين، فيدفع أهل هذه البلاد ضريبة هذه الحروب والصراعات، سواء أظلوا صامدين في ديارهم أم خرجوا منها لاجئين باحثين عن الأمن والحياة الكريمة، حيث تنتشر في صفوفهم المجاعات ويعانون من سوء في التغذية إضافة إلى انتشار الأمراض والأوبئة الناتجة عن نقص الغذاء والدواء، والناظر في أحوال اليمن وسوريا والسودان والصومال والعراق وما سببته حروب المستعمرين فيها من آثار كارثية على أهلها يرى هذه الحقيقة بوضوح، بل إن صور الهياكل العظمية التي وصلتنا لأطفال هذه المناطق يغني عن ألف كلمة في هذا المجال. فهذه الدول تقامر في صراعاتها وحروبها على حساب شعوب مكلومة، دون الاكتراث بأرواح البشر أو لقمة عيشهم.

يضاف إلى ذلك أنه في ظل النظام الرأسمالي فإن قلة قليلة هي التي تمتلك الثروة مما أوجد فجوة اقتصادية بين الناس، وزاد من الفقر والجوع والعوز فقد أظهر تقرير صادر عن مؤسسة الإغاثة العالمية "أوكسفام" في بداية عام 2017 أن ثمانية أفراد فقط يمتلكون ثروة تعادل ما يملكه النصف الأفقر من سكان العالم!

كما أن أعداد الجائعين في بلاد المسلمين تضاف إلى سجل جرائم الأنظمة الحاكمة فيها، فقد تركوا البلاد نهباً للمستعمر، وتآمروا معه على شعوبهم وشاركوه جرائمه في الحروب التي أشعلها، بل إن طاغية الشام قد استعمل التجويع والحصار كسلاح ضد شعبه لكسر إرادتهم وتركيعهم ولا سيما في مضايا، إضافة إلى أن هذه الأنظمة طبقت النظام الاقتصادي الرأسمالي وخضعت لشروط مؤسساته الاقتصادية الدولية كالبنك الدولي وصندوق النقد الدولي، فتأثرنا بأزماته الاقتصادية وارتفعت نسب البطالة والتضخم وزادت المديونيات وغيرها الكثير من المشاكل التي أثرت بشكل مباشر على المستوى المعيشي للناس وزادت من بؤسهم فاحتلت مصر على سبيل المثال المركز الثالث وفق مؤشر الجوع العالمي، يضاف إلى هذا كله تقاعس هذه الأنظمة عن قيامها بواجب الرعاية وتوفير الحياة الكريمة لهم، وإهدارهم أموال الأمة في الإنفاق على ملذاتهم ورحلاتهم السياحية والسياسية كملوك السعودية، وعلى شراء الممتلكات لهم وللمقربين منهم، ولو أردنا عدَّ المجالات التي يهدرون فيها أموال الأمة لما وسعنا المقام.

ونود أن ننوه في هذا المقام إلى أنه بالرغم من وجود هذه الأعداد الكبيرة من الجائعين في العالم، وبالرغم من أن الملايين منهم من المسلمين، فإن بعض المسلمين لا يقدرون ما أنعمه الله عليهم من نعم، ويهدرون كميات كبيرة من الطعام تكفي لإطعام الآلاف، بل ربما الملايين، متناسين حديث رسول الله r: «ما آمن بي من بات شبعان وجاره جائع إلى جنبه، وهو يعلم به» فعلى سبيل المثال في السعودية وحدها يتم إهدار 8 ملايين وجبة طعام يومياً تقدر قيمتها بـ 70 مليونا (جريدة عكاظ 2017/3/16)

إن التقليل، بل القضاء على هذه النسب المرتفعة للجياع في العالم لا يكون إلا بالتخلص من هذا المبدأ الوحشي الاستعماري، وإيجاد نظام يحسن رعاية الناس ويقيم بينهم العدل، ويوزع الثروات فلا تكون دُولة بين الأغنياء فقط، ويكفل إشباع الحاجات الأساسية من مأكل وملبس ومسكن إشباعاً كليا لكل فرد، نظام يحمل في ظله الراعي همَّ رعيته لأن الله سائله عما استرعاه فيكون كعمر بن الخطاب، الذي شعر مرة في عام المجاعة أن أمعاءه تضطرب فخاطب بطنه، وقال: (قرقر أيها البطن، أو لا تقرقر، فو الله لن تذوق اللحم حتى يشبع منه صبية المسلمين)، كما أنه حمل الطعام على ظهره ليطعم امرأة من نساء المسلمين هي وأطفالها، ولن يتحقق ذلك إلا بتطبيق الإسلام في ظل دولة الخلافة الراشدة الثانية على منهاج النبوة. فنسأل الله أن يعجل لنا بقيامها.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أختكم براءة مناصرة

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست