فيصل القاسم والدور الروسي
فيصل القاسم والدور الروسي

الخبر:   كتب د. فيصل القاسم في القدس العربي في 2021/12/10م مقالا بعنوان: "لماذا الغزو الروسي لسوريا حلال ولأوكرانيا حرام؟" قارن فيه بين موقف أمريكا من غزو روسيا لسوريا وبين محاولاتها وتلويحها بغزو أوكرانيا، وتوصل - أخيرا - إلى حقيقة الدولة الروسية.

0:00 0:00
Speed:
December 13, 2021

فيصل القاسم والدور الروسي

فيصل القاسم والدور الروسي

الخبر:

كتب د. فيصل القاسم في القدس العربي في 2021/12/10م مقالا بعنوان: "لماذا الغزو الروسي لسوريا حلال ولأوكرانيا حرام؟"

قارن فيه بين موقف أمريكا من غزو روسيا لسوريا وبين محاولاتها وتلويحها بغزو أوكرانيا، وتوصل - أخيرا - إلى حقيقة الدولة الروسية.

التعليق:

يقول د. فيصل إن "الضجة الحالية حول التهديدات الروسية لأوكرانيا أظهرت أن روسيا في واقع الأمر مجرد قوة إقليمية كما وصفها الرئيس الأمريكي الأسبق باراك أوباما..." وقال إن "الموقف الأمريكي والغربي من روسيا عموماً يؤكد لنا بأن واشنطن هي من تحدد لموسكو ما هو حلال وما هو حرام في السياسة الدولية...".

وعن غزو سوريا ينقل عن وزير الدفاع الأمريكي الأسبق أندرو أكسوم قوله حرفيا في محاضرة أمام الكونغرس الأمريكي "إن واشنطن في أواخر عام ألفين وخمسة عشر خشيت على مصالحها ومصالح (إسرائيل) في المنطقة، وكانت حريصة على بقاء النظام السوري كضامن للمصالح الأمريكية و(الإسرائيلية)، لهذا بادرت إلى إقناع الروس والتنسيق معهم لحماية النظام السوري من السقوط". ليؤكد أنه لم تكن لروسيا إمكانية لدخول الأراضي السورية وإقامة قاعدة عسكرية كبيرة بدون الضوء الأخضر الأمريكي بل المباركة.

وهو وإن كان يعزو ذلك كله إلى ضمان أمن كيان يهود وحماية مصالح أمريكا.

وحماية مصالح أمريكا اقتضت حرف ثورة الشام عن مسارها إلى أن تصل لمرحلة القضاء عليها، فاستخدمت أدوات منها روسيا ومنها أدوات إقليمية كإيران وحزبها اللبناني من جهة ودول الخليج من جهة أخرى، كل ذلك لحفظ مصلحة أمريكا التي تقتضي إبقاء بشار الأسد عميلها حتى تجد بديلا له... وهذا ما كان.

ويخلص فيصل القاسم إلى القول "لقد جاء الحدث الأوكراني ليؤكد أن روسيا متخصصة في تنفيذ المهمات القذرة التي لا تريد أمريكا أن تتسخ بها، بحيث تبدو أمريكا والغرب أمام العالم كمدافع عن الحريات وداعم للديمقراطيات، أما الدب الروسي فيبقى دباً بالمعنى الحرفي للكلمة بلا أخلاق ولا قيم ولا استراتيجية. بعبارة أخرى، ما زالت روسيا بنظر الغرب مجرد ولد أزعر أخرق يمكن استعماله عند اللزوم بشرط ألا يتجاوز حدوده..."، وهذا وصف دقيق لحقيقة روسيا ومكانتها الدولية وهو ما عبر عنه حزب التحرير في الكثير من الإصدارات حول الثورة السورية وغيرها من الأحداث العالمية نقتطف منها ما ورد في جواب سؤال أصدره أميره العالم الجليل عطاء بن خليل أبو الرشتة في 2013/6/29 "وأمريكا تُظهر أنها غير قادرة على الحل بسبب روسيا، فتراها تذهب إلى روسيا تتفاوض معها على اعتبار أن روسيا مع بشار وأن أمريكا مع الثوار، وتُظهر أن روسيا وأمريكا مختلفتان على الحل، وذهاب وإياب... ومهلة وراء مهلة... ليزيد بشار بالقتل والتدمير بأسلحة روسية، وكل ذلك حتى تفرغ أمريكا من إنضاج عميل بديل يخلفه سواء أكان ذلك بزيادة القتل ليخضع الناس فيقبلوا صنائعها، أم كان بتدخلها العسكري في نهاية المطاف بواجهة قرار من مجلس الأمن بحجة ضبط أمن الحكم الجديد...

وهكذا فإن المدقق في المواقف الروسية والأمريكية لا يجدهما في اتجاه معاكس، بل إن أعمال روسيا هي لخدمة أهداف أمريكا بتمهيد الطريق لأن يخلف عميل أمريكي جديد العميل الأمريكي الحالي القديم".

وفي جواب سؤال بعنوان "الدور الدولي في الأزمة السورية" بتاريخ 2016/10/20م جاء فيه "تمخضت فكرة الشراكة الدولية التي فعّلتها إدارة أوباما عن تكليف روسيا بوظيفة دولية في سوريا، وهذه هي الحقيقة في واشنطن، وكان ينطق بها بعض السياسيين الروس عندما يتحدثون عن التعالي الأمريكي في بحث مسألة سوريا مع الروس، وكانت أمريكا وراء تكليف روسيا بمهمة القتل والتدمير في سوريا... وكذلك وراء إبعاد الدول الأوروبية خاصة بريطانيا وفرنسا عن التدخل في حل الأزمة السورية. وفي الأثناء كانت روسيا واثقة بأن هذه الوظيفة الدولية ستحول روسيا تلقائياً إلى دولة فاعلة على المسرح الدولي، لكنها كانت تتفاجأ كلما رفضت أمريكا إشراكها في قضايا أخرى، فحتى الأزمة الأوكرانية شديدة الحساسية لروسيا فإن أمريكا ترى بأن تعاونها مع روسيا في سوريا لا يؤدي إلى الاعتراف بالمصالح الروسية في أوكرانيا، فسوريا مسألة وأوكرانيا مسألة أخرى...".

من الجميل أن يدرك الإنسان الحقائق ويوضحها للناس، ولا يعيب المرء أن يتراجع عن خطئه ويصوب رأيه، وفي المقابل من المعيب أن يتجاهل الإنسان الحقائق التي يجليها غيره أمامه ويسبقه إليها، ومن المعيب ألا ينسب الفضل لأهله.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. حسام الدين مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست