فيروس كورونا: دعه يقتل، حتى يصبح الأمر استثماراً عظيماً
فيروس كورونا: دعه يقتل، حتى يصبح الأمر استثماراً عظيماً

الخبر:   قالت السلطات الصينية بأن عدد الوفيات الناجمة عن تفشي فيروس كورونا في الصين ارتفع إلى 106 يوم الثلاثاء 28 كانون الثاني/يناير 2020 مع تأكيد إصابة 1،771 حالة جديدة، مع استمرار انتشار العدوى التي ظهرت في مقاطعة هوبى بوسط الصين في أواخر العام الماضي. وقالت لجنة الصحة في هوبى مركز انطلاق المرض بأن 24 شخصا آخرين توفوا بسبب الفيروس وأصيب 1291 آخرون مما رفع العدد الإجمالي للعدوى هناك إلى 2714. كما تم تأكيد حالات الفيروس القاتل في العديد من البلدان في منطقة آسيا والمحيط الهادئ وكذلك أوروبا وأمريكا الشمالية. تم الإبلاغ عن أكثر من 4520 حالة على مستوى العالم، معظمها في الصين وخاصة في ووهان والمدن القريبة في مقاطعة هوبي. (الجزيرة)

0:00 0:00
Speed:
February 04, 2020

فيروس كورونا: دعه يقتل، حتى يصبح الأمر استثماراً عظيماً

فيروس كورونا: دعه يقتل، حتى يصبح الأمر استثماراً عظيماً

(مترجم)

الخبر:

قالت السلطات الصينية بأن عدد الوفيات الناجمة عن تفشي فيروس كورونا في الصين ارتفع إلى 106 يوم الثلاثاء 28 كانون الثاني/يناير 2020 مع تأكيد إصابة 1،771 حالة جديدة، مع استمرار انتشار العدوى التي ظهرت في مقاطعة هوبى بوسط الصين في أواخر العام الماضي. وقالت لجنة الصحة في هوبى مركز انطلاق المرض بأن 24 شخصا آخرين توفوا بسبب الفيروس وأصيب 1291 آخرون مما رفع العدد الإجمالي للعدوى هناك إلى 2714. كما تم تأكيد حالات الفيروس القاتل في العديد من البلدان في منطقة آسيا والمحيط الهادئ وكذلك أوروبا وأمريكا الشمالية. تم الإبلاغ عن أكثر من 4520 حالة على مستوى العالم، معظمها في الصين وخاصة في ووهان والمدن القريبة في مقاطعة هوبي. (الجزيرة)

التعليق:

فيروس كورونا هو فيروس جديد يُسمى مؤقتاً "nCoV-2019" وهو عبارة عن مجموعة من الفيروسات التي تتسبب بنزلات البرد الشائعة والفيروسات الأخرى مثل متلازمة الجهاز التنفسي الحادة الوخيمة (السارس) ومتلازمة الشرق الأوسط التنفسية. ويُعتقد أن الفيروس قد تم نقله في الأصل من حيوان إلى إنسان، على الرغم من أن مسؤولي الصحة لم يتمكنوا بعد من تحديد نوع الحيوان الذي بدأ منه تفشي المرض. ينتقل من شخص إلى آخر عن طريق الهواء ومن بين طرق أخرى السعال والعطس. وقد دق الفيروس ناقوس الخطر لأنه لا يزال جديدا، ومع ذلك لا يعرف كيف يؤثر على الناس. تعمل منظمة الصحة العالمية مع السلطات الصينية والخبراء العالميين منذ يوم علمنا بأولى حالاته، لمعرفة المزيد عن الفيروس، وكيف يؤثر على الأشخاص المصابين به، وكيف يمكن علاجهم، وما الذي يتوجب على البلدان فعله للتعامل مع الموضوع.

يكثف العلماء وخبراء الصحة بعض الجهود للتصدي للفيروس الجديد، ولم يتم اكتشاف لقاح له بعد. على الرغم من أنه يمكن القول بأن الأمر منذ اكتشاف الفيروس حديثاً، سيستغرق عدة أشهر للوصول إلى دواء. ومع ذلك، من المهم فهم حقيقة الرأسمالية في تحويل أية كارثة إلى عمل يدر دخلاً. إن الرؤية التي تحملها صناعة الأدوية الرأسمالية لديها حافز واحد فقط؛ الربح، أي كسب المال من إنتاج وبيع اللقاحات. ستكون الأدوية للمرضى الذين يعانون من الأمراض المزمنة، والتي يتم تناولها يومياً، أكثر ربحية من اللقاح الذي يوفر تأثيراً طويل الأمد. تلتزم شركات الأدوية تقيداً صارماً بالأطر التنظيمية المعروفة باسم إدارة الأغذية والعقاقير والتي تقوم بتصفية الأدوية الفاشلة من دخول السوق بعد التجارب السريرية والكلينيكية. نتيجة لذلك، تزعم شركات المستحضرات الصيدلانية أن مصاريفها يجب أن تكون مغطاة من مركبات تصبح أدوية ناجحة. وللحقيقة، فإن اللقاحات تولد إيرادات للشركات ليس لأن كل جرعة باهظة الثمن بشكل خاص ولكن لأنه من الضروري بشكل عام الحصول على مستويات عالية من التغطية على مستوى السكان. ومع ذلك، فإن الإنفاق على اللقاحات يمكن أن يحقق مدخرات مباشرة للمال العام. شراء لقاحات شلل الأطفال، على سبيل المثال، يمكن أن يقلل من خطر الاضطرار إلى إنفاق مبالغ كبيرة على الأدوية وإعادة التأهيل.

وعلى سبيل المثال، تفشي فيروس إيبولا في بلدان مثل ليبيريا والكونغو، أهمل المستثمرون التقليديون البحث عن لقاح بسبب نقص الحوافز المالية لفيروس الإيبولا. نتيجة لذلك، مات الآلاف من الناس بسبب الإيبولا في غرب أفريقيا. هذا مؤشر على أن الشركات الطبية تضع الربح قبل الأخلاق. إن الرأسمالية ليست مصممة لاتخاذ القرارات على أساس الأخلاق، ولكن تستند بشكل صارم إلى زيادة العائد الاقتصادي. لذلك قد يتم اكتشاف لقاح فيروس كورونا قريباً إذا ما تم عرضه على الاستثمار.

تُظهر الأزمات مثل تفشي فيروس كورونا العجز في النظام الرأسمالي واقتصادات السوق الحرة والحاجة الماسة لبديل يضع حياة الإنسان فوق الحد الأدنى. بفضل التكنولوجيا الحديثة المتقدمة، ستتمكن دولة الخلافة من خلق بيئة يمكن أن يزدهر فيها البحث والتطوير. يمكن تخصيص صندوق أبحاث لشركات الأدوية لتطوير وبحث اللقاحات والأدوية للعلاج. على عكس الرأسمالية حيث يكون الدافع الوحيد للبحث هو الربح، فإن الخلافة سوف تستثمر في الطب ليس لصالح رعاياها فقط أو كإيراد مربح بل كالتزام منها في تلبية الاحتياجات العامة التي تشمل الأمن والصحة للعالم بأسره. قال النبي r في حديث رواه عبيد الله بن محصن الأنصاري: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِناً فِي سِرْبِهِ مُعَافًى فِي جَسَدِهِ عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا» (رواه الترمذي)

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

شعبان معلم

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في كينيا

#كورونا

#Corona

#Covid19

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست